چھٹا درس:الله تعالی کی نعمتوں اور حقوق کی عظمت اور وسعت کے اقرار کے ساتھ ساتھ وظائف کی طرف توجہ لازم ہے
انسان کی عمر کا مختصر ہونا اور اس کے اچھے اور برے اعمال کا باقی رہنا
”یَااَبَاذَرٍّ: إِنَّکُمْ فیٖ مَمَرِّ اللَّیْلِ وَ النَّہَارِ فیٖ آجٰالٍ مَنْقُوصَةٍ وَ أَعْمٰالٍ مَحْفُوظَةٍ وَ الْمَوْتُ یَأْتیٖ بَغْتَةً وَ مَنْ یَزْرَعْ خَیْراً یُوشِکُ أَنْ یَحْصُدَ خَیْراً وَ مَنْ یَزْرَعْ شَرّاً یُوشِکُ أَنْ یَحْصَدُ نَدٰامَةً وَ لِکُلِّ زٰارِعٍ مِثْلُ مٰازَرَعَ“۔
اے ابوذر بے شک تم لوگ شب و روز کی گذرگاہ میں ایک ایسی عمر رکھتے ہو جو مسلسل گھٹ رہی ہے اور تمہارے اعمال محفوظ ہوتے جارہے ہیں کہ اور اچانک موت آجاتی ہے اس وقت جس کسی نے بھی اچھے اعمال انجام دیئے ہوں گے اچھا صلہ پائے گا اور جس کسی نے برے اعمال انجام دیئے ہوں گے پچھتاوا نصیب ہوگا اور ہر کاشتکار وہی کاٹے گا جو بوئے گا۔
ان امور میں جو انسان کو کام و کوشش کی طرف گامزن کرنے کے ساتھ ساتھ وظائف کی انجام دہی اور بہتر طریقہ عمل کے ادراک کو وجود میں لاتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر توجہ کرنی چاہیئے کہ عمر ہر حال میں سپری ہو رہی ہے خواہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں۔ ہر سانس کے ساتھ ہما ری عمر کا ایک لمحہ کم ہوتا جاتا ہے۔ زمانے کی حرکت کو ہم روک نہیں سکتے اور لمحات کو پلٹایا نہیں جاسکتا۔ امام علی کے قول کے مطابق کہ جس میں آپ فرماتے ہیں:
”نَفَسُ الْمَرْءِ خُطٰاہُ إِلٰی أَجَلِہِ“ (نہج البلاغہ (ترجمہ فیص الاسلام) حکمت ۷۱ ص ۱۱۱۷)
انسان کا ہر سانس ایک ایسا قدم ہے جو وہ موت کی طرف بڑھاتا ہے۔
ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرمایہ عمر تمام ہوجائے اور ہمارے ہاتھ میں کچھ نہ رہے کیونکہ یہ ایک ایسا سرمایہ ہے جو برف کی طرح مسلسل گھٹ رہا ہے یہاں تک کہ انسان کو موت آلے جس سے فرار ممکن نہیں۔
اسی سلسلہ میں امام علی فرماتے ہیں:
”…فَمٰا یَنْجُو مِنَ الْمَوتِ مَنْ خَافَہُ وَ لاٰیُعطٖی الْبَقٰاءَ مَنْ أَحَبَّہُ“۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۳۸ ص ۱۲۲)
پس جو کوئی موت سے ڈرتا ہو اس کے لئے موت سے رہائی نہیں اور جو ہمیشہ رہنے کو پسند کرتا ہے تو اسے بقا نہیں مل سکتی۔
سرمایہٴ عمر کو ضایع ہونے سے بچانے کا واحد راستہ وہ نفع بخش معاملہ ہے جس میں اس کے عوض جنّت خرید لی جائے اور اس سے بہتر معاملہ نہیں ہوسکتا کیونکہ جنّت ہی وہ مال ہے جو انسان کی عمر کی قیمت قرار پاسکتی ہے جیساکہ علی فرماتے ہیں:
”أَلاٰ حُرُّ یَّدَعُ ہَذِہِ اللُّمٰاظَةَ لِأَہْلِہٰا؟ إِنَّہُ لَیْسَ لِأَنْفُسِکُمْ ثَمَنٌ إِلاَّ الْجَنَّةَ، فَلاٰتَبِیعُوہٰا إِلاَّ بِہٰا“ (نہج البلاغہ، حکمت ۴۴۸، ص ۱۲۹۵)
کیا کوئی ایسا آزاد مرد نہیں ہے کہ جو منہ میں بچی کچھی غذا (یعنی دنیا کی پستی) کو دنیا والوں کے لئے چھوڑدے۔ بتحقیق تمہاری جانوں کی قیمت جنّت کے علاوہ کچھ نہیں لہذا اپنی جانوں کو بجز جنّت کے نہ بیچو۔
پس وہ لوگ جو عمر کے عظیم سرمایہ کا معاملہ الله کے غضب کی آگ سے کرتے ہیں کتنے نقصان میں ہیں۔ جو اپنی عمر کو غلط کاموں میں خرچ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عمر کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اعمال بھی مٹ جائیں گے۔ تو کیا غلط سوچ ہے اگرچہ یہاں کی زندگی گزر جانے والی ہے اور ہمیشہ کی زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے لیکن انسان کے اعمال باقی رہ جاتے ہیں کیونکہ اعمال انسان کی روح اورا لله تعالی سے مربوط ہیں۔ اگرچہ ہم ایسے جہاں میں زندگی کررہے ہیں جو فانی ہونے والی اور گزر جانے والی ہے لیکن ہمارا تعلق جہانِ آخرت سے بھی ہے اور ہمارے اعمال اسی کے لئے باقی رہیں گے۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |