ساتواں درس:مؤمن کی ہوشیاری اور بیداری

اس الله کی عظمت پہ توجہ لازم ہے جس کی گناہ کے ذریعہ مخالفت کی جاتی ہے نہ گناہ کے چھوٹےہونےپر

”یٰااَبَاذَرٍّ: لاٰتَنْظُرْ اِلیٰ صِغَرِ الْخَطیٖئَةِ وَ لٰکِنِ انْظُرْ إِلٰی مَنْ عَصَیْتَ“

اے ابوذر گناہ کے چھوٹے ہونے کو مت دیکھو بلکہ اس کی عظمت کی طرف دیکھو جسکی تم نافرمانی کرتے ہو۔

تین جوانب سے گناہوں پر نظر ڈالی جاسکتی ہے:
۱۔ خود گناہ کو چھوٹے اور بڑے ہونے کے لحاظ سے جانچنا
۲۔ گناہ کو فاعل اور وہ جو کہ گناہ کو انجام دیتا ہے کے لحاظ سے جانچنا
۳۔ جس کی نافرمانی کی جاتی ہے اس لحاظ سے گناہ کو جانچنا
قرآن و سنت میں گناہوں کو دو گروپ میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک صغیرہ اور دوسرے کبیرہ۔ ان میں سے ہر ایک الگ حکم اور مخصوص عذاب رکھتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب کچھ لوگوں کے ہاتھ میں نامہٴ اعمال دیا جائے گا تو وہ لوگ کہیں گے:

”…یَاوَیْلَتَنٰا مَالِ ہَذٰا الْکِتَابِ لاٰیُغٰادِرُ صَغیٖرَةً وَ لاَکَبیٖرَةً اِلاَّ أَحْصٰہٰا“ (سورہ کہف، آیت ۴۹)

وائے ہو مجھ پر یہ کیسی کتاب (نامہٴ اعمال) ہے کہ جس نے ہمارے چھوٹے اور بڑے سارے گناہوں کا حساب کرلیا ہے۔

.گناہوں کے ان دو گروپ میں بنیادی فرق شاید یہ ہو کہ کبیرہ گناہوں پر عذاب کا اعلان کیا جاچکا ہے اور صغیرہ گناہوں پر عذاب کی بات نہیں کی گئی۔ اسی طرح صغیرہ گناہوں کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی جبکہ کچھ کبیرہ گناہوں کی سزا معین کردی گئی ہے۔
یہ بات جان لینی چاہیئے کہ ممکن ہے کوئی کسی گناہ کا مرتکب ہو اور وہ اس کی نظر میں صغیرہ گناہ میں سے ہو جو کہ معافی کے قابل ہے لیکن وہ اس بات سے غافل ہے کہ پہلی بات تو صغیرہ گناہ کا دُہرانا اور اس کو چھوٹا سمجھنا خود گناہ کبیرہ ہے اور اس کو ادامہ دینا انسان کو گناہ کے ارتکاب کے سلسلہ میں بے باک بنا دیتا ہے، دوسرے یہ کہ وہ بھول بیٹھتا ہے کہ کس ہستی کی نافرمانی کا مرتکب ہوا ہے۔
روایت کے اس حصّہ میں دوسرے مور د پر کو مدنظر قرار دیا گیا ہے کہ گناہ کے چھوٹے ہونے کو نہ دیکھو بلکہ اس حقیقت پر بھی ہماری توجہ ہونی چاہیئے کہ کس ہستی کی ہم مخالفت کے مرتکب ہو رہے ہیں، کس کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک کام خود تو چھوٹا ہوتا ہے لیکن چونکہ کسی عظیم ہستی سے متعلق ہے بڑا ہوجاتا ہے۔
آپ فرض کریں کہ امام زمانہ کے حضور میں ہیں اور امام کوئی حکم خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو آپ کو کریں مثال کے طور پر حکم دیں کہ ایک گلاس پانی لے آؤ لیکن آپ اپنے آپ سے کہیں کہ یہ تو بہت چھوٹا کام ہے لہذا آپ امام کے فرمان کونظرانداز کردیں۔ کیا آپ کی نظر میں ایسا سوچنا عقلمندی ہے؟ کیا احترام کا تقاضا یہی ہے؟ کیا یہ مخالفت جائز ہے؟ بالکل نہیں کیونکہ باوجود اس کے کہ کام چھوٹا ہے لیکن حکم کرنے والا بہت عظیم ہے اور چھوٹا کام امر کرنے والے کی نسبت سے عظمت پاجاتا ہے۔ اب اسی مثال کو خدا پر منطبق کریں لیکن اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ خدا کی مخالف کا امام کی مخالفت سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اس بنا پر مخالفت کی قباحت کا اندازہ لگانے کے لئے امر و نہی کرنے والے کی عظمت کو نظر میں رکھنا ہوگا۔
گناہ کو اس طرح سمجھنا شخص میں شیطان کے ساتھ مقابلے اور مخالفت کا ایک مضبوط سبب ایجاد کردیتا ہے اور ہر قسم کے بہانے بازی کو نفس امارہ سے سلب کر ڈالتا۔ ایک وقت ہے کہ کوئی دوست انسان سے کوئی درخواست یا خواہش کرتا ہے، ممکن ہے اس کی خواہش کو قبول نہ کرے اور اس سے کہے تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ تم مجھے حکم کرو لیکن کبھی ماں باپ یا پھر استاد حکم کرتا ہے جن کی مخالفت بداخلاقی میں شمار ہوتی ہے اور کبھی ایک مرجع تقلید یا پھر امام معصوم یا ان سے بھی بڑھ کر الله کی طرف سے حکم ہو، اس صورتحال میں جس قدر امر و نہی کرنے والے کا مقام بلند و عظیم ہو اتنا ہی اس کے حکم کی مخالفت زیادہ بُری سمجھی جائے گی اور اتنی ہی زیادہ سزا کا مستحق ہوگا۔
جب شیطان دل میں وسوسہ کرتا ہے کہ نامحرم پر ایک نگاہ کرنا کوئی ایسی بات نہیں یا ایک منٹ حرام موسیقی سننا کوئی بات نہیں تو اسی وقت تمہیں اس پر توجہ کرنا چاہیئے کہ کس کے حکم کی خلاف ورزی کر نے کو کہہ رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے کہ جس کے لئے رسولخدا ابوذر سے فرماتے ہیں کہ گناہ کے چھوٹے ہونے کو نہ دیکھو بلکہ اس بات کو دیکھو کہ کس کی مخالفت کر رہے ہو۔

”یٰااَبَاذَرٍّ: إِنَّ نَفْسَ الْمُؤمِنِ أَشَدُّ ارْتِکٰاضاً مِنَ الْخَطیٖئَةِ مِنَ الْعُصْفُورِ، حیٖنَ یُقْذَفُ بِہِ فٖی شَرَکِہِ“۔

اے ابوذر باایمان انسان کی اپنے گناہ پر پریشانی اور گھبراہٹ اس چڑیا سے زیادہ ہوتی ہے جو جال میں پھنس گئی ہو۔

روایت کے اس حصّہ میں حضورﷺ گناہ کے مقابلے میں مؤمن کے عکس العمل کو واضح کرنے کے لئے ایک اور زندہ مثال بیان فرماتے ہیں۔ وہ یہ کہ چڑیا کو پکڑنے کے لئے اگر جال بچھاؤ اور اس جال میں یہ پھڑپھڑانے والی مخلوق پھنس جائے تو وہ اپنی جانب سے سخت عکس العمل کا مظاہرہ کرتی ہے۔ دم بھر بھی چین سے نہیں بیٹھتی اور رہائی کے لئے کوشش کرتی ہے۔ کبھی کبھی تو اس کی یہ کوشش اس کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کا اتنا کچھ اضطراب اور پریشانی جال میں پھنسنے سے ہے۔ مؤمن کا اپنے گناہ کے مقابلے میں ردعمل کچھ اسی طرح ہے۔ جب احساس کرتا ہے کہ شیطان کے دھوکے میں آگیا ہے تو پریشانی اور بے قراری اس کے تمام وجود پر چھا جاتی ہے یہاں تک کہ آرام و سکون، کھانا پینا اور نیند بھی اس کی اُڑ جاتی
ہے۔ وہ مسلسل کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح شیطانی فریب کے جال سے نکل سکے۔
ہم معصوم نہیں مسلسل بھول چُک اور غلطی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ہم سے اس بات کی بھی توقع نہیں کہ ہم سے کوئی بھی گناہ سرزد نہ ہو۔ بہت امکان ہے کہ کبھی شیطان کے دھوکے میں آجائیں (معصوم نہ ہونے کے یہ معنیٰ نہیں کہ ضرور گناہ کے مرتکب ہوں کیونکہ ممکن ہے کہ ایسے غیرمعصوم انسان بھی ہوں جو گناہ کے مرتکب نہ ہوتے ہوں۔ ان میں اور معصوم میں یہ فرق ہے کہ معصوم کو وہ ملکہ حاصل ہے جو انہیں گناہ کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ عام اور معمولی انسان معصوم نہ ہوتے ہوئے بھی گناہ سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ بہرحال اگر گناہ کے مرتکب ہوگئے تو ہمارا ایمان اقتضاء کرتا ہے کہ مسلسل اس پر نادم رہیں اور کوشش کریں کہ توبہ، استغفار اور گریہ و زاری کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے عواقب سے نجات دلائیں۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست اگلا عنوان