ساتواں درس:مؤمن کی ہوشیاری اور بیداری
لاپرواہ عالموں اور بے عقل و ناآگاہ جاہلوں کا خطرہ
ایک مشہور روایت میں پیغمبرﷺ فرماتے ہیں:
”قَصَمَ ظَہْریٖ رَجُلاٰنِ: عٰالِمٌ مُتَہَتِّکٌ وَ جٰاہِلٌ مُتَنَسِّکٌ“ (بحارالانوار ج ۲ ص ۱۱۱ روایت ۲۵)
دو طبقوں نے میری کمر توڑ دی ایک عالم و دین شناس جو لاپروا ہے اور دوسرا عابد و مقدس جو ناآگاہ و جاہل ہے۔
امام خمینی فرماتے تھے کہ مقدس نما لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے عبادی وظائف انجام دیں لیکن اپنے اصلی وظیفہ کو جو کہ علم کا حاصل کرنا اور صحیح شناختہے بھول گئے ہیں۔ اسی غلط طرز اور اپنی جہالت سے ایک ہی راستہ کو طے کرتے ہیں اور اسی پر مصر ہوتے ہیں۔ اس گروہ کی طرف سے اسلام کو پہنچنے والا نقصان فاسقوں کی جانب سے پہنچنے والے نقصان سے زیادہ ہے۔ اس قسم کے افراد نہ خود کچھ کرپاتے ہیں اورنہ دوسروں کو کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں امام صادق فرماتے ہیں:
”مَنْ عَمِلَ عَلٰی غَیْرِ عِلْمٍ مٰا یُفْسِدُ اَکْثَرُ مِمَّا یُصْلِحُ“ (بحارالانوار ج۱ ص ۲۰۸)
جو شخص بغیر علم و شناخت کے عمل کرتا ہے اصلاح سے زیادہ تباہی اور فساد پھیلاتا ہے۔
اسی طرح غیرمتقی عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا لوگ اس کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور اس کے علم کی وجہ سے اس کا احترام کرتے ہیں اور وہ اپنے غیرمتقی ہونے کے سبب اسلام کو ایسی کاری ضرب لگاتا ہے کہ جس کی جاہلوں سے بھی امید نہیں کی جاتی۔ اسی وجہ سے جہاں بھی تقوی کی تعریف اور تمجید کی گئی ہے اس سے مقصود وہ تقویٰ ہے جو علم کے ساتھ ہو اور اگر یہ دو ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں نہ فقط یہ کہ فائدہ مند نہیں رہتے گے بلکہ نقصاندہ ہیں۔ اسی طرح جہاں فقاہت اورعلم کی تعریف ہوئی ہے اس سے منظور و مقصود وہ علم و فقاہت ہے جو عمل کے ساتھ ہو۔ کیونکہ جو دین شناس علم رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا وہ ڈاکو ہے۔
الله تعالی حضرت داؤد سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے:
”لاٰتَجْعَلْ بَیْنِی وَ بَیْنَکَ عٰالِماً مَفْتُوناً بالدُّنیا فَیَصُدُّکَ عَنْ طَریقِ مَحَبَّتٖی، فَاِنَّ اُولٰئِکَ قُطّٰاعُ طَریٖقِ عِبٰادِی الْمُریدینَ، اِنَّ اَدْنٰی مٰا اَنَا صٰانِعٌ اَنْ اَنْزَعَ حَلاٰوَةَ مُنٰاجٰاتِی عَنْ قُلُوبِہِمْ“ (اصول کافی ج۱ ص۴۶)
اے داؤد میرے اور اپنے درمیان اس عالم کو جو کہ دنیا پسند ہوگیا ہے واسطہ نہ بناؤ کہیں تم کو میری محبت کی راہ سے روک نہ دے۔ بیشک یہ لوگ میرے ماننے والوں کی راہ میں ڈاکو ہیں۔ ان کی سب سے کم سزا یہ ہے کہ ان کے دلوں سے مناجات کی لذت کو نکال دوں گا۔
بے عمل اور دنیا پرست عالم ایسا ڈاکو ہے جو دن دھاڑے قافلہ کو لوٹتا ہے۔ اور وہ چونکہ علم رکھتا ہے لہذا جانتا ہے کہ لوگوں کو کس طرح دھوکا دے۔ اس طرح کہ عالم، دین کے کسی فائدے کے نہیں۔ بس ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے کہ ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ تو پتہ یہ چلا کہ تقویٰ اور فقاہت دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہونے کی صورت میں فائدہ مند ہیں اور فرد و معاشرے کی سعادت کا باعث ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ہمنشینی صحیح ہے جنہوں نے اپنے اندر تقوی، بندگی اور اطاعت خدا کو مستحکم کیا ہو اور دوسری جانب سے دین شناسی میں کوشش کی ہو اور معارف دینی کو حاصل کیا ہو۔ اس طرح کے علماء کے ساتھ بیٹھنے سے انسان کے فضائل اور کمالات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگرچہ اصطلاح میں فقیہ ان علماء کو کہا جاتا ہے کہ جو احکام شرعی کے استنباط کی صلاحیت رکھتے ہوں اور فروع کو اصول کی طرف پلٹانے کی قدرت رکھتا ہوں لیکن قرآن اور روایات میں فقیہ بمعنی دین شناس کے ہیں خواہ وہ شناخت مسائل شرعی یعنی احکامات سے متعلق ہو یا عقیدتی اوراخلاقی مسائل کی شناخت سے ہو بلکہ عقیدتی اور اخلاقی مسائل کو جاننے والا ہمنشینی کے لئے زیادہ مناسب ہے۔
حضورﷺ فرماتے ہیں اب جبکہ سفر کا ارادہ کرلیا ہے اور اپنے لئے ایک مناسب دوست چُن لیا ہے تو ہوشیار رہو کہ گناہ میں نہ پڑجاؤ کیونکہ اگر گناہ میں پڑگئے تو تمہاری کمالات کی طرف حرکت بیکار ہوجائے گی اور تمہاری کوششیں اورعبادتیں ثمربخش نہ ہوں گی۔
بلاوجہ انسان گناہ کی طرف نہیں جاتا۔ ضرور گناہ میں ایک قسم کا مزہ اور جاذبیت ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ کر بیٹھتا ہے، اگرچہ یہ جاذبیت خیالی اور شیطانی وسوسہ ہے اور حقیقت نہیں رکھتی لیکن جو کچھ بھی ہو انسان گناہ میں جاذبیت اور لذت کو پاتا ہے تبھی اس کی طرف جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان کیا کرے کہ گناہ سے دوری حاصل کر کے اس پر قائم رہ سکے۔
گناہ سے دوری اختیار کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان گناہ کے خطرناک اور بڑے ہونے کو سمجھے اور ان نقصانات و خطرات کو کہ جنہیں یہ وقتی لذت اپنے ساتھ رکھتی ہے اور بُرے اور جاری رہنے والے اثرات جو اخروی اور دنیاوی زندگی پر پڑتے ہیں انہیں جان لے اور پہچان لے۔
مؤمن کی خصوصیت اس میں ہے کہ وہ گناہ کی نسبت ایک خاص رائے رکھتا ہے۔ یہی رائے اورنظریہ گناہوں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ مؤمن شخص کے لئے گناہ ایک بہت بڑے پتھر کے مانند ہے جو گرا چاہتا ہے۔ اگر مؤمن سے کوئی غلطی یا گناہ کا ارتکاب ہوجائے تو اس کے عواقب سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح کی رائے و نظر کا اس کی فکر و خیال پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ مسلسل اس کے ضمیر کو گناہ کے خلاف اکساتا رہتا ہے۔ اور جب کبھی بھی کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو فوراً توبہ کرتا ہے بالکل اس شخص کے مانند جو ایک بڑے پتھر کو اپنے سر پر دیکھتا ہے اور اس کے گرنے سے مسلسل خوفزدہ رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی روح آلودگی سے اس طرح پاک ہے کہ ہر گناہ کے مقابلے میں عکس العمل دکھاتی ہے اور مسلسل اپنے نفس کی مذمت اور ملامت کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اپنے آرام و آسائش کو چھوڑ دیتی ہے۔
اس کے مقابلے میں کافر اور وہ جس نے اپنی فطرت کو گناہوں سے آلودہ کردیا ہے، گناہ کے مقابلے میں کوئی پریشانی یا ملامت کا احساس نہیں کرتے اور گناہ ان کی نظر میں اس مکّھی کی مانند ہے جو اس کی ناک پر سے گزر جاتی ہے۔ کافر سے مراد صرف وہ نہیں جو خدا اور قیامت کا منکر ہو بلکہ جو دین کے کسی ایک اصول کا منکر ہو وہ بھی کافر ہے۔
آیات و روایات کے علاوہ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے کہ ناپسند عمل کا بار بار انجام دینا اس کی برائی کو ختم کردیتا ہے اور وہ ایک لذّت بخش عمل کی صورت میں اختیار کرلیتا ہے۔ لہذا اس کے انجام پر ندامت کا احساس بھی نہیں کرتا۔ گناہ بھی اسی طرح اگر بار بار انجام دیا جائے تو اس کی برائی کا احساس ختم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے شرم و ندامت کا احساس بھی ختم ہوجاتا ہے۔
یہیں پر ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ اور وہ اس طرح کہ جو بھی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ ایمان کی سرحد سے نزدیک ہے یا پھر کفر کی تو اسے دیکھنا چاہیئے کہ گناہ کے مقابلے میں اس کا عکس العمل کیا ہے۔
اگر دیکھتا ہے کہ گناہ اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور اسے اس کی پروا نہیں تو جان لے کہ کفر کے راستے پر چل رہا ہے کیونکہ گناہ پر ندامت ایمان کی آئینہ دار ہے اور گناہ میں لاپروائی کفر کا آئینہ دار ہے۔
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر غضب اور شہوت انسان پر غالب آجائے اور وہ کسی گناہ کا مرتکب ہوا تو فوراً پشیمان ہوگا اور اپنے کئے ہوئے پر خوفزدہ رہے گا۔ اب اگر ہمارے اندر اس طرح کی کیفیت نہیں تو ہمیں اپنی عاقبت سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ ہم ایک خطرناک راستہ پر چل رہے ہیں۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |