چھٹا درس:الله تعالی کی نعمتوں اور حقوق کی عظمت اور وسعت کے اقرار کے ساتھ ساتھ وظائف کی طرف توجہ لازم ہے

خدا کا اپنے افعال میں واحد اور سرچشمہٴ خیر ہونا

”وَ مَنْ أُعْطِیَ خَیْراً فَإِنَّ اللهَ أَعْطٰاہُ وَ مَنْ وُقِیَ شَرّاً فَاللهُ وَقٰاہُ“۔

اورجو کوئی بھی نیکی کو پہنچا تو (اس کا مطلب ہے) خدا نے اسے نیکی عطا کی ہے اورکوئی بھی برائی سے محفوظ رہتا ہے تو (اس کا مطلب ہے) خدا نے اسے برائی سے بچایا ہے۔

ایک اورمطلب جس کا بیان کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ اگر ہم نے دینی وظائف انجام دیئے ، برائی سے اپنے آپ کو روک لیا اور عبادات کو بجالائے تو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ایک اچھے انسان ہوگئے ہیں کیونکہ جو بھی نیک کام ہم سے انجام پاتا ہے اصل میں خداوند کی طرف سے ہوتا ہے، وہی ہے جو ہمیں اچھے کام کو انجام دینے کی توفیق اور برائی سے بچنے کے توفیق عطا کرتا ہے۔ جو کچھ نیکیاں اس عالم وجود میں آتی ہیں اور ہم تک پہنچتی ہیں خواہ ہماری کوشش سے ہوں یا بغیر کوشش کے سب خدا کی طرف سے ہیں اور یہ خدا ہی ہے جو بلاؤں اور برائیوں کو ہم سے دور فرماتا ہے۔ اس طرح کا اعتماد عقیدہٴ توحید افعالی (یعنی الله کو اس کے افعال میں یگانہ جاننے کے عقیدہ) سے حاصل ہوتا جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان تمام اچھائی اور نیک اعمال کو خدا کی طرف سے سمجھے اور اسی کو بلاؤں اور برائیوں سے بچانے والا جانے۔
توحید افعالی کی گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ قضا و قدر اور اس طرح کے دوسرے مسائل کے بارے میں جو کچھ کہا گیاہے یہ انسان کا عقیدہٴ توحید افعالی کے لئے ایک مقدمہ ہے۔
توحید افعالی پر توجہ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر سے غرور، تکبر اور انانیت دور ہوجاتی ہے۔
اصل میں توحید افعالی اکثر برے اخلاق مثال کے طور پر سستی، کاہلی، حسد اور دوسروں کو حقیر جاننے کی بیماریوں کا علاج ہے۔توحید افعالی پر توجہ سے نہ انسان میں حسد کے لئے کوئی جگہ باقی رہ جاتی ہے اور نہ تکبر اور نہ ہی دوسروں کو کمتر سمجھنے کی۔ جب انسان اپنے آپ کو خداوند سے متعلق سمجھتا ہے تو پھر احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب کوئی الله کی عظمت کو دیکھتا ہے تو پھر برائی نہیں دکھاتا کیونکہ ہر چیز کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا یہ ایمان ہو کہ تمام قدرت و طاقت خدا کی طرف سے ہے اور کوئی اس کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتا تو وہ خدا کے علاوہ کسی سے بھی نہیں ڈرے گا۔ جب اس کو یہ پتہ چل گیا کہ خدا تمام نیکیوں کا ایجاد کرنے والا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو پھر وہ کسی سے لو نہیں لگائے گا اور صرف خدا سے امید رکھے گا۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست اگلا عنوان