پانچواں درس:دنیاوی مقاصد کے لئے علم حاصل کرنے پر مذمت

علی کے بیان میں علماء کی تقسیم بندی

علماء اور دانشمند حضرات کی تقسیم بندی کے سلسلے میں حضرت علی فرماتے تھے:

”الْعُلَمٰاءُ رَجُلاَنِ، رَجُلٌ عَالِمٌ آخِذٌ بِعِلْمِہِ فَہَذٰا نٰاجٍ وَ رَجُلٌ تَارِکٌ لِعِلْمِہِ فَہَذٰا ہٰالِکٌ وَ اِنَّ اَہْلَ النَّارِ لَیَتَأَذَّونَ مِنْ رِیٖحِ الْعٰالِمِ التّٰارِکِ لِعِلْمِہِ وَ إِنَّ أَہْلَ النَّارِ نَدٰامَةً وَ حَسْرَةً رَجُلٌ دَعٰا عَبْداً إِلٰی اللهِ سُبْحَانَہُ فَاسْتَجٰابَ لَہُ وَ قَبِلَ مِنْہُ فَأَطٰاعَ اللهَ فَأَدْخَلَہُ اللهُ الْجَنَّةَ وَ أَدْخَلَ الدّٰاعِیَ النّٰارَ بِتَزْکِہِ عِلْمَہُ“۔ (بحارالانوار ج ۲ ص ۳۴)

علماء دو قسم کے ہیں۔ عالم کی ایک قسم وہ ہے جو اپنے علم پر عمل کرتی ہے تو یہ نجات پانے والے ہیں۔ دوسری قسم ان کی ہے جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتے پس یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ اور بیشک جہنّمی اس عالم کی بدبو سے تکلیف میں ہوں گے جس نے اپنے علم پر عمل نہیں کیا اور اسی طرح جہنّمیوں میں سب سے زیادہ حسرت اور ندامت کا شکار وہ شخص ہوگا جو دوسروں کو خدا کی طرف پکارے، دعوت دے اور دوسرے اس کی بات مان کر خدا کی پیروی کرنے لگیں جس کے نتیجہ میں خدا اسے جنّت میں داخل کرے گا لیکن دعوت دینے والے (اور الله کی طرف بلانے والے) کو اپنے علم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے جہنّم میں داخل کرے گا۔

حدیث قدسی میں الله تعالی حضرت داؤد کو خطاب کرکے فرماتا ہے:

”إِنَّ أَھْوَنَ مٰا أَنَا صٰانِعٌ بِعٰالِمٍ غَیْرِ عٰامِلٍ بِعِلْمِہِ أَشَّدُ مِنْ سَبْعیٖنَ عُقُوبَةً أَنْ أُخْرِجَ مِنْ قَلْبِہِ حَلاٰوَةَ ذِکْریٖ…“ (بحارالانوار، ج ۲ ص ۳۲)

کمترین عذاب جس میں عالم کو مبتلاء کروں گا ستّر عذاب سے سخت تر ہے اور وہ یہ کہ اپنی راز و نیاز کی لذت اور مٹھاس کو اس کے دل سے نکال دوں گا (اس کے بعد وہ میری یاد اور ذکر سے لذت حاصل نہ کرسکے گا)۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست اگلا عنوان