ساتواں درس:مؤمن کی ہوشیاری اور بیداری

گناہ کی طرف توجہ اور اس کو بڑا جاننا خدا کی عنایت کا نتیجہ ہے

یٰا اَبٰاذَرٍّ إِنَّ اللهَ تَبٰارَکَ وَ تَعَالی إِذَا أَرٰادَ بِعَبْدٍ خَیْراً جَعَلَ الذُّنُوبَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ مُمَثَّلَةً وَ الإِثْمَ عَلَیْہِ ثَقیٖلاً وَبیٖلاً، وَ إِذَا اَرٰادَ بِعَبْدٍ شَرّاً أَنْسٰاہُ ذُنُوبَہُ۔

اے ابوذر اگر خدا کسی بندہ کی بہتری چاہتا ہے تو اس کے گناہوں کو اس کے نزدیک مجسم کردیتا ہے اور گناہ کو اس کے لئے دشوار اورسخت بنا دیتا ہے اور اگر کسی بندہ کی تباہی چاہتا ہے تو اس کے گناہ کو اس کی یاد سے نکال دیتاہے۔

خداوند تمام انسانوں پر مہربان ہے اگر کسی سے اسے محبت نہ ہوتی تو وہ اسے پیدا ہی نہ کرتا۔ مہربانی کے سلسلے میں الله تعالی اپنے اولیاء پر ایک خاص عنایت رکھتا ہے۔ اگر ان سے بے خیالی میں کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو ان کو بیدار اور آگاہ کرنے کے لئے گناہ کو ان کی نظر میں مجسم کردیتا ہے کیونکہ برائی کے دلدل میں پھنسے اور گناہ میں ڈوبنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے کہ انسان گناہ اور اس کے نتائج کو بھول جائے۔ اس کو نظر میں رکھئے کہ الله تعالی بعض بندوں پر ایک خاص نظر رکھتا ہے لہذا ان کو ان کے حال پر نہیں چھوڑتا اس کے برعکس بعض بندوں کی طرف توجہ نہیں کرتا ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ جو کوئی بھی یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا وہ الله کی عنایتوں کے سائے میں ہے یا نہیں؟ تو اگر گذشتہ گناہوں کو نہیں بھولا ہے اور گناہ اس کی نظر میں بڑا ہے تو جان لے کہ خدا کی عنایتوں کے سائے میں ہے لیکن اگر اپنے گناہوں کو بھول جاتا ہے اور اس کو معمولی سمجھتا ہے تو جان لے کہ خداوند تعالی کی عنایتوں سے محروم ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ گناہ کا یاد رکھنا اس وقت فائدہ مند ہے جب گناہ کے جاری رہنے میں یہ چیز مانع اور رکاوٹ بن سکے ورنہ اگر کوئی اپنے گناہوں کو تو یاد رکھے لیکن ان گناہوں کو اپنے اوپر ایک سنگین بوجھ نہ سمجھے تو اسے گناہ انجام دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہوگی۔
امام سجاد دعائے ابوحمزہ ثمالی میں فرماتے ہیں:

”اَنَا الَّذِی أَمْہَلْتَنٖی فَمٰا ارْعَوَیْتُ وَ سَتَرْتَ عَلَیَّ فَمٰا اسْتَحَیْتُ وَ عَمِلْتُ بِالمَعٰاصٖی فَتَعَدَّیْتُ وَ اَسْقَطْتَنٖی مِنْ عَیْنِکَ فَمٰا بٰالَیْتُ…“

میں وہ ہوں جسے تو نے توبہ کرنے اور گناہ سے پلٹنے کی مہلت دی لیکن میں پھر بھی گناہ سے باز نہ آیا اور تو نے میرے گناہوں پر پردہ ڈالا لیکن پھر بھی میں نے شرم نہ کی اور دوبارہ گناہ کا مرتکب ہوا اور حد سے گزر گیا یہاں تک کہ تو نے مجھے اپنی نظروں سے گرادیا…

ان مطالب سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خدا جب کسی کی اچھائی چاہے تو مسلسل اس کے گناہوں کو اس کے سامنے مجسم کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کو ایک سنگین بوجھ سمجھتا ہے اس کے برخلاف اگر کسی پر الله تعالی مہربان نہ ہو اور اس کے ساتھ اچھا نہ چاہے تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد گناہ کا ارتکاب اس کی نظر میں کم اہمیت اورایک معمولی چیز ہوجاتا ہے اور وہ اس کو اہمیت نہیں دیتا۔
شروع میں خدا کسی کو بھی اپنی مہربانیوں سے محروم نہیں رکھتا اور کسی کا بُرا کو بھی نہیں چاہتا۔ ہاں جب کوئی شخص کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اورا س کو بار بار انجام دیتا ہے تو پھر خدا اس کو اس طرح کی سزا کا مستحق قرار دے دیتا ہے۔
خدا کے نزدیک وہ محترم ہے جو اس کی بندگی اور تقرب کا جویا ہو اور خدا کے نزدیک وہ ذلیل و خوار ہے جو خدا سے دور ہوا اور اسے بھلا بیٹھا۔ جب اس نے خدا کو بھلا دیا تو خدا بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

”وَ لاٰتَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُو اللهَ فَأَنْسٰہُمْ أَنْفُسَہُمْ…“

اور تم مؤمنوں ان لوگوں کے مانند نہ ہوجاؤ جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی انہیں ان کی طرف سے غافل کردیا۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست