آٹھواں درس:- قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیئے اور زبان کی حفاظت کرنی چاہیئے۔

رزق کے محرومیت میں گناہ کا عمل دخل

حضور بیان کو جاری رکھتے ہوئے رزق سے محرومیت میں گناہ کے اثر کے بارے میں فرماتے ہیں:

یٰا أَبَاذَرٍّ: إِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ رِزْقَہُ بالذَّنْبِ یُصیٖبُہُ۔

ترجمہ: اے ابوذر بیشک انسان جو گناہ انجام دیتا ہے اس کی وجہ سے مقدر شدہ رزق سے محروم ہوجاتا ہے۔

گناہ کی وجہ سے انسان اس دنیا میں جن برے اثرات کا متحمل ہوتا ہے اور گناہ کی وجہ سے جو محرومتیں وجود میں آتی ہیں ان کی طرف توجہ دلانے کے لئے آپ کا ایک اور بیان ہے۔
روایتوں اور نصیحتوں میں ہر کسی کے ساتھ اس کی معرفت اور شناخت کے حساب سے بات کہی جاتی ہے۔
اگر کوئی مقام عشق تک پہنچ چکا ہے تو اس سے کہا جائے گا تم کیسے عاشق ہو کہ اپنے معشوق کی نافرمانی کرتے ہو۔ عاشق تو ہمیشہ اس جستجو میں ہوتا کہ کسی طرح اسے یہ پتہ چل جائے کہ اس کا معشوق اس سے کیا چاہتا ہے تاکہ اس کے لئے انجام دے، اور اسے کیا چیز بری لگتی کہ اسے انجام نہ دے اور ترک کردے۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ معشوق عاشق سے واضح الفاظ میں کہہ دے کہ فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو اس کے بعد عاشق مخالفت کرے یعنی نافرمانی کرے۔ جو لوگ الله اور اس کے اولیاؤں کی محبت سے بہرہ مند ہیں انہیں گناہ سے روکنے کا یہ بہترین راستہ ہے۔
جو لوگ اہلبیت کے ماننے والے ہیں انہیں اس مطلب کی طرف توجہ دینی چاہیئے کہ گناہ اہل بیت کے نزدیک ناپسند چیز ہے۔ سب سے برا عمل آئمہ کے نزدیک گناہ ہے۔ گناہ ایک بدبودار مردار کے مانند ہے جو لوگ بصیرت رکھتے ہیں اور ان کی حس باطنی مضبوط ہے اس کی گندی بدبو کو دور ہی سے محسوس کرلیتے ہیں۔اب جو اہل بیت کا ماننے والا ہے اور چاہتا ہے ان کا تقرب حاصل کرے تو کیسے اپنے آپ کو اس چیز سے آلودہ کرسکتا ہے جس سے وہ نفرت کرتے ہوں۔
جب کوئی اپنے دوست سے ملنے جا رہا ہوتا ہے تو پہلے نہاتا ہے مسواک کرتا ہے اپنی آپ کو صاف ستھرا کرنے کے بعد خوشبو سے معطر کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا دوست اس کو گندے حال میں دیکھ کر اس سے دل برداشتہ ہوجائے۔ گناہ ہمارے وجود کے بدبودار اور گندہ ہونے کا باعث بنتا ہے۔ اگر ہم اہلبیت کو چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمارا تعلق قائم رہے تو ہمیں چاہیئے کہ اپنی روح کو غلاظتوں سے پاک کریں تاکہ آئمہ ہم سےتعلق بڑھانے میں رغبت پیدا کریں۔ تو خدا اور اہلبیت سے محبت رکھنے والوں کے لئے برائی اور گناہ سے بچانے کا یہ بہترین راستہ ہے کہ ان کے اندر اس محبت کے احساس کو ابھارا جائے۔
یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ واجبات کو انجام دیتے ہیں اور محرمات سے پرہیز کرتے ہیں۔ خدا کی محبت سے بہرہ مند ہیں لیکن ان کی شناخت اور معرفت کی بناء پر ان کی محبت مختلف درجے کی ہے بعض میں یہ محبت شدید ہے اور بعض میں درمیانی درجہ کی ہے اوربعض میں کم ہے۔ کبھی کسی میں محبت اس درجہ کو پہنچ جاتی ہے کہ معشوق سے ملاقات کی راہ میں تمام چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جنت کو بھی اور اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ کہتا ہے۔

’فَہَبْنِی یٰا اِلٰہِی وَ سَیَّدِی وَ مَوْلاٰیَ وَ رَبِّی صَبَرتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکیْفَ اَصْبِرُ عَلٰی فِرٰاقِکَ۔

اے میرے خدا اگر جہنم کی آگ پر صبر کر بھی لوں لیکن تیری جدائی پر کیسے صبر کروں۔

بارہ مناجات جو کہ مفاتیح میں مناجات محبان کے نام سے موسوم ہیں اس کی نویں مناجات میں ہم پڑھتے ہیں۔

’إِلٰہِی مَنْ ذَا الَّذِی ذٰاقَ حَلاٰوَةَ مَحَبَّتِکَ فَرٰامَ مِنْکَ بَدَلاً‘

اے میرے الله کون ایسا ہے جس نے تیری محبت کی مٹھاس کا مزہ چکا ہو پھر بھی غیر کو اپنا لے۔

اگر کوئی محبت کی اس حدتک نہیں پہنچا کہ جہاں خدا اور آئمہ کا عشق اسے گناہ سے روک سکے تو اسے گناہ کے عواقب اور نتائج سے ڈرانا چاہیئے۔
مختلف عذاب، سعادت مندی اور جنت سے محرومیت اور گناہ کے دنیوی اور اخروی برے آثار کو ان کے سامنے بیان کرنا چاہیئے۔ وہ چیز جو انسان کو کسی کام کے لئے آمادہ کرتی ہے یا پھر کسی کام سے روکتی ہے ’خوف اور رجا‘ ہے یعنی یہ امید رکھتا ہے کہ کوئی فائدہ پہنچے گا یا پھر کسی نقصان سے بچ جائے گا۔ لہذا انسان کے ہدایت کے لئے بہترین راستہ اس کو دنیا اور آخرت میں گناہ کے برے اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ اب اگر کسی کا آخرت پر ایمان کمزور ہو تو اس کو گناہ سے روکنے کا بہترین طریقہ دنیا میں گناہ کے برے اثرات کا ذکرہے۔ وہی طریقہ جس کو پیغمبر نے روایت کے اس حصہ میں اپنایا ہے۔ کیونکہ بعض لوگ آخرت کو بعید یعنی بہت دور سمجھتے ہیں جبکہ اسلامی نکتہ نظر سے آخرت بہت نزدیک ہے۔ جیساکہ الله تعالی قرآن میں فرماتا ہے۔

إِنَّہُمْ یَرَوْنَہُ بَعِیدًا، وَنَرَاہُ قَرِیبًا (سورہ معارج آیت ۶،۷)

وہ لوگ (کافر) اس دن (روز آخرت) کو دور سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔

گناہ کے دنیاوی نقصانات میں سے ایک نقصان روزی سے محرومی کا ہے۔ روزی کے مصادیق میں رزق، کھانا اور لباس ہے۔
بہت سی روایتوں میں یہ مطلب ذکر ہوا ہے کہ الله تعالی نے ہر جاندار کے لئے رزق مقدر اور معین فرمایا ہے۔ اب یہ تقدیر کبھی اٹل ہے اور معلق ہے یعنی بعض اعمال کی وجہ سے کم اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ بعض اچھے اعمال روزی کے زیادہ ہونے کا سبب بنتے ہیں اور بعض برے اعمال روزی کے کم ہونے کا باعث بنتے ہیں۔
اگر ہم یہ جان لیں کہ جو رزق ہمارے لئے مقدر کیا گیا ہے اسے ہم کبھی تک و دو کے بعد حاصل کرتے ہیں اور کبھی الله تعالی بغیر کسی کوشش کے ہمیں عطا کر دیتا ہے یہ گناہ کی وجہ سے ہم سے چھن جاتا ہے تو ہم کم ہی گناہ کی طرف جائیں گے۔

گناہ علتوں کی زنجیر میں

گناہ قوانین کو بدل دیتا ہے اور ظاہری اسباب کو بے اثر کردیتا ہے۔ قرآن ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ دوسرے اسباب بھی ہیں جن کا اپنی علتوں کے ساتھ تعلق ایسا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (سورہ شوری آیت ۳۰)

جو کچھ مصیبتیں تمہیں پہنچتی ہیں تمہارے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔

حقیقت یہ ہیں کہ جس عالم میں علت اور معلول کا نظام حاکم ہے۔ جہاں کسی بھی موجود کو بغیر علت کے مان سکتے اور دوسری جانب سے الله تعالی کو جو کہ خیر ہی خیر ہے مصیبتوں کو اس سے نسبت نہیں دے سکتے۔ تو یہ خود انسان ہے جو مصیبتوں کو اپنے اوپر لادتا ہے۔
ایک اور مقام پر الله تعالی فرماتا ہے:

لاَتَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا قَدْ یَعْلَمُ اللهُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنْکُمْ لِوَاذًا فَلْیَحْذَرْ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَنْ تُصِیبَہُمْ فِتْنَةٌ أَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ (سورہ اعراف آیت ۶۳)

جو لوگ خدا کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ کہیں کسی بڑی مشکل یا پھر سخت عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں۔

پس آیات قرآنی اس حقیقت کی بیان گر ہیں کہ زیادہ تر مصیبتیں اور محرومیاں گناہ سے وجود میں آتی ہیں، جس طرح نیک اعمال اور پرہیزگاری برکتوں اور نعمتوں کے نزول کا سبب بنتے ہیں۔
اس سلسلے میں قرآن فرماتا ہے:

”وَ لَوْ أَنَّ أَہْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنٰا عَلَیْہِمْ بَرَکٰاتٍ مِنَ السَّمٰاءِ وَ الْأَرْضِ۔ (سورہ اعراف، آیت ۹۶)

اگر شہر کے لوگ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم آسمان اور زمین کی برکتوں کے دورازے ان پر کھول دیتے۔

کچھ موارد میں گناہ کے تعلق کو مصیبت کے ساتھ جو کہ خود اس گناہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے تھوڑا بہت محسوس کیاجاسکتا ہے مثال کے طور پر بعض گناہ کبھی بعض بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن گناہ اور مصیبت یہ تعلق گناہ کے تمام موارد میں محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی گناہ کی وجہ سے کچھ ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو انسان کے لئے قابل درک نہیں ہوتے بالکل اس مثال کی طرح ہے کہ ایک کھانا تیار کیا گیا اب جب کھانے کا وقت آئے تو اچانک اس میں کوئی گندی چیز گر جائے اور اسے خراب کردے اور اس طرح انسان اس سے محروم ہوجائے۔ اب اس روزی کے مسئلہ کو کھانے کی دوسری چیزوں میں سرایت دیں کیونکہ تمام نعمتیں رزق ہیں جیسے گھر، گاڑی اور تمام وہ چیزیں جن سے انسان استفادہ کرتا ہے رزق ہیں۔ ان سے محرومیت اکثر مواقع پر گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اب اس رزق و روزی کے مسئلہ کو معنوی رزق میں بھی سرایت دے دیں۔ کیونکہ جو بھی چیز ہماری روح کے تکامل کا باعث ہے وہ بھی رزق ہے۔ علم و ایمان بھی رزق ہیں، توفیق عبادت بھی رزق ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گناہ کا ارتکاب سبب بن جاتا ہے کہ انسان عبادت سے محروم ہوجائے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ ہوسکتا ہے انسان کسی گناہ کی وجہ سے نماز شب نہ پڑھ سکے۔ اپنی جانب سے کوشش کرتا ہے اور اپنے آپ کو تیار بھی کرتا ہے ہے کہ نماز شب کے وقت بیدار ہوجائے اور اٹھ بھی جاتا ہے لیکن سستی اور کاہلی آڑے آجاتی ہے یا پھر سرے سے اٹھتا ہی نہیں ہے تو اس سے پتہ یہ چلا کہ توفیق عبادت کا سلب ہوجانا بھی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ان تمام باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گناہ کے برے نتائج کی طرف توجہ ان عوامل میں سے ہے کہ جو انسان کو گناہ سے روک سکتے ہیں۔ اس معنی میں کہ انسان متوجہ رہے کہ اس کا گناہ اس کی اقتصادی کوششوں کو بے اثر کردیتا ہے اور اس کو اس کی روزی سے محروم کردیتا ہے۔
محرومیوں اور مصیبتوں کا گناہ سے تعلق اس قدر ہے کہ جب ہمارے بعض بزرگوں کو کوئی مصیبت پیش آتی تھی تو وہ سوچتے تھے کہ ہم سے کون سی غلطی سرزد ہوگئی ہے کہ جو اس مصیبت میں مبتلاء ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں اخلاق کے ایک استاد ایک روز جب گلی سے گزر رہے تھے تو ایک جانور نے انہیں لات ماری وہ وہیں بیٹھ گئے اور سوچنے لگے کہ میں نے کون سا ایسا کام کیا ہے جو اس جانور کی جانب سے اذیت کا مستحق قرار پایا ہوں۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست