پانچواں درس:دنیاوی مقاصد کے لئے علم حاصل کرنے پر مذمت

علم پر عمل نہ کرنے اور معاشرے میں علم کے ذریعہ مقام حاصل کرنے کا انجام

حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت عالموں سے مخاطب ہیں۔ آپ علماء کو اس بات کی طرف شوق دلارہے ہیں کہ اپنے علم پر عمل کریں اور ساتھ ساتھ علم پر عمل نہ کرنے کے اثرات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔
اگرچہ کہ آپ ﷺ کے بیانات واضح ہیں اور وضاحت کی احتیاج نہیں لیکن اس بناء پر کہ مطلب دل میں رسوخ کرجائے وضاحت کی جاتی ہے۔ بعض وہ روایتیں جن کا مضمون پیغمبرﷺ کی حدیث کے اس حصّے سے یکسانیت رکھتا ہے بیان کی جاتی ہیں لیکن اس سے پہلے یہ بتاتے چلیں کہ اسلام کی رو سے عاقل انسان ذمہ دار انسان ہے البتہ ذمہ داریوں کی حدیں مختلف ہیں۔ اس لحاظ سے انسان چاہے جاہل ہو یا عالم ذمہ داری میں شریک ہیں وہ الگ بات ہے کہ عالم کی مسئولیت جاہل سے زیادہ ہے۔
اس بنا پر جاہل بھی مسئولیت رکھتا ہے اور ذمہ دار ہے کہ الله کی جانب سے لازم کردہ احکام اور موردنیاز دینی مسائل سیکھے کیونکہ دینی مسائل کا نہ جاننا احکام لازم کے ساقط ہوجانے کا باعث نہیں ہوسکتا۔ لہذا امام جعفر صادق آیت کریمہ ”قُل فَلِلَّہِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةِ“ کے ذیل میں فرماتے ہیں:

أَنَّ اللهَ تَعٰالٰی یَقُولُ لِلْعَبْدِ یَوْمَ القِیٰامَةِ: عَبْدِی أَ کُنْتَ عٰالِماً؟ فَإِنْ قٰالَ نَعَمْ قٰالَ لَہُ: أَ فَلاَ عَمِلْتَ بِمٰا عَلِمْتَ؟ وَ إِنْ قَالَ: کُنْتُ جٰاہِلاً قٰالَ لَہُ: أَ فَلاَ تَعَلَّمْتَ حَتّٰی تَعْمَلَ…“ (بحارالانوار ج ۷ ص ۲۸۵)

(قیامت کے دن جب بندے سے اس کے احکام و وظائف کے ترک کرنے پر بازپرس کی جائے گی تو) الله تعالی قیامت کے دن بندے سے فرمائے گا۔ اے میرے بندے، کیا تم تو (اپنے احکام و وظائف سے) آگاہ تھا؟ اگر اس نے جواب میں کہا ہاں (تو) اس سے کہا جائے گا جس سے آگاہ تھا اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟ اور اگر بندے نے کہا میں ناآگاہ تھا (تو) اس سے کہا جائے گا کیوں نہیں سیکھا تاکہ عمل کرسکو…

عالم اور جاہل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عالم پر الله کی حجت پوری ہوچکی ہے اور اس کی جانب سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے ساتھ سخت برتاؤ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں امام جعفر صادق# فرماتے ہیں:

”یُغْفَرُ لِلْجٰاہِلِ سَبْعُوْنَ ذَنْباً قَبْلَ اَنْ یُغْفَرَ لِلْعٰالِمِ ذَنْبٌ وٰاحِدٌ…“ (بحارالانوار ج ۲ ص ۲۷)

اس سے پہلے کہ عالم کا ایک گناہ معاف کیا جائے جاہل کے ستّر گناہ معاف کئے جائیں گے۔

یہ خیال نہ آئے کہ ہم علم کے حصول سے صرف نظر کرلیں تاکہ ہماری ذمہ داریاں سخت نہ ہوں اور ہمارا حال جاہلوں سے بدتر نہ ہو کیونکہ جس نے علم حاصل نہیں کیا اور جاننے کی کوشش نہیں کی اس سے بھی سوال کیا جائے گا اور علم حاصل کرنے اور جاننے سے فرار انسان سے ذمہ داریوں کو سلب نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ کیوں نہ ہم ان علماء میں سے ہوں جنہوں نے اپنے علم پر عمل کیا اور جس طرح دنیا میں دوسرے لوگ ان کے مقام و منزلت کی حسرت رکھتے ہیں آخرت میں بھی ان کے مقام و منزلت کی حسرت و خواہش رکھیں۔
ہماری روایتوں کی کتابوں میں بہت سے ابواب مختلف عناوین کے ساتھ علم کے حصول کی فضیلت میں وارد ہوئے ہیں یہاں تک کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جو لوگ علوم الہی کو حاصل کرتے ہیں تو ان کے لئے حتی ہوا میں پرندے، جنگل و بیابان میں وحشی جانور اور سمندر میں مچھلیاں استغفار کرتی ہیں۔
جس بھی جہت سے دیکھا جائے آپ ﷺ حدیث کے اس حصہ میں فرماتے ہیں کہ عالم جو اپنے علم پر عمل نہ کرے قیامت کے دن اس کا مقام و مرتبہ سب سے پست ہوگا اور جنّت کی خوشبو بھی اسے سونگھنا نصیب نہ ہوگی۔ اکثر اوقات وہ جو علم کے حصول کے لئے جاتا ہے شروع میں اس کی نیت دین کی خدمت اور وظائف کی انجام دہی ہوتی ہے اس دوران ایسی مزاحمتیں پیش آتی ہیں جو اسے مقصد تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ لیکن بعض کا مقصد علم حاصل کرنے سے رضایت پروردگار نہیں ہوتا اور نہ صرف علم کے حصول میں مخلص نہیں ہوتے بلکہ ان کے دماغ میں بری نیتیں فتور کر رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف جلب کرنے، لوگوں میں محبوب بننے اور لوگوں میں مقام و شہرت پانے کے لئے علم حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح کا شخص شروع ہی سے انحراف اور تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔ آخرکار ذلت و خواری کے دلدل میں پھنس جاتا ہے ایسا شخص قیامت کے دن جنّت کی خوشبو سے محروم رہے گا۔
ہوسکتا ہے وہ شخص جو دنیاوی علوم کو مقام و منصب یا روزی حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دے تو مورد ملامت اور مذمت قرار نہ پائے لیکن وہ جو دینی علوم کو جو کہ سعادت اخروی حاصل کرنے کے لئے قرار دیئے گئے ہیں دنیا حاصل کرنے کے لئے استعمال کرے تو اسے مورد ملامت و مذمت قرار دینا چاہیئے۔ اس کی اس حرکت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیاکی شان و منزلت دین سے زیادہ ہے، دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے نزدیک دین کے مقابلے میں دنیا سب کچھ ہے۔ اس طرح کی سوچ دینی اصول اور فروعات کے معتقد نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ بالآخر اس کا انجام خدا سے دوری کے سوا کچھ نہیں، جیساکہ پیغمبرﷺ نے فرمایا:

”مَنِ ازْدٰادَ فیٖ الْعِلْمِ رُشْداً فَلَمْ یَزْدِدْ فٖی الدُّنْیٰا زُہْداً لَمْ یَزْدِدْ مِنَ اللهِ إِلاَّ بُعْداً“ (بحارالانوار ج ۲ ص ۳۷)

جس کسی کے علم میں اضافہ ہو مگر اس کی دنیا سے دوری میں اضافہ نہ ہو تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ خدا سے مزید دور ہوا۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست