نواں درس:نماز کی اہمیت اور جنتیوں کے درجات کا فرق
جنت کے مقامات سے استفادہ میں جنتیوں میں فرق
ان جملات میں حضور ﷺ نے جنت کے مقامات کا ذکر کیاہے۔ بہت سی آیات اور وایات میں واضح طور پر بیان ہو ا ہے کہ جس طرح جہنم کے طبقات ہیں جنت کے بھی درجات ہیں ۔ سب سے کمتر درجہ ان لوگوں سے مخصوص ہے جنہوں نے صرف واجبات پر عمل کیا ہے اور جنت کا بلند ترین درجہ ” مقام رضوان “ ہے جو کہ اللہ کے خاص اولیاء اور مخلصین سے مخصوص ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
” وعد اللہ ۔۔۔۔ ھو الفوز العظیم ۔“ (سورہ توبہ ۔آیت ۷۲)
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ کی جنت کہ جس کے درختوں کے نیچے سے نہریں جاری ہیں لے جائے گا اور جنت کے بہترین محلوں میں یعنی عدن میں ٹھہرائے گا اور نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت جو کہ مقام رضا اور اللہ کی خوشنودی ہے انہیں مرحمت فرمائے گا وہ واقعاً عظیم کامیابی ہے۔
جملہ ” رضوان من اللہ اکبر “ کے بارے میں مرحوم طباطبائی فرماتے ہیں : اللہ کی رضایت اور خوشنودی جنت کی تمام نعمتوں سے بالاتر ہے۔ اسی وجہ سے اصطلاح رضوان کو نکرہ لایا گیا ، جس کی کوئی حدوحدود ہی نہیں یا یہ کہ رضوان اور رضایتِ خداوند متعال اگر کم بھی ہو تو تمام نعمتوں سے عظیم ہے۔ یہ اس لحاظ سے نہیں کہ وہ نعمتیں خدا کی رضایت سے ناشی ہوتی ہیں۔ (اگرچہ حقیقت یہی ہے) بلکہ اس جہت سے ہے کہ خدا کی عبودیت اور بندگی کی حقیقت جس کی طرف قرآن دعوت کرتا ہے وہ خدا سے محبت کی رو سے ہے نہ جنت کی لالچ سے اور نہ جہنم کے خوف سے ۔ عاشق کے نزدیک سب سے بڑی سعادت اور کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب کی رضایت اور خوشنودی کو حاصل کرلے نہ یہ کہ اپنے آپ کو راضی کرنے کے لئے صرف کوشش کرے ۔ (المیزان ۔ جلد ۹ ، صفحہ ۳۵۴)
اللہ سے محبت اور عشق کی صورت میں اس کی بندگی، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے بہترین بندگی ہے جو کہ آزاد اور نیک بندوں کا طرہ امتیاز ہے۔ اس لحاظ سے یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ جنت کا بلند ترین مقام ” رضوان “ ہے جو کہ اللہ کی خالصانہ عبادت کرنے والوں یعنی آزاد اور نیک بندوں سے اختصاص رکھتا ہے۔
آخرت کے درجات اور مراتب کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
انظر کیف فضّلنا بعضھم علی بعضٍ للآخرة اکبر درجٰات واکبرتفصیلاً (سورہ اسراء ، آیت ۲۱)
دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت عطاء کی ۔آخرت کے درجات ، دنیا کے درجات سے کہیں زیادہ بلند ہیں ۔اس آیت میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کے درجات کا فرق ان کی کوشش اور تلاش و ہمت سے وابستہ ہے ۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔کہ جس کا عمل کم ہے وہ اس کی نسبت کہ جس کا عمل زیادہ ہے برابر اور یکساں ہو۔ اس کے علاوہ امکانات سے استفادہ میں آخرت کے درجات کا اختلاف دنیا کے درجات کے اختلاف سے قابل مقایسہ نہیں کیونکہ آخرت دنیا سے اس قدر وسیع ہے کہ ہمارے تصور سے باہر ہے۔
دنیا میں برتری کے اسباب ، دنیاوی مال و دولت اور جاہ و مقام سے استفادہ میں تفاوت کی بنیاد پر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ محدود ہیں۔ لیکن آخرت میں برتری کی دلیل اور درجات کا اختلاف انسانوں کے ایمان اور اخلاص سے بہرہ مند ہونے کی طرف پلٹتا ہے جو کہ انسانوں کے دل کی کیفیت سے متعلق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا دنیاوی تفاوت سے کوئی مقابلہ نہیں ۔ (المیزان۔ جلد ۱۳ ، صفحہ ۷۲)
جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے کہ حضور کا مقصد اس حصہ میں انسانوں کو اس مطلب کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ صرف واجبات کی انجام دہی اور محرمات سے پرہیز پر اکتفاء نہ کرے۔ البتہ جو جنت کے نچلے درجہ ہی پر راضی ہے وہ انہی پر اکتفاء کرسکتا ہے ۔ لیکن ایسے شخص کے لئے ایک دن ایسا آئے گا کہ جب وہ دیکھے گا کہ اس کے دوست اور احباب بلند تر مقام پر فائز ہیں تو اس روز سے اسے حسرت ہوگی کہ کاش میں بھی بلند مقام کو پالوں۔ اسکے لئے لازم ہے کہ آرام اور تفریح کو اپنی کم کرے اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں بسر کرے۔
کہتے ہیں کہ آرام ایک حد تک ضروری اور مطلوب ہے اور کبھی واجب ہوجاتا ہے اور بعض اوقات تو سونا مقدمہ ہے واجب کے انجام کے لئے مثال کے طور پر اگر آرام نہ کرے تو حالت ِنما زمیں سست رہے گا ، عبادت میں مزہ نہیں آئے گا یا اگر آرام نہ کرے تو درس کے وقت درس کو صحیح طرح نہیں سمجھ سکتا۔ مسئلہ اس میں پیش آتا ہے کہ جب وہ بحد و حساب آرام کرے ۔ایسا آرام اگرچہ جہنم کا باعث نہ بھی ہو لیکن دوسروں سے اسے پیچھے ضرور کردے گا۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |