پانچواں درس:دنیاوی مقاصد کے لئے علم حاصل کرنے پر مذمت

لوگوں کو دھوکہ دینے کے واسطے علم حاصل کرنے کا انجام

”یٰااَبَاذَرٍّ: مَنِ ابْتَغیٰ الْعِلْمَ لِیَخْدَعَ بِہِ النّٰاسَ لَمْ یَجِدْ ریٖحَ الْجَنَّةِ“

اے ابوذر، کوئی اس غرض سے علم حاصل کرے کہ لوگوں کو دھوکا دے سکے تو جنّت کی خوشبو اسے نصیب نہ ہوگی۔

بعض لوگ نہ صرف شہرت اور منصب و مقام کے لئے علم حاصل کرتے ہیں بلکہ اس سےبھی گر کر لوگوں کو دھوکا دینے، غلط فائدہ اٹھانے اور دوسروں کو منحرف کرنے کے لئے علم حاصل کرتے ہیں۔
روایت کے اس حصہ میں اب تک علم پر عمل کرنے کی اہمیت اورنیت کو صحیح کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا۔ وہ اس طرح کہ انسان دیکھے کہ کس نیت سے علم حاصل کرنے کے لئے نکل رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کے دل میں شیطانی نیتیں رسوخ کرجائیں اور نام و نمود جیسے حجة الاسلام، آیت الله یا پھر فلسفی اور مفسر کہلانے اور لوگوں کے احترام کو پانے کے لئے علم حاصل کرے۔
جو لوگ شہرت کے خاطر علم حاصل کرنے کی زحمتوں کو اپنے لئے ہموار کرتے ہیں شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی لوگوں میں زیادہ شہرت رکھتا ہے وہی خدا کے نزدیک بھی محترم ہے جبکہ یہ سوچ غلط ہے کیونکہ جو کوئی بھی لوگوں میں شہرت رکھتا ہے کیا اس نے اپنے وظیفہ پر عمل کر لیا ہے جو خدا کے نزدیک محترم ہوجائے اور سعادتمند کہلائے؟ وہ لوگوں میں شہرت رکھتا ہے لیکن خدا کے نزدیک سب سے زیادہ شرمندہ اور رسوا ہے کیونکہ انسان کی فضیلت کا معیار علم و عمل اور تقویٰ ہے۔ معیار یہ ہے کہ انسان خدا کے نزدیک محترم ہو نہ لوگوں کے نزدیک۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست