ساتواں درس:مؤمن کی ہوشیاری اور بیداری

فقہی اور متقی لوگوں کے ساتھ ہم نشینی، اور مؤمن و کافر کی نگاہ میں گناہ کا فرق

”یَااَبَاذَرٍّ: اَلْمُتَّقُونَ سٰادَةٌ وَ الفُقَہَاءُ قٰادَةٌ وَ مُجٰالَسَتَہُمْ زِیٰادَةٌ إِنَّ الْمُؤمِنَ لَیَریٰ ذَنْبَہُ کَأَنَّہُ تَحْتَ صَخْرَةٍ یَخٰافُ أَنْ تَقَعَ عَلَیْہِ وَ إِنَّ الْکَافِرَ لَیَری ذَنْبَہُ کَانَّہُ ذُبٰابٌ مَرَّ عَلٰی اَنْفِہِ۔“

اے ابوذر متقی لوگ بڑے عظمت والے ہیں اور فقہاء رہبر اور قائد ہیں، ان کی صحبت میں بیٹھنا علم کی افزائش اور فضیلت کا باعث ہونا ہے۔ مؤمن اپنے گناہ کو ایک پتھر کی سِلْ کے مانند سمجھتا ہے جس سے یہ خطرہ ہے کہ ابھی یا تبھی اس پر آ گرے گی جبکہ کافر اپنے گناہ کو ایک مکھی کے مانند سمجھتا ہے جو اس کی ناک پر سے گزر جاتی ہے۔

حضورﷺ نے گذشتہ بیانات میں انسان کو اس کی حساس صورتحال، زندگی کی اہمیت اور عمر کے لحظات کی اہمیت سے آگاہ کیا اور انسان کو خبردار کیا کہ سستی، کاہلی اور لاپرواہی سے دوری اختیار کرے اور ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے زندگی کے مسائل کو دیکھے۔ اس بات کی تاکید کی گئی کہ ہمیں فرصت کو غنیمت جاننا چاہیئے اورآج کے کام کو کل پر نہیں ڈالنا چاہیئے اب بات اس میں ہے کہ عمر سے بہترین فائدہ حاصل کرنے کا راستہ کیا ہے؟ اور الله کی جانب حرکت یعنی ”سیر الی الله“ میں پہلا قدم کیا ہے؟
عمر سے بہترین استفادہ اور الله کی جانب حرکت میں پہلا قدم گناہ سے پرہیز ہے کیونکہ گناہ میں گھرا ہوا انسان کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انسان کے عمر کی قدر و منزلت اس وقت ہے جب وہ گناہ سے پاک ہو۔
امام سجاد دعائے مکارم اخلاق میں فرماتے ہیں:

”اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ … و عَمِّرْنٖی مٰا کَانَ عُمْرِی بِذْلَةً فیِ طٰاعَتِکَ فَاِذَا کٰانَ عُمْرِی مَرْتَعاً لِلشَّیطٰان فَاقْبِضْنٖی إِلَیْکَ قَبْلَ أَنْ یَسْبِقَ مَقْتُکَ إِلَیَّ أَوْ یَسْتَحْکِمَ غَضَبُکَ عَلَیَّ۔“ (مفاتیح الجنان، ص ۱۱۰۶)

اے خدامحمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور میری عمر جب تک تیری اطاعت میں بسر ہورہی ہو اسے طولانی فرما پس جب میری عمر شیطان کی آمجگاہ بن جائے تو اس سے پہلے کہ تو مجھ پر غضبناک ہو اور تیرا غضب حتمیت پاجائے میری روح کو قبض فرمالے۔

اس لحاظ سے گناہ کتنا ہی کیوں نہ چھوٹا ہو تباہی کا باعث ہے چاہے انسان اس کے ساتھ بہت سی عبادتیں ہی کیوں نہ انجام دیتا رہے۔ جو شخص اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ گناہ بھی انجام دیتا ہے اس شخص کے مانند ہے جس کے پاس ایک پھٹی تھیلی ہے اور وہ جتنا بھی پیسہ اور جواہرات ایک طرف سے ڈالتا جاتا ہے دوسری طرف سے نکل جاتا ہے یا پھر اس کے مانند ہے جو غلے کو ایک جگہ انبار کرتا ہے اور اسے آگ لگا دیتا ہے۔ گناہ بھی آگ کے مانند ہے جو اچھے اعمال کے انبار پر ڈال دیا جاتا ہے۔
لہذا پہلے مرحلے میں گناہوں کو پہچان کر ان سے بچنا ہوگا اور اگر گناہ کے مرتکب ہو بھی گئے تو توبہ کریں۔ اس کے بعد خدا سے مدد مانگیں اور اس کے اولیاؤں سے توسل کے ساتھ گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست