چھٹا درس:الله تعالی کی نعمتوں اور حقوق کی عظمت اور وسعت کے اقرار کے ساتھ ساتھ وظائف کی طرف توجہ لازم ہے
قیامت کے دن انسان کے دنیاوی اعمال کا مجسّم ہونا
قیامت کے من جملہ اصول میں سے ایک اصل اعمال کا محفوظ اور مجسم ہونا ہے جس کی طرف خداوند متعال نے قرآن میں اشارہ کیا ہے جس میں فرماتا ہے:
”وَ وُضِحَ الْکِتٰابُ فَتَری الْمُجْرِمیٖنَ مُشْفِقینَ مِمّٰا فِیہِ وَ یَقُولُونَ یٰا وَیْلَتَنٰا مٰالِ ہَذَا الْکِتَابِ لاٰیُغٰادِرُ صَغیٖرَةً وَ لاٰکَبیٖرَةً إِلاَّ أَحْصَاہٰا وَ وَجَدُوا مٰا عَمِلُوا حٰاضِراً وَ لاٰیَظْلِمُ یَظْلِمُ رَبُّکَ أَحَداً“ (سورہ کہف، آیت ۴۹)
اور اس روز لوگوں کے نامہٴ اعمال ان کے سامنے رکھے جائیں گے۔ گنہگار لوگوں کو جو کچھ ان کے نامہ اعمال میں ہے اس پر انہیں پریشان دیکھو گے۔ وہ لوگ اپنے آپ سے کہیں گے ہم پر وائے ہو یہ کیسی کتاب ہے جس نے ہمارے چھوٹے اور بڑے کسی بھی عمل کو نہیں چھوڑا سب کو شمار ڈالا اور اس نامہٴ اعمال میں وہ اپنے تمام اعمال کو پائیں گے اور خداوند کسی پر بھی ظلم نہیں کرے گا۔
ایک اور مقام پر الله تعالی فرماتا ہے:
”فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَہُ، وَ مَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَہُ“ (سورہ زلزال، آیت ۷ و ۸)
جس کسی نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیک کام کیا ہوگا اسے پائے گا اور جس کسی نے بھی ایک ذرہ کے برابر بھی برا کام انجام دیا ہوگا اسے پائے گا۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |