آٹھواں درس:- قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیئے اور زبان کی حفاظت کرنی چاہیئے۔
زبان کی حفاظت اور بیہودہ کاموں سے پرہیز
یَا أَبٰاذَرٍّ: دَعْ مٰا لَسْتَ مِنْہُ فیٖ شَیءٍ وَ لاَتَنْطِقْ فٖیمٰا لاٰیَغْیٖکَ وَاخْزَنْ لِسٰانَکَ کَمَا تَخْزَنُ وَرِقَکَ۔
اے ابوذر جس میں تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو اسے چھوڑ دو اور جو گفتگو تمہارے فائدہ میں نہ ہو اس پر زبان مت کھولو اور اپنی زبان کی اس طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے پیسے کی حفاظت کرتے ہو۔
حدیث کے اس حصہ میں جو مطلب بیان ہوا ہے گذشتہ بیانات کو مکمل کرتا ہے جس میں انسان کو گناہ سے روکا گیا ہے۔ جو کوئی چاہتاہے گناہ سے دوری اختیار کرے اسے چاہیئے اپنے لئے حد قرار دے۔ جیساکہ کہا گیا ہے:
جو کھائی کے کنارے چل رہا ہے اسے ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں اس میں گر نہ جائے۔ جو شخص چاہتا ہے گناہ سے دور رہے تو اسے چاہیئے کہ گناہ کے مقدمات سے دوری اختیار کرے اور بعض مباح کاموں کو ترک کرے تاکہ گناہ میں پڑنے سے بچ سکے۔ مثال کے طور پر اگر چاہتا ہے حرام نظروں سے بچے اور نامحرم پر نظر نہ جائے تو اسے چاہیئے کہ اپنے بعض محارم پر نگاہ نہ کرے۔ اسی طرح اگر چاہتا ہے حرام موسیقی نہ سنے تو اسے چاہیئے بعض جائز موسیقی سے اجتناب کرے۔ اسی طرح اگر چاہتا ہے جھوٹ اور غیبت جیسے بڑے گناہ سے بچا رہے تو اسے چاہیئے کہ جن گفتگو میں ان دو کے ہونے کا احتمال ہو دوری اختیار کرے۔ اگرچہ یہ بہت مشکل ہے کہ تمام ان مباحات سے کہ جن کا امکان ہے انسان کو گناہ کی طرف لے جائیں ان سب سے اجتناب کریں، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے جو ابھی سفر کے ابتدائی مرحلہ میں ہیں لیکن وہ لوگ جو نفس کو تکامل کے مقام تک پہنچانا چاہتے ہیں انہیں ہر حال میں اس مشکل امر کو طے کرنا ہوگا۔
پیغمبر ابوذر کو نصیحت کرتے ہیں کہ بیہودہ اور بیکار کاموں سے دوری اختیار کرو کیونکہ قرآن نجات و کامیابی کو لغو اور بیہودہ کاموں سے دوری اختیار کرنے میں سمجھتا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، الَّذِینَ ہُمْ فِی صَلاَتِہِمْ خَاشِعُونَ، وَالَّذِینَ ہُمْ عَنْ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (سورہ مومنون ۱،۳)
ایمان والے نجات پاگئے، وہ لوگ کہ جونماز میں خاشع ہیں اور جو لغو اور بیہودگی سے دور رہتے ہیں۔
جو کامیابی اور نجات کا خواہاں ہے اسے چاہیئے ایسے کاموں سے کہ جو اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہیں دوری اختیار کرے۔ جو باتیں کسی مقصد کی نہیں ہیں نہ کرے اگرچہ جایز ہی کیوں نہ ہوں بلکہ اپنی قوت کو بامقصد اور ثمر بخش کاموں میں صرف کرے۔
انسان کو اپنی زبان کے مسئلہ میں محتاط ہونا چاہیئے۔ اسے کوشش کرنی چاہیئے کہ تھوڑا جایز باتوں سے بھی پرہیز کرے۔ کیونکہ کبھی زبان سے ایک ایسی بات نکل جاتی ہے جس کے دنیا اور آخرت میں بڑے بڑے نتائج سامنے آتے ہیں۔روایات میں بڑے تاکید کی گئی ہے کہ اپنی زبان کو روک کر رکھو جس بات کا بولنا ضروری نہیں یا تم سے مربوط نہیں مت بولو۔ یہ تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی زبان پر کنٹرول نہیں کرپاتا اور اس طرح جھوٹ، غیبت اور دوسروں کا مذاق اڑانے توہین کرنے اور دوسری دیگر آفات میں مبتلاء ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض بزرگ حضرات کی کوشش ہوتی تھی کہ حتی المقدور خاموشی اختیار کریں۔
حضور فرماتے ہیں: جس طرح پیسے اور سونے کی حافظ کے لئے کوششیں کرتے ہو۔ اپنی زبان کی حفاظت کے لئے بھی کوشش کرو۔ کس طرح اپنے پیسے اور سونے کو تالے میں بند کر کے محفوظ جگہ پہ رکھتے ہو اپنی زبان کو بھی کہ جس کی اہمیت پیسے سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح حفاظت کرو۔ خدا نے تمہاری زبان قید و حفاظت میں رکھی ہے۔ اس کے دانت اور اس کے سامنے ہونٹ قرار دیئے ہیں تاکہ تم اپنی زبان کو اس میں محدود رکھو۔ لہذا کوشش کرو اس کو آزاد نہ چھوڑو یہاں تک کہ مباح اور جائز باتوں سے بھی جتنا ہوسکے پرہیز کرو کیونکہ بیکار کا بولنا اپنی قوت کو بیکار کام میں خرچ کرنے کے مترادف ہے۔ اور اگر مباح باتوں سے حتی الامکان پرہیز نہ کیا گیا تو دھیرے دھیرے مشتبہ اور مکروہ اور آخر کار حرام اور گناہ کبیرہ میں پڑجانے کا خطرہ ہے۔ آخر دوسروں کے بارے میں کچھ بولنے اور غیبت میں کتنا فاصلہ ہے؟ جایز حرف کے بولنے اور غیبت کے درمیان کہ جو گناہ کبیرہ ہے خانہ کعبہ میں اپنے محارم کے ساتھ ۷۰ بار زنا کرنے سے بھی بدتر ہے۔یعنی ان دو کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں۔ اور ہم آہستہ آہستہ اس فاصلہ کو ختم کرتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر اس گناہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |