چھٹا درس:الله تعالی کی نعمتوں اور حقوق کی عظمت اور وسعت کے اقرار کے ساتھ ساتھ وظائف کی طرف توجہ لازم ہے

انسان کے رزق کا معین ہونا اور اس کا دوسروں کی پہنچ سے دور ہونا

”یَااَبَاذَرٍّ: لاٰیُسْبَقً بَطیٖءٌ بِحَظِّہِ وَلاٰیُدْرِکُ حَریٖصٌ مٰا لَمْ یُقَدَّرْ لَہُ“

اے ابوذر جو تیزی نہیں دکھاتا اس کے حصہ کو کوئی نہیں لے سکتا۔ اور لالچی اس چیز تک نہیں پہنچ سکتا جو اس کے مقدر میں نہیں۔

انسان کو زندگی میں دو اہم مشکلوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ زندگی کی ضروریات انسان کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنی احتیاجات اور خواہشات کو کسی طرح پورا کرے جس کی وجہ سے الله تعالی کے وظائف کی انجام دہی سے رہ جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ جب وظائف الہی کو انجام دینے کے مرحلہ پر پہنچتا ہے تو غرور اور سرکشی میں مبتلاء ہوجاتا ہے۔اور غرور ایسی آگ ہے جو اعمال کو تباہ کردیتی ہے۔ ان مشکلوں اور مصیبتوں سے نجات کے لئے حل تلاش کرنا چاہیئے۔
بعض کا خیال ہے کہ دینی اور اجتماعی وظائف ان کی زندگی میں رکاوٹیں پیدا کردیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا ایک ایسی ضرورت اور احتیاج ہے کہ اس سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی جاسکتی یہ خود دینی وظائف کی انجام دہی میں رکاوٹ ہے۔
یہ سب شیطانی وسوسہ ہیں جو انسان کے دل میں بہانے اور عذر کی صورت ابھرتے ہیں۔ جو چیز ان وسوسوں کے راستہ کو روک سکتی وہ اس مطلب کی طرف توجہ ہے کہ الله تعالی نے سب کے لئے روزی معین کردی ہے۔ انسان کتنی ہی کیوں نہ کوشش کرلے جتنا اس کے لئے معین کردیا گیا ہے اس سے زیادہ نہیں پاسکتا۔
منجملہ تعلیمات میں سے جن کا ذکر قرآن و سنت میں آیا ہے رزق کے معین و مُقَدَّر ہونے کا مسئلہ ہے اور اس پر توجہ دینا انسان کے لئے ضروری ہے۔ ہم ابھی اس مقام پر نہیں کہ روزی کے معین ہونے کے مفہوم کو بیان کریں اور اس پر بحث کریں کہ انسان کو رزق حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پیر مارنا چاہیئے یا نہیں؟ ہم مختصر طور پر اس کا ذکر کریں گے کیونکہ معارف دینی میں اس مسئلہ کو اہمیت دی گئی ہے۔
نہج البلاغہ میں کئی ایک مواقع پر رزق کے معین ہونے کے مطلب کو بیان کیا گیا ہے امام کے قول کے مطابق اگر کوئی رزق حاصل کرنے میں کاہلی دکھائے تو کوئی دوسرا اس کے رزق کو نہیں کھا سکتا اور اگر کوئی مال جمع کرنے میں زیادہ لالچی ہو اور کوشش کرے کہ اپنے نصیب سے زیادہ کا حصہ حاصل کرلے تو جو کچھ اس کے لئے مقدر نہیں کیا گیا حاصل نہ کرسکے گا۔ اس مطلب کی طرف توجہ کرنے سے انسان شیطانی وسوسوں کا راستہ روک سکتا ہے۔
جب شیطان انسان کو دینی وظائف کی انجام دہی سے روکتا ہے تواس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ ابھی تو روٹی پانی کا انتظار کرو اسی وقت ہمیں شیطان کو منہ توڑ جواب دینا چاہیئے اور وہ یہ کہ خاموش ہوجاؤ میرا رزق مقدر شدہ ہے لہذا کسی اور کا حصہ نہیں بن سکتا۔ یہ عقیدہ اس وقت حاصل ہوگا جب انسان کو خدا کی طرف سے رزق کے معین ہونے کا اطمینان ہو۔
یہ جو کہا گیا کہ الله تعالی نے لوگوں کے رزق کو معین کردیا ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش نہ کرے اور کہے کہ الله تعالی نے ہمارے رزق کا وعدہ کیا ہے وہ ہماری روزی کو پہنچائے گا۔ اس پر بھی اپنے مقام پر گفتگو اور بحث و مباحثہ ہوا ہے کہ انسان کو اپنی احتیاجات کے لئے تلاش و کوشش کرنا چاہیئے کیونکہ خداوند متعال بیکار اور کاہل انسان سے بیزار ہے۔
رزق کے معین ہونے کے موضوع پر بحث و گفتگو ان لوگوں کے لئے ہے کہ جو شیطانی وسوسوں کے دھوکے میں آجاتے ہیں، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دینی وظائف کی انجام دہی میں مصروف ہوجائیں گے تو خود اور بیوی بچے بھوکے مرجائیں گے۔ جبکہ اگر کوئی الله کی بندگی میں مصروف ہوجائے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ الله اسے بھوکا چھوڑ دے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست