نواں درس:نماز کی اہمیت اور جنتیوں کے درجات کا فرق

حضور ﷺکی بعض نصیحتوں کی تقسیم بندی

اب تک حضورﷺ کی جتنی نصیحتیں زیر بحث آئیں چار حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہیں:

پہلا حصہ :

اس میں انسان کو بیدار کرنے اور اس سے غفلت و لاپرواہی کو دور کرنا مقصود تھا۔ کیونکہ انسان اپنی حیوانی سرشت کی وجہ سے دنیاوی کاموں مثال کے طور پر خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے اسی وجہ سے مبداء و میعاد کو بھول جاتا ہے۔
اگرچہ بعض شروع ہی سے اپنے ہدف اپنی خلقت کے مقصد سے آگاہ ہیں لیکن عام طور پر لوگ اپنی خلقت کے مقصد سے غافل ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ کس لئے خلق کے گئے ہیں ، کہاں جارہے ہیں اور انہیں کیا کرنا چاہے ۔ اس لحاظ سے انہیں بیدار کرنا چاہیے اور ان میں احساس ذمہ داری کو ابھارنا چاہیے ۔ حضورﷺ کی پہلے حصے کی نصیحتیں انسان سے غفلت کو دور کرنے ، ااور اسے اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے تھیں اور وہ بھی اس طرف توجہ دلانا تھی کہ کتنا گران قدر سرمایہ اس کے اختیار میں ہے اسے چاہیے کہ اس سے استفادہ کرے۔

دوسرا حصہ :

ہدف سے آگاہی اور ایک ایسی راہ کے انتخاب کی ضرورت جو اسے مقصد کی طرف ہدایت کرسکے ۔ حصول علم اور آگاہی کے لازمی حصول کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ اسی وجہ سے دوسرے حصے میں حصول علم اور علماء دین کے وظائف کی طرف اشارہ کیا گیا اور یہ بات بھی پیش آئی کہ علوم میں سب سے زیادہ ضروری وہ ہے علم جو خلقت کے مقصد اور اس تک پہنچنے کے راستہ کی پہچان کراسکتا ہو اور وہ معارف الہی ہے۔

تیسرا حصہ :

اس حصہ میں علم ، وظائف اور احکامات پر عمل کی ضرورت بیان کی گئی اور یہ بتایا کیا گیا کہ عمل دو لحاظ سے تحقق ہوتا ہے۔
ایک تو مثبت کاموں کے ذریعہ یعنی ان موارد میں جن میں کام کا انجام پانا ضروری ہے۔
دوسرے منفی یعنی ان کاموں کے ذریعے جنہیں انجام نہیں دینا چاہیے (جیسے محرمات) ، جن سے دوری اختیار کی جائے۔اس حصہ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ گناہ کی اہمیت کا احساس دلایا جائے اور اس میں پڑنے سے روکا جائے۔ ان تین حصوں کے بعد پیغمبر ﷺکی نصیحتوں کا چوتھا حصہ پیش کیا جاتا ہے۔

چوتھا حصہ :

انسان کو صرف واجبات کی انجام دہی اور گناہوں کے ترک پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے علاوہ اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔
اگرچہ اس مرحلہ تک پہنچنا یعنی انجام واجبات اور ترک گناہ بہت اہم ہے لیکن یہ خود ہدف تک پہنچنے کا پہلا قدم ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ گناہوں سے دوری اختیار کئے بغیر اور واجبات کے انجام کے بغیر بعد کے مرحلہ میں انسان نہیں پہنچ سکتا ، یعنی پہلے قدم کے اٹھائے بغیر بعد کے قدم کو نہیں اٹھا سکتا ۔ اس مرحلہ کو اگر بقیہ مراحل سے مقایسہ کیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ ابھی صرف تھوڑا سا راستہ طے ہوا ہے ابھی تو انسان کے سامنے ایک طولانی سفر درپیش ہے۔ لہذا انسان کو زیادہ سے زیادہ کام و کوشش کی طرف شوق دلانا چاہیے اور اس چیز کو ابھارنا چاہیے کہ صرف واجبات کے انجام اور گناہوں کے ترک اور محرمات سے پرہیز پر اکتفاء نہ کرے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست