پانچواں درس:دنیاوی مقاصد کے لئے علم حاصل کرنے پر مذمت

جھل کا اعتراف عالموں کی خاصیت ہے

ایک روایت میں پیغمبرﷺ فرماتے ہیں:

”مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً مِمّٰا یَبْتَغٰی بِہِ وَجْہُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ، لاٰ یَتَعَلَّمَہُ إِلاَّ لِیُصیٖبَ بِہِ عَرْضاً مِنَ الدُّنیا، لَمْ یَجِدْ عُرْفَ الْجَنَّةِ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ“۔ (بحارالانوار ج ۲ ص ۳۸)

جو کوئی بھی علوم دینی کو جو کہ صرف خدا کے لئے حاصل کیا جانا چاہیئے، دنیاوی مقاصد حاصل کرنے کے لئے سیکھے۔ قیامت کے دن جنّت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔

یَااَبَاذَرٍّ: اِذٰا سُئِلْتَ عَنْ عِلْمٍ لاٰتَعْلَمُہُ فَقُلْ لاٰاَعْلَمُہُ تَنْجُ مِنْ تَبِعَتِہِ وَ لاٰتُفْتِ النّٰاسَ بِمٰا لاٰعِلْمَ لَکَ تَنْجُ مِنْ عَذٰابِ اللهِ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ۔

اے ابوذر جب تم سے کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے جس کے بارے میں تم نہیں جانتے تو کہدو کہ میں نہیں جانتا تاکہ اس کے عواقب سے بچ سکو۔ اور جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے فتویٰ نہ دو تاکہ قیامت کے دن خدا کے عذاب سے بچ سکو۔

(یہ بات صحیح نہیں کہ انسان اُس چیز کے بارے میں کہے جس کے بارے میں علم نہیں رکھتا۔ ہوسکتا ہے اس کا یہ جواب دوسروں کی گمراہی اور انحراف کا باعث ہو)۔
ایک سب سے بڑی مصیبت کہ جس میں ممکن ہے ایک عالم مبتلاء ہوجائے وہ یہ ہے کہ اگر کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتا تو بجائے اس کے کہ اپنے جہل کا اعتراف کرے اسے چھپائے۔ یہ اعتراف جاہل کے لئے آسان ہے لیکن وہ شخص جو کہ عالم کے عنوان سےپہچانا جانے لگا اسے یہ کہنے سے کہ نہیں جانتا عار آتی ہے۔ جب اس سے کچھ پوچھتے ہیں اور وہ نہیں جانتا ہو تو اس کے لئے یہ دشوار ہے کہ سوال کا جواب نہ دے کیونکہ اسے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں لوگ اس سے یہ نہ کہیں کہ تم کس قسم کے عالم ہو کہ تمہیں سوال کا جواب نہیں معلوم۔
اس میں کیا برائی ہے کہ لوگوں کے جواب میں یہ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ کیا ہر کسیکے لئے یہ لازم ہوگیا ہے کہ سب کچھ جانتا ہو؟ اس صفت کا تو صرف خدا مالک ہے کہ سب چیز کے بارے میں جانتا ہے اور دوسروں کو اپنے علم سے ایک قطرے کی مقدار بہرہ مند کردیا ہے۔ جیساکہ قرآن میں فرماتا ہے:

”… وَ مَا اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِیْلاً“۔ (سورہ اسراء، آیت ۸۵)

جو کچھ تمہیں علم میں سے دیا گیا ہے بہت تھوڑا ہے۔

مرحوم علامہ طباطبائی جمعرات و جمعہ کی رات میں نشست رکھتے تھے جس میں آپ کے بعض شاگرد شریک ہوتے تھے اس نشست میں فلسفی اور غیرفلسفی دونوں قسم کے مسائل پر گفتگو رہتی تھی ہمیں اگر کوئی سوال ہوتا تھا تو نشست کے شروع ہونے سے پہلے یا پھر راستہ میں آپ کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ایک رات راستہ میں میں نے ان سے ایک فلسفی سوال کیا آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۔ دوسرا سوال مطرح کیا بغیر جھجک کے آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا۔ اس کے بعد تھوڑا سوچا اور فرمایا دیکھو اس طرح اس کا جواب دیا جاسکتا ہے یہ کہہ کر نہایت دلنشین اور اطمینان بخش جواب سے نوازا۔ اس رات انہوں نے یہ فرمایا کہ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے مجہولات کو خدا کے معلومات سے مقایسہ کریں تب ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور ہمارے مجہولات خدا کی معلومات کی طرح بے انتہا ہیں۔
یہ ہے انبیاء اور اولیاء الله کے مکتب کے تربیت یافتہ افراد کا طریقہ کہ اگر کسی بات پر یقین نہیں ہوتا تھا تو احتمال کی صورت میں جواب دیتے تھے۔ بعض اوقات جو جواب علامہ طباطبائی مرحوم دیتے تھے اس سے کہیں زیادہ اطمینان بخش ہوتا تھا کہ جس پر ہمیں اطمینان تھا لیکن اگر آپ اس پر علم یا یقین نہ رکھتے تھے تو پہلے کہتے مجھے نہیں معلوم اور یہ حقیقت میں نفس کے ساتھ مبارزہ کے نتیجہ میں انہیں حاصل ہوا تھا۔
یہ ان کی راہ و روش ہے جنہوں نے اپنی عمر کے ساٹھ، ستّر سال نفس کے تزکیہ اور سیکھنے سکھانے میں لگا دیئے۔ آج ہم چار لفظ اور کچھ اصطلاحات سیکھنے کے بعد جب اپنے شہر جاتے ہیں اورہم سے سوال کیا جاتا ہے تو ہمارے لئے یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ”میں نہیں جانتا“۔ ہمیں ایسا بار بار کرنا چاہیئے اور اس کی عادت ڈالنی چاہیئے تاکہ اگر کسی چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہیں تو آسانی سے اور بلاجھجک کے کہہ سکیں کہ میں نہیں جانتا اور اگر کسی بات پر گمان ہے یقین سے نہیں جانتے تو کہہ دیں کہ ہوسکتا ہے اسطرح ہو۔ اس صورت میں ہم اپنے آپ کو آخرت میں پیش آنے والی مشکلات سے نجات دلاسکتے ہیں۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست