آٹھواں درس:- قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیئے اور زبان کی حفاظت کرنی چاہیئے۔
قول و فعل میں مطابقت اورعدم مطابقت کا نتیجہ
یَا أَبَاذَرٍّ: مَنْ وٰافَقَ قَوْلُہُ فِعْلَہُ فَذٰلِکَ الَّذِی أَصٰابَ حَظَّہُ وَ مَنْ خٰالَفَ قَوْلُہُ فِعْلَہُ فَإِنَّمَا یُوَبِّخُ نَفْسَہ۔
اے ابوذر جس کا بھی کردار اس کے گفتار کے مطابق ہو تو اس نے اپنے حصہ کی سعادت حاصل کر لی اور جس کا کردار اس کے گفتار کے مخالف ہو تو جب اسے اس کا صلہ ملے گا تو اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔
اکثر لوگ گفتار میں تو بڑے اچھے اچھے کاموں کا ذکر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کاموں کو ضرور انجام پانا چاہیئے۔ وہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور ان کا انسان کی شخصیت پر بڑا اثر پڑتا ہے لیکن عملی میدان میں ان کا کردار ان کی گفتار کے مخالف نظر آتا ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنگی تمام باتیں ان کے عمل کے مطابق ہیں۔
اگر قول و فعل کی مطابقت کو ایمان کے درجات سے منسلک سمجھیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جس قدر کسی کا ایمان کامل ہونا ہے اتنا ہی وہ سچا ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کی قول و فعل میں موافقت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ حقیقت میں اس کا کردار اس کے قول کی تصدیق کرنے والا ہے۔
لَیْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَی الزَّکَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِینَ الْبَأْسِ أُوْلَئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَأُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُتَّقُونَ (سورہ بقرہ آیت ۱۷۷)
اس آیت شریفہ کی تفسیر میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: سچائی ایک ایسی صفت ہے جو علم و علم میں موجود تمام خوبیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس لئے کہ سچ بولنا ایک ایسی عادت ہے جو تمام اخلاقی خوبیوں مثال کے طور عفت، شجاعت، حکمت اور عدالت کا مجموعہ ہے کیونکہ انسان کو اس کے عقیدہ اور قول و فعل سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انسان کے سچے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عقیدہ اس کا قول اور اس کا عمل ایک دوسرے کے مطابق ہو۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان جس چیز پر ایمان رکھتا ہے اور جو کہتا ہے اسی پر عمل کرتا ہے۔ حق کو ماننا اور اس کے مقابلے میں خضوع انسان کی فطرت شامل ہے ۔ ہوسکتا ہے اظہار کچھ اور کرے۔ اب اگر حق کا اقرار کرتا ہے اوراس اقرار میں سچا ہے تو جس چیز پر ایمان رکھتا ہے وہی کہتا ہے اور جو کہتا ہے وہی کرتا ہے۔ اس صورت میں اس کا ایمان خالص ہے اورا س کا اخلاق اور نیک عمل کمال کے درجہ پر پہنچا ہوا ہے۔ (تفسیرالمیزان جلد ۱ صفحہ ۴)
علامہ طباطبائی فرماتے تھے کہ یہ جو الله تعالی بعض کی صدیق کہتا ہے جو کہ مبالغہ کا صیغہ ہے یہ اس لحاظ سے ہے کہ صدیقین (یعنی سچوں) کا کردار ان کے قول کی تصدیق کرنے والا ہے۔ وہ جس کا قول اس کے ایمان کے مطابق ہے وہ بھی صادق ہے لیکن صدیق کا مرتبہ اس سے بلند ہے اور صدیق اسے کہا جاتا ہے جس کا نہ صرف قول اس کے عقیدہ کے مطابق ہو بلکہ تمام موقعوں پر عمل کے بھی موافق ہو۔
حضور فرماتے ہیں جس کا قول و فعل ایک ہو سمجھو سعادتمند ہوگیا۔ ایسا شخص اگر کوشش کرے کہ ہمیشہ اس کا قول اور فعل اور اس کا عقیدہ ایک دوسرے کے مطابق رہیں تو وہ صدیقین کے درجہ پر فائز ہوجائے گا اس کے برخلاف وہ شخص جو کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے، منافق اور چھوٹا ہے۔ جیساکہ قرآن کریم منافق کو جو کہ زبان سے تو حضور کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں لیکن دل سے اس کے معتقد نہیں ہیں جھوٹا قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے:
إِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْہَدُ إِنَّکَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ یَعْلَمُ إِنَّکَ لَرَسُولُہُ وَاللهُ یَشْہَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَکَاذِبُونَ (سورہ منافقون آیت ۱)
اے رسول جب منافقین تمہارے پاس آئیں اور کہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ الله کے رسول ہیں تو دھوکہ مت کھانا خدا جانتا ہے کہ تم الله کے رسول ہو اور وہ (الله) گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔
منافقین کا کہنا جھوٹ ہے اس کی دلیل میں قرآن ایک اور آیت میں فرماتا ہے:
وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ نَافَقُوا وَقِیلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ أَوْ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لاَتَّبَعْنَاکُمْ ہُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْہُمْ لِلْإِیمَانِ یَقُولُونَ بِأَفْواہِہِمْ مَا لَیْسَ فِی قُلُوبِہِمْ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُونَ (سورہ آل عمران آیت ۱۶۷)
زبان سے جس چیز کا اظہار کرتے ہیں دلوں میں اس کے خلاف رکھتے ہیں۔ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے زیادہ جاننے والا ہے۔
پیغمبر فرماتے ہیں کہ کوئی اگر کچھ کہتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اسے چاہیئے کہ اپنے آپ کو ملامت کرے اس لئے کہ اس کی باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس نے حق اور اپنی ذمہ داری کو پہچان لیا ہے۔ جس کی وجہ سے اس پر حجت تمام ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے ایسا شخص جو ک حق کو پہچان چکا ہے یہاں تک کہ دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کرتا ہے لیکن خود عمل نہیں کرتا تو اس صورت میں اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنا چاہیئے۔
پیغمبر کی یہ بات سب سے زیادہ واعظوں اور خطیبوں سے متعلق ہے کہ انہیں اپنی بات کا پابند ہونا چاہیئے اور ان کا عمل ان کے عقیدہ اور گفتگو کے مطابق ہونا چاہیئے۔
الله تعالی قرآن میں ایسے افراد کی مذمت کرتا ہے ارشاد خداوندی ہے:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَتَعْقِلُونَ (سورہ بقرہ آیت ۴۴)
تم لوگ عام لوگوں کو تو نیک کام کرنے کا حکم کرتے ہو اور خود بھول گئے ہو جبکہ الله کی کتاب (قرآن) کو پڑھتے ہو۔ کیوں سوچ بچار سے کام نہیں لیتے۔
یہاں پر بھولنے کے معنی بھول جانے اور ذہن سے نکل جانے کے نہیں بلکہ اس معنی میں ہے کہ اپنے کہے پر عمل نہیں کرتے کیونکہ ممکن ہے اس کو اپنی بات تو یاد ہو لیکن اس پر عمل نہ کرتا ہو۔
جب ہمدردی کے خاطر دوسروں کو نصیحت کرتا ہے اور کہتا ہے اس کام کو انجام دو اور فلاں کام کو چھوڑ دو تو پھر وہ اپنے آپ کو کیسے بھول جاتا ہے۔ کیا اپنے سے زیادہ دوسروں سے ہمدردی ہے؟ کیا دوسروں کو اپنے آپ سے زیادہ چاہتا ہے؟ یقین نہیں آتا۔
علی فرماتے ہیں:
” اللهَ اللهَ فٖی أَعَزِّ الْأَنْفُسِ عَلَیْکُمْ وَ أَحَبِّہٰا إِلَیْکُمْ۔ (نہج البلاغہ (فیض الاسلام) خطبہ ۱۵۶)
خدا سے ڈرو، خدا سے ڈرو ان افراد کے سلسلے میں جو تمہیں سب سے زیادہ عزیز اور محبوب ہیں۔
حضرت علی کا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہو اور اگر دوسروں کو چاہتے ہو تو وہ اس وجہ سے کہ تمہاری خدمت کرتے ہیں۔ تمہارے لئے آرام و آسائش اور سعادت مندی کا سامان فراہم کرتے ہیں اور تم ان کے ساتھ بات چیت اور اٹھنے بیٹھنے سے لطف اندروز ہوتے ہو۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اپنے آپ کو شخصیت سمجھتے ہو اور دوسروں کو خود غرضی کے خاطر چاہتے ہو۔ ایسا کیسے ہے کہ دوسروں کو تو نصیحت ہو لیکن اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔ کیا تمہیں اپنے آپ سے ہمدردی نہیں۔
الله فرماتا ہے:
یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَتَفْعَلُونَ ، کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لاَتَفْعَلُونَ (سورہ صف آیت ۲،۳)
اے وہ لوگ کہ جو ایمان لائے کیوں ایسی بات زبان سے کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے الله اس پر سخت ناراض ہوتا ہے کہ ایسی بات کہو کہ جس پر عمل نہیں کرتے۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |