نواں درس:نماز کی اہمیت اور جنتیوں کے درجات کا فرق
حضور کا نماز سے شدید لگاو ٴ
حضور ﷺروایت کے ادامہ میں نماز کو شائستہ عمل کے طور پر معرفی کرتے ہیں یعنی فراغت کے وقت شخص کو چاہیے نماز کی طرف آئے۔
یٰا اَبٰاذَر : جَعَلَ اللّٰہُ تَنٰاوُہُ قرة عَیْنِی فِی الصَّلوٰةِ وَحَبَّبَ اِلٰیَّ الصَّلوٰةَ کَمٰا حَبَّبّ اِلٰی الجٰائِعِ الطَّعٰامَ وَاِلٰی الظَّمٰانِ الْمٰاءَ وَاِنَّ الجٰائَعَ اِذٰا اَکَلَ شَبِعَ وَاِنَّ الظَّمٰانِ اِذٰا شَرِبَ رَوِیَ وَاَنٰا لَا اَشْبَعْ مِنَ الصَّلوٰة ۔
اے ابوذر اللہ تعالیٰ نے نما زکو میری آنکھ کا نور قرار دیا ہے اور اس کو اس طرح میرا محبوب بنایا ہے جس طرح بھوکا کھانے کو اور پیاسا پانی کو چاہتا ہے۔ بھوکا جب کھانا کھاتاہے تو اسکی بھوک ختم ہوجاتی ہے ، پیاسہ جب پانی پیتا ہے تو اس کی پیاس بجھ جاتی ہے لیکن میرا دل نمازسے کبھی نہیں بھرتا ۔
اس شخص کے لئے جو پیغمبرﷺسے نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے اور جس نے آپ کو اپنے لئے نمونہ عمل انتخاب کیا ہے ۔ اس کے لئے بہتر ہے کہ پیغمبر ﷺکی راہ و روش کو دیکھے کیسی تھی۔ اسی لئے یہاں پر حضور ﷺاپنے آپ کو نمونہ عمل کے طور پر معرفی فرماتے ہیں اور یہی ان لوگوں کے لئے تربیت کی بہترین روش ہے جو پیغمبر ﷺکے عاشق ہیں اور چاہنے والے ہیں کہ حضور ﷺکے نقش قدم پر چلیں ۔ ایک روایت میں آیا ہے:
احب من دنیا کم الطبیب والنساء و قرة عینی فی الصلواة
تمہاری دنیامیں سے اچھی خوشبو اور عورتوں کو پسند کرتا ہو لیکن میری آنکھوں کا نور نماز ہے۔
حضورﷺ نے جو یہ فرمایا کہ (نماز میری آنکھوں کا نو رہے) بہترین تعبیر ہے جو ایک انسان اپنے محبوب کی نسبت اور اس کی نسبت جسے بہت چاہتا ہے استعمال کرتاہے اور کہتا ہے : فلاں میری آنکھوں کا نور ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو ان کی ماں کی آنکھوں کا نور معرفی کرتا ہے:
اے موسیٰ تمہاری ماں کو ہم نے وحی کی کہ اپنے بچے کو ایک صندوق میں رکھو اور دریا میں بہادو ، دریا کی موجیں بچے کو ساحل تک پہنچادیں گی یہاں تک کہ ہمارا اور بچے کا دشمن اس کو دریا سے اٹھالے گا اور میں نے اپنے لطف و کر م سے تم پر ایسی محبت ڈال دی کہ لوگ تمہیں چاہیں تاکہ تم میرے اور میری عنایت سے پروان چڑھو۔
یہاں تک کہ قرآن فرماتا ہے:
اذ تمشی ااحتک فقتول ھل ادلکم علی من یکفلہ فرجعناک الی امک کی تقر عینھا و لا تحزن ۔۔ (سورہ طحہ ، آیت ۴۰ ، ۳۸ )
جس وقت تم ماں سے دور ہوئے تو تمہاری بہن تمہاری تلاش میں چلی یہاں تک کہ تمہیں اس نے فرعونیوں کے پاس پایا۔ کہنے لگی ، تم لوگ چاہتے ہو کہ ایک ایسے کا پتہ تمہیں دوں جو اس بچے کو دودھ (پلائے) اور اس کی تربیت کرسکے۔ اور (اس طرح) ہم نے تمہیں تمہاری ماں کو پلٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں اور ان سے کہا کہ غمگین نہ ہوں۔
پیغمبر ﷺفرماتے ہیں کہ نماز میری آنکھوں کا نور ہے ۔ یہ بات چونکہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے لہذا ہم اس کو ایسے دلنشین بیان کے ساتھ اس کی وضاحت کریں گے تاکہ ہمارے لئے قابل فہم ہوجائے۔ کھانا پینا ہمارے لئے ضروری ہے اور اگر کچھ مدت کے لئے کھانا نہ کھائیں تو سخت بھوکے ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت ہمارے لئے سب سے مطلوب چیز کھانا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ہم سخت پیاسے ہوجاتے ہیں تو اس وقت پانی بہت اچھا لگنے لگتا ہے اور کوئی بھی چیز اس لمحہ ٹھنڈے پانی سے زیادہ اچھی نہیں لگتی ۔ حضور ﷺفرماتے ہیں : نماز سے مجھے محبت اسی طرح ہے جیسے بھوکے کو کھانے سے اور پیاسے کو پانی سے ہے ۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بھوکے آدمی کی بھوک کھانا کھانے کے بعد ختم ہوجاتی ہے، پیاسے انسان کی پیاس پانی پینے سے بجھ جاتی ہے لیکن میں نما زسے کبھی بھی سیر نہیں ہوتا۔
اس بیان سے نماز کی اہمیت ہمارے لئے واضح ہوجاتی ہے کہ جب انسان اپنے واجبات سے فارغ ہوجاتا ہے تو اسکے لئے مستحبات میں سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ نماز پڑھے ۔ حضور ﷺ اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی راہ و روش یہی تھی ۔ اس مطلب کی وضاحت کے لئے چند روایات بیان کرتے ہیں:
۱۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے ساتھ جب کوئی ناگوار بات پیش آتی تو نماز پڑھتے اور فرماتے :
واستعینوا بالصبر والصلوٰة (سورہ بقر آیت ۴۵)
خدا سے صبر و تحمل اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو ۔ (مستدرک الوسائل ، جلد ۲ ، صفحہ ۴۸۱)
۲۔ امام سجاد فرماتے ہیں :
و ما اصیب امیرالمومنین بمصیبةٍ الا صلی فی ذلک الیوم الف رکعة و تصدق علی ستین مسکیناً و صام ثلا ثة ایام (بحارالانوار ، جلد ۴۱ ، صفحہ ۱۲۳)
امیر المومنین کو جب بھی کوئی مصیبت پیش آتی تو حضرت اس روز ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے ، ساٹھ فقیروں کو صدقہ دیتے اور تین دن روزہ رکھتے تھے۔
۳۔ نماز کے انجام دینے کے سلسلے میں حضور ﷺکی دلچسپی اور ہمیشگی کے بارے میں بحارالانوار میں آیا ہے:
ولقد قام علیہ والہ السلام عشر سنین علی اطراف اصابعہ حتی تورمت قدماہ واصفر وجھہ ۔۔۔ (بحارالانوار ، جلد ۱۰ ، صفحہ ۴۰)
حضور دس سال کھڑے ہوکر نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺکے پیر سوج گئے اور آپ ﷺکا چہرہ زرد ہوگیا۔
یٰا اَبٰاذَر : اَیُّمٰا رَجُلٍ تَطَوَّعَ فِی یَومٍ وَ لَیْلَةٍ اثْنَتَی عَشَرَ رَکْعَةً سِوَی الْمَکْتُوبَةِ کٰانَ لَہُ حَقًا وٰاجِباً بَیْت فِی الجَنَّةِ
اے ابوذر جو بھی دن رات میں واجب نمازوں کے علاوہ بارہ رکعت نماز اضافی پڑھے تو جنت میں ایک گھر اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بن جائے۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |