پانچواں درس:دنیاوی مقاصد کے لئے علم حاصل کرنے پر مذمت

قیامت میں عالم کی سب سے بڑی حسرت

یٰااَبَاذَرٍّ: یُطْلِعُ قَوْمٌ مِنْ اَہْلِ الْجَنَّةِ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ اَہْلِ النّارِ، فَیَقُولُونَ: مَا اَدْخَلَکُمُ النَّارَ وَ قَدْ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ بِفَضْلِ تَادیٖبِکُمْ وَ تَعْلیٖمِکُمْ؟ فَیَقُولُونَ: اِنَّا کُنَّا نَأْمُرُ بِالْخَیْرِ وَ لاٰنَفْعَلُہُ“۔

اے ابوذر قیامت کے دن جنّتیوں کا ایک گروہ جہنّمیوں کے ایک گروہ سے ملاقات کرے گا اوران سے سوال کرے گا تم لوگ کیسے جہنّم بھیج دیئے گئے جبکہ ہم تمہاری تعلیم و تربیت کی وجہ سے جنّت پہنچ گئے، جہنّمی گروہ جواب میں کہیں گے ہم دوسروں کو تو اچھے اعمال کا حکم کرتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔

قرآن میں قیامت کے منظروں میں سے ایک منظر جو کھینچا گیا ہے یہ ہے کہ جنّتی جہنّمیوں سے بلند مقام پر ہوں گے اور انہیں دیکھیں گے اوران سے گفتگو کریں گے جس سے پتہ لگتا ہے جنّت ایک بلند مقام پر واقع ہے اور جہنّم پستی میں۔ اس لحاظ سے جنّتی جہنّمیوں پر شرف رکھتے ہیں۔
قرآن کی تعبیر کچھ یوں ہے کہ کبھی جنّتی جہنّمیوں کو مخاطب قرار دیں گے کبھی جہنّمی جنّتیوں کو، آیت ملاحظہ ہو:

”وَ نَادیٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنٰا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلْ وَجَدْتُمْ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا قٰالوُا نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَہُمْ أَنْ لَّعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ“ (سورہ اعراف، آیت ۴۴)

جنّتی جہنّمیوں کو آواز دیں گے کہ جس چیز کا پیغمبر وں نے ہم سے وعدہ کیا تھا حق پایا۔ کیا تم نے بھی جس چیز کا خدا نے تم سے وعدہ کیا تھا ہم نے حق پایا؟ وہ کہیں گے ہاں، پھر منادی ان کے درمیان ندا کرے گا کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہو۔

جیساکہ روایت میں آیا ہے جنّتی جہنّمیوں کے ایک گروہ سے کہیں گے کہ ہم نے تمہاری رہنمائی و ہدایت اور تعلیم و تربیت کی وجہ سے بہشت حاصل کر لی لیکن تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جہنّم اورعذاب الہی کا شکار ہوگئے؟ وہ لوگ حسرت کے ساتھ جواب دیں گے کہ ہم نے جو کچھ کہا اس پر خود عمل نہیں کیا۔ تم لوگوں کو نیک کام انجام دینے کی دعوت کی لیکن خود ان سے دور رہے۔ تم لوگوں کومستحب کاموں کی طرف رغبت دلائی لیکن خود انجام نہ دیئے۔ تمہیں برائی اور غیبت وغیرہ سے دور رہنے کی ہدایت کی لیکن خود ان برائیوں میں ملوث ہوگئے۔ تم لوگوں نے ہمارے کہے ہوئے پر توجہ کی اور اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے اس مقام و منزلت پر فائز ہوگئے، افسوس ہم نے اپنی تمام تعلیم کے بعد اس پر عمل نہ کیا اور اس دردناک سرنوشت سے دوچار ہوگئے۔
یہ رسوائی اور حسرت ان لوگوں کا انجام ہے جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتے یقینا ان لوگوں کے لئے یہ حسرت اور رسوائی جہنّم میں جلنے سے زیادہ دردناک اور تکلیف دہ ہے کیونکہ روحانی عذاب جسمانی عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ دشمنوں کے طعنے اور ملامت شکنجوں کے درد اور جلنے کی تکلیف سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
واقعاً بڑا تکلیف دہ ہے جب انسان یہ احساس کرے کہ اس کی ہدایتوں اور رہنمائیوں کے ذریعہ دوسرے جنّت پہنچ گئے اور وہ خود باوجود اس کے کہ اپنے علم و دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بلند ترین مقام کو حاصل کرسکتا تھا جہنّم کے عذاب میں مبتلاء ہوجائے اور اس کے مرید اس کا تماشہ دیکھیں۔ اس کے مرید جنّت کی نعمتوں سے مالامال ہیں اور وہ جہنّم کے عذاب میں مبتلاء۔ بالفرض اگر کسی عذاب میں مبتلاء نہ ہو صرف ان نعمتوں سے محروم ہو جن سے اس کے تربیت یافتہ استفادہ کررہے ہوں یہ بھی اس کے لئے سخت تکلیف دہ ہے۔
اس حدیث شریف میں جن مطالب کی طرف اشارہ ہوا ہے انہیں مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں شروع سے اپنی نیت کو صحیح کرنا ہوگا۔ ہمیں خدا کے لئے اور ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے علم حاصل کرنے کے لئے نکلنا چاہیئے اور شروع سے ہی ہمیں چاہیئے کہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر عمل کریں تاکہ یہ خصوصیت ہمارے اندر کمال کی حد کو پہنچ جائے۔ اور جس قدر زیادہ معلومات ہمیں حاصل ہوں اس پر عمل کرسکیں۔ اگر شروع ہی سے سستی اور لاپروائی دکھائی اور پہلے ایک ذمہ داری کو ترک کیا اس کے بعد دوسری اس طرح کرتے کرتے برائی کی عادت ہم میں قوت پکڑتی جائے گی اور پھر ہمارے لئے نفس کے ساتھ مبارزہ مشکل ہوجائے گا۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست