چھٹا درس:الله تعالی کی نعمتوں اور حقوق کی عظمت اور وسعت کے اقرار کے ساتھ ساتھ وظائف کی طرف توجہ لازم ہے

حقوق الله کی عظمت اور اس کی نعمتوں کا لاتعداد ہونا

”یَااَبَاذَرٍّ: إِنَّ حُقُوقَ اللهِ جَلَّ ثَنٰاؤُہُ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ یَقُومَ بِہٰا الْعِبٰادُ۔ وَ إِنَّ نِعَمَ اللهِ اَکْثَرُ مِنْ أَنْ یُحْصَیْہٰا الْعِبٰادُ وَ لٰ-کِنْ أَمْسُوْا وَ أَصْبِحُوا تٰائِبِیٖنَ“۔

اے ابوذر الله تعالی کے حقوق اس سے کہیں زیادہ عظیم ہیں کہ انسان انہیں ادا کرسکے اوراس کی نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ انسان انہیں گن سکے لیکن تمہیں چاہیئے ہر صبح و شام توبہ کرو اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو۔

روایت کے اس حصّہ میں ذمہ داری کے احساس اوروظائف کی انجام دہی کی اہمیت کو محور گفتگو قرار دیا گیا ہے۔
جب انسان نے یہ سمجھ لیا کہ اسے اپنی زندگی سے اچھی طرح فائدہ اٹھانا چاہیئے اور یہ بھی جان لیا کہ زندگی اور فراغت سے بہتر فائدہ حاصل کرنے کے لئے علم سے لبریز ہونا چاہیئے تو لازم آتا ہے کہ ایسے شخص میں تلاش و کوشش کے اسباب پیدا کئے جائیں اب یہ کہ وہ سب کیسے وجود میں آتا ہے؟ اس کے لئے اس مطلب پر توجہ لازم ہے کہ خداوند اپنے بندوں پر حقوق رکھتا ہے۔ لہذا انسان پر اپنے خدا کے کچھ وظائف عائد ہوتے ہیں۔ انسان اپنی عقل و فطرت سے یہ احساس پالیتا ہے کہ اگر کسی کا اس پر حق ہے تو اسے ادا کرنا چاہیئے اس بات کو ہر عاقل انسان جانتا ہے کہ الله تعالی کے ہم پر سب سے زیادہ حقوق ہیں۔
جب انسان اس بات کو جانتا ہو کہ تمام نعمتیں جن سے وہ بہرہ مند ہے خواہ مادی ہوں یا معنوی خداوند متعال کی جانب سے ہیں ممکن نہیں کہ بندگی جیسے وظیفہ کو بھول جائے۔ وہ جانتا ہے کہ نعمت عطا کرنے والے کا شکر ادا کرنا چاہیئے اورا س کا قدردان ہونا چاہیئے۔ یہ خود ایک بہت بڑا سبب ہے جو انسان کو وظائف کی انجام دہی پر آمادہ کرتا ہے۔ اسی لئے حضورﷺ نے روایت کے اس حصے میں سب سے پہلے جملے میں اللهتعالی کے انسانوں پر حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کبھی بھی خدا کی نعمتوں کی شکرگزاری اوراس کے حقوق کی ادائیگی سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔
اب جب انسان نے اس بات کو سمجھ لیا کہ اگر تمام زندگی حقوق الله کی ادائیگی، نعمتوں کی شکرگزاری اور وظائف کی انجام دہی میں گزار دے تب بھی تمام حقوق اور وظائف سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا اور ہر وقت اپنے آپ کو الله کا مقروض سمجھے اگرچہ اس نے کوئی گناہ بھی نہ کیا ہو۔ الله کا حق اس پر باقی ہے اور اسے چاہیئے ادا کرے ایسا نہ ہو شیطان اسے دھوکا دے اور وہ سمجھے خدا اس کا مقروض ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کے لطف و کرم سے گناہوں سے دور رہا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے آپ پر اترائے اور کہے خدا کا شکر کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا کیونکہ اس طرح وہ غفلت اور غرور میں مبتلاء ہوجائے گا۔ لہذا ہمیں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ انسان کبھی خدا کے حقوق اوراس کی عطاکردہ نعمتوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا جیساکہ خداوند تعالی فرماتا ہے:

”وَ إنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاٰتُحْصُوْہٰا…“ (سورہ نحل، آیت ۱۸)

اگر تم لوگ چاہو خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا ہرگز شمار نہیں کرسکتے۔

بالفرض اگر انسان خدا کی نعمتوں کو شمار کر بھی لے تب بھی کسی ایک کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا۔ حتی اگر اس نعمت کے شکرانے کے طور پر ایک ”الحمدلله“ پر ہی کیوں نہ اکتفاء کرے تب بھی اس کی شکرگزاری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا کیونکہ خود الحمدلله کہنا خدا کی طرف سے ایک ایسی توفیق ہے جو خدا نے عنایت کی ہے اور یہ خود الحمدلله کہنا شکرگزاری کا محتاج ہے۔ اس طرح ہر شکر کے لئے ایک اور شکر واجب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قیامت تک بھی الحمدلله کہتے رہیں تو ایک الحمدلله کے شکر سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے، تو پھر کس طرح ان تمام نعمتوں سے جن کی گنتی سے مخلوقات عاجز ہیں عہدہ برآ ہوسکیں گے؟
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ خدا کی نعمتیں لاتعداد ہیں اور وہ انسان پر بڑا حق رکھتا ہے۔ یہ چیز انسان میں انکساری اور عاجزی کے احساس کا باعث ہوتی ہے اب اگر گناہ کا مرتکب نہ بھی ہوا ہو تب بھی اسے اس بات کا احساس رہتا ہے کہ وہ خدا کا مقروض ہے۔
انسان اگر خدا کی نعمتوں کا شکر بجا نہیں لاسکتا اور اس کے حقوق ادا نہیں کرسکتا تو کم از کم جو وہ کرسکتا ہے وہ یہ کہ توبہ اور مغفرت طلب کرتا رہے، خضوع کی حالت کو برقرار رکھے، وظائف کی انجام دہی میں سستی اورگناہ کا اعتراف کریں تو یہ خود انسان کو غرور اور دھوکے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انسان جب صحیح راستہ سے ہٹتا ہے تو دنیا کی چاہت، آرام طلبی اور پیٹ کی پوجا میں پڑجاتا ہے اور جب صحیح راستہ پر آتا ہے اور وظائف کی انجام دہی میں ہمت و کوشش کرتا ہے تو غرور اور خودپسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اپنے آپ کو دوسروں سے موازنہ کرتا رہتا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے لوگ خدا کی نعمتوں کے قدردان نہیں اور گناہ میں پڑے ہیں لیکن میں خدا کے وظائف کی انجام دہی اور قدردانی میں کامیاب ہوگیا ہوں۔
ہم جب صاحب عمل ہوں اور وظائف انجام دیتے ہوں تو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ کہیں غرور و تکبر کا شکار نہ ہوجائیں۔ یہ سب سے بڑا تربیتی درس ہے جس کا اندازہ اہلبیت کی روایات سے ہوتا ہے۔ آنحضرتﷺ روایت کے اس حصہ میں لوگوں کو کام و کوشش، وظائف کی انجام دہی اور حقوق الله کی اہمیت کے احساس کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں غرور اور خودپسندی سے منع فرماتے ہیں۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست