نواں درس:نماز کی اہمیت اور جنتیوں کے درجات کا فرق
شب زندہ داروں اور عبادت گزاروں کا مقام
یٰا اَبٰا ذَرٍّ اِنَّ اللّٰہَ ، جَلَّ ثَنٰاوُ ہُ لِیُدْخِلُ قَوْماً اَلجَنَّةَ فَیُعْطِیہَم حَتّٰی یَمِلُوا وَ فَوْقَھُمْ قَوْم فِی الدَّرَجٰاتِ العُلیٰ، فَاِذٰا نَظَرُوا اِلَیہِم عَرَفُوھُم ، فَیَقُولُونَ: رَبَّنٰا اِخْوٰانُنٰا کُنّٰا مَعَھُم فِی الدُّنْیٰا فَبِمَ فَضَّلْتَہُم عَلَینٰا فَیُقٰالُ : ھَیْہٰاتَ ۔ ھَیْہٰاتَ ۔ اِنَّہُم کٰانُوا یَجُوعُونَ حِینَ تَشْبَعُونَ وَ یَظْمَئُونَ حِینَ تَرْوُونَ وَ یَقُومُونَ حِینَ تَنٰامُونَ وَ یَشْخَصُونَ حِینَ تَحْفُظُونَ۔
اے ابوذر : اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو جنت لے جائے گا اور ان کو اتنی نعمتیں عطاء کرے گا کہ وہ تھک جائیں گے ۔ لیکن جب اپنے سے بلند درجہ پر فائز کو دیکھیں گے تو انہیں پہچان لیں گے اور کہیں گے : اے اللہ یہ ہمارے ہی بھائی ہیں ہم دنیا میں ساتھ زندگی بسر کرتے تھے ، انہیں ہم پر برتری کیوں دی ؟ ان کے جواب میں کہا جائے گا: افسوس صد افسوس جس وقت تمہارے پیٹ بھرے ہوئے تھے تو وہ لوگ بھوکے رہتے تھے ۔ جب تمہاری پیاس بجھ چکی ہوتی تھی۔ تو وہ پیاسے ہوتے تھے (روزہ رکھتے تھے)اور جب تم سو رہے ہوتے تھے تو وہ قیام (نماز) کی حالت میں ہوتے تھے اور جب تم گھروں میں آرام کررہے ہوتے تھے تو وہ خدا کے خاطر گھروں سے باہر نکل پڑتے تھے ۔
ان جملات میں حضور ﷺقیامت میں اس شخص کا حال مجسم کررہے ہیں جو واجبات کی انجام دہی اور محرمات سے پرہیز کی وجہ سے جنت پہنچ گیا ہے اور اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں کہ جہنم اور اس کے پست مقامات کے بارے میں بات کی جائے۔ کیونکہ وہ تو جہنم کے خطرے سے نجات پاگیا ہے اور جنتی ہوچکا ہے۔ لیکن ایسا جنتی جنکی ہمت کم تھی اور انہوں نے جنت کے نچلے درجہ پر ہی اکتفاء کیا اور ہمت نہیں کی کہ بلند تر درجہ تک پہنچ سکیں ۔ اسی لئے ان کاموں کے لئے بیان کیا جارہا ہے کہ اگرچہ تم اپنے واجبات کی انجام دہی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگئے ہو لیکن ایسے بھی ہیں کہ جو جنت میں تم سے زیادہ بلند مقام پر فائز ہیں اور تم کوشش کرو کہ ان کے مقام تک پہنچ سکو۔
اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا اور انہیں بے حساب و کتاب نعمتوں سے نوازے گا ، وہ اس طرح کہ ایک عرصہ تک نعمتوں سے استفادہ میں مصروف رہیں گے اور ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔ حضور ﷺکی مراد یہ ہے کہ اس قدر نعمتیں ان کے اختیار میں دی جائیں گی کہ تھک جائیں گے۔ ویسے یہ عامیانہ تعبیر ہوجائے گی کیونکہ جنت میں تھکن معنی نہیں رکھتی جیساکہ خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے :
” و یمسسنا فیھا نصب ولا یمسسنا فیھا لغوب “ (سورہ فاطر ، آیت ۳۵)
جنت میں ہمیں کوئی غم و اندوہ نہ ہوگا اور کبھی کمزوری اور تھکن نہ ہوگی۔
(حضور ﷺکے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس قدر وہ چاہیں انہیں نعمت عطاء کی جائے گی)
یہ جنتی اچانک دیکھیں گے کہ ان کے دوست بلند تر مقامات پر پہنچے ہوئے ہیں اس پر تعجب کریں گے اور کہیں گے :
اے پروردگار یہ ہمارے دوست تھے۔ ہم دنیامیں ساتھ تھے ، ایک ہی صف میں نماز پڑھتے تھے ، ایک ہی مورچہ میں جنگ کی ، کیا وجہ ہے کہ تو نے انہیں ہم پر برتری عطاء کی اور انہیں بلند تر مقام عطاء کئے ۔
جواب ملے گا:
تم میں اور ان میں بہت فرق ہے۔ جب تمہارا پیٹ بھرا ہوتا تھا تو وہ بھوکے رہتے تھے ۔جب تمہاری پیاس بجھی ہوئی تھی تو وہ پیاسے ہوتے تھے اور مستحبی روزے رکھتے تھے ۔ جس وقت تمام حلال کھانوں اور نعمتوں سے استفادہ میں مشغول تھے وہ روزے رکھتے تھے۔ اگرچہ تم نے کوئی گناہ انجام نہیں دیا لیکن وہ گرمی کے موسم میں بھی اپنے پیٹ کو کھانے پینے سے دور رکھتے تھے۔تم صرف اپنے واجب اعمال اور وظائف پر اکتفاء کیاکرتے تھے اور اسکے بعد آرام کرتے تھے لیکن وہ آرام کرنے کے بجائے اللہ سے راز و نیاز اور عبادات میں مشغول ہوجاتے تھے ۔ قرآن ان لوگوں کا ذکر کچھ اس طرح فرماتا ہے:
کانوا قلیلاً من اللیل ما یھجعون و بالاسحار ھم یستغفرون (سورہ زاریات)
ترجمہ : رات میں تھوڑا سا سوتے ہیں اور سحر کے وقت اللہ کی بارگاہ میں آمرزش اور مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |