نواں درس:نماز کی اہمیت اور جنتیوں کے درجات کا فرق

نماز نیکی اور خوش بختی کی کنجی ہے

یٰا اَبٰاذَر : مٰا دُمْتَ فِی الصَّلوٰة فَاِنَّکَ تَقْرَعُ بٰابَ الْمِلَکِ الجَبّٰارِ وَ مَنْ یُکْثِرْ قَرْعَ بٰابَ الْمِلَکِ یُفْتَحْ لَہُ ۔

اے ابوذر ، جب تم نماز میں ہوتے ہو تو مالک جبار کے گھر کے دروازے پر دستک دے رہے ہوتے ہو اور جو بادشاہ کے دروازہ پر زیادہ دستک دیتا ہے اس کے لئے دروازہ کھل جاتاہے۔

نماز کی طرف انسان کو رغبت دلانے کے لئے پیغمبر ﷺکا یہ ایک اور بیان ہے۔ پیغمبر ﷺفرماتے ہیں کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے در واقع خدا کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ جس کو خدا سے کام ہے اسے چاہیے اللہ کے دروازے پر جائے ۔نماز بالکل اسی طرح ہے کہ کوئی خد اکے دروازے پر جائے اور ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی کسی گھر کے دروازے کو بہت زیادہ پیٹے اور اپنی حاجت پر اصرار کرے پھر بھی دروازہ اس کے لئے نہ کھلے اور وہ بھی اللہ کے گھر کا دروازہ۔
اگر چاہتے ہو کہ اللہ کے مورد الطاف قرار پاو ٴ اور تم پر اس کی رحمت اور اجابت کا دروازہ کھل جائے۔ زیادہ سے زیادہ اس کے دروازے کو پیٹو اور نماز پڑھتے رہو ہوسکتا ہے پہلی یا دوسری بار انسان کسی گناہ کی وجہ سے یا پھر اللہ کی کسی حکمت و مصلحت کی وجہ سے دروازہ نہ کھلے لیکن آخر کار کھل جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رحمت الہی کے دروازے ہمیشہ انسانوں پر کھلے ہیں۔ کیونکہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف سے تو اللہ تعالیٰ خود لوگوں کو دعوت کرے اور دوسری طرف سے رحمت کے دروازے ان پر بند کردے۔ رحمتِ پروردگار کے دروازے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں اور تکبر کرنے والوں پر بند ہیں ، وہ بھی خود انہوں نے اپنے کرتوتوں کے ذریعہ اپنے اوپر بند کرلئے ہیں۔

ان الذین کذبوا بایاتنا واستکبروا عنھا لا تفتح ولھم ابواب السماء ۔۔۔۔(سورہ اعراف آیت ۴۰)

جو ہماری آیات کو جھٹلائیں اور تکبر کے خاطر ہماری آیات کے سامنے اپنا سر خم نہ کریں توکبھی بھی آسمان کے دروازے ان پر نہیں کھلیں گے۔

بعض آیات اور روایات میں آیا ہے کہ آسمان کے لئے دروازہ ہے یا جیسا کہ اس روایت میں آیا ہے کہ جب تک انسان نماز میں ہے در واقع خدا کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ اصل میں معقول کو محسوس سے تشبیہہ دی گئی ہے تاکہ معنوی اور ماوراء طبیعت سے متعلق مسائل ہمارے لئے قابل درک اور قابل فہم ہوجائیں۔ واقعیت یہ ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان کسی قسم کی پردہ داری اور رکاوٹ نہیں یہ تو انسان کے برے اعمال ہیں جو انسان کی توجہ کو خدا سے ہٹا دیتے ہیں اور گناہ کی وجہ سے انسان اللہ کی بخشش سے محروم ہوجاتا ۔ خدا کی رحمت کے دروازے کوکھولنے کی چابی یا وہ چیز جو پردے کو ہٹاتی ہے خدا کی عبادت اور بندگی ہے اور نماز عبادت کی بہترین شان ہے۔
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے حضور نماز گزاروں کے لئے ان الطاف الہی کو بیان فرماتے ہیں جن سے وہ بہرہ مند ہوتا ہے:

یٰا اَبٰاذَر : مَا مِن مَوْمِن یَقُومُ مُصَلِّیاً اِلّٰا تَنٰاثَرَ عَلَیہِ مٰا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ العَرْشِ وَوُکَّلَ بِہِ مَلَک یُنٰادِی : یٰا ابْنَ آدَمَ لَوْ تَعْلَمُ مٰالَکَ فِی الصَّلوٰةِ وَمَنْ تُناجِی مٰا انْفَتَلْتَ

اے ابو ذر ، با ایمان شخص جب بھی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اللہ کی رحمت عرش تک اس پر احاطہ کرلیتی ہے ۔ ایک فرشتہ اس پر مقرر کردیا جاتا ہے جو اس سے پکار کر کہتا ہے ، اے آدم کی اولاد اگر جانتے ہوتے کہ تمہارے نصیب میں نماز سے کیا کچھ قرار پا یا ہے اور نماز کی حالت میں کس سے بات کررہے ہو تو ہرگز بھی اس سے روگردانی نہ کرتے۔
(تناثر کہتے ہیں درخت سے بہت زیادہ گرنے والے پتوں کو یا پھر ایسی چیز کہ جوزیادہ مقدار میں اوپر سے نیچے کی طرف گرتی ہے)

پیغمبر ﷺفرماتے ہیں کہ جو نماز پڑھتا ہے سر سے عرش تک رحمت الہی میں ڈوب جاتا ہے اور جو کوئی اس مقام کا خواہاں ہے اسے اپنی نما زکو طول دینا چاہیے۔ اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو حکم کرتا ہے کہ مسلسل نماز گزار کو پکارو کہ اے آدم کی اولاد اگر تم جانتے ہوتے کہ کس سے راز و نیاز کررہے ہو اور کس سے گفتگو کررہے ہو تو کبھی بھی نماز سے ہاتھ نہ اٹھاتے اور کبھی بھی نہ تھکتے ۔ خیال رہے کہ کس کے سامنے کھڑے ہو اور کس سے رابطہ قائم کررہے ہو تاکہ اس کی اہمیت کو جاننے سے اپنی نماز کو بھی اہمیت دے سکو۔
اگر جانتے ہوتے کہ نماز سے تمہیں کیا فائدے فضیلتیں اور ثواب پہنچتا ہے تو ہرگز نماز سے ہاتھ نہ کھینچتے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست