تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ

دنیا ایک وسیلہ ہے

حضورﷺ حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

”یٰااَباذَرٍّ: کُنْ کَاَنَّکَ فِی الدُّنْیَا غَرِیْبٌ اَوْ کَعٰابِرِ سَبیٖلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُورِ۔“

”اے ابوذر دنیا میں ایک اجنبی یا ایک راہگذر کے مانند زندگی بسر کرو، اور اپنے آپ کو مردوں کی طرح سمجھو۔“

پیغمبرﷺ نصیحت فرماتے ہیں کہ دنیا میں اس اجنبی کے مانند رہو جو کسی شہر میں نیا وارد ہوتا ہے۔ اسے دیکھو جس کا اس شہر میں کوئی جان پہچان کا نہیں ہے کس طرح رہتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کا اس شہر میں کوئی نہیں کیازندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہوسکتا ہے؟ مؤمن کا وطن آخرت ہے اور وہ دنیا میں صرف ایک مسافر اور راہگذر کی طرح ہے۔ لہذا اس فکر میں نہیں رہتا کہ اپنے لئے سازوسامان جمع کرے اور عیاشی میں پڑے۔ اسی طرح پیغمبرﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا میں اس مسافر اور راہگذر کے مانند رہو جو ایک ایسے راستے سے گزر رہا ہے کہ جہاں قیام اور ٹہرنے کی اجازت نہیں۔
ممکن ہے اس طرح کے جملوں سے کوئی غلط فہمی کا شکار ہوجائے اور یہ سوچے کہ دوسروں سے دوری اختیار کرنی چاہیئے اور گھربار کے لئے نہیں سوچنا چاہیئے، دنیا کی نعمتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے اور صرف و صرف آخرت کے بارے میں سوچنا چاہیئے کیونکہ وہی انسان کی ابدی قیام گاہ ہے۔ لیکن ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ اس طرح کی سوچ اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ بہت ممکن ہے کہ دوست ویار بنانا، گھربار تشکیل دینا، اور مال جمع کرنا وغیرہ یہ سب آخرت کے خاطر ہو، اور اس دنیا کی خاطر انسان ان چیزوں کی طرف تمایل نہ رکھتا ہو بلکہ ان چیزوں کی طرف توجہ آخرت کے شوق میں ہو اور امر خدا کی اطاعت میں ہو کیونکہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے دنیا سے گذر کر اور دنیاوی امکانات اور لذتوں سے استفادہ اٹھا کر ہی اخروی کمالات اور قرب خدا کو پاسکتے ہیں۔
حقیقت میں جس نے آخرت کو اپنا مقصد بنالیا اس نے دنیا کو صرف وسیلہ قرار دیا ہے۔ اب اگر کوئی دنیا سے چشم پوشی نہیں کرسکتا اور دنیا کو آخرت کے لئے وسیلہ قرار نہیں دے سکتا تو کم از کم ایک مسافر کی طرح رہے جو آرام اور قوت پانے کے لئے تھوڑا سا قیام کرتا ہے اورپھر سفر کو نکل پڑتا ہے جیساکہ امام موسیٰ کاظم نے اس مطلب کو مدنظر رکھتے ہوئے نصیحت فرمائی ہے:

”اپنے اوقات میں سے کچھ وقت حلال لذتوں سے استفادے کے لئے مخصوص کردو“۔

عبارت: ”وَ عُدَّ نَفْسَکَ مِنْ اَصْحَابِ الْقَبُورِ“ بلندترین تعبیر ہے جسے پیغمبرﷺ نے اس حدیث میں استعمال کیا ہے۔ ممکن ہے اس سے بھی غلط مفہوم لیا جائے وہ اس طرح کہ جب حضورﷺ فرماتےہیں کہ اپنے آپ کو مُردوں میں سے سمجھو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مُردے ضروری نعمتوں سے جیسے کھانے پینے سے محروم ہیں تم بھی دنیا اور دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی اختیار کرو بلکہ اس عبارت سے حضورﷺ کی مراد یہ ہے کہ اپنی ابدی منزل کی طرف توجہ کرو۔ جب دنیا کی زندگی آخرت کے لئے گذرگاہ اور پُل کی حیثیت رکھتی ہے تو تمہیں اصل مقصد کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور ابدی منزل کی طرف نگاہ ہونی چاہیئے۔ تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اپنے آپ کو اس روز کے لئے تیار کرو۔ اور زادِ راہ کے لئے اتنا کچھ ہو کہ وہاں پہنچ کر شرمندہ نہ ہونا پڑے اور شرم کے مارے سر نہ جھک جائے۔ تو پیغمبرﷺ کی مراد یہ نہیں کہ سرے سے ہی دنیا کو ترک کردو اور اپنے اور اپنے بچوں کے رہن سہن اور آسائش کے لئے نہ سوچو۔
آیات اور روایات سے غلط مفہوم لینا مسلمانوں کا پرانا شیوہ رہا ہے۔ جیساکہ پیغمبرﷺ کے زمانے میں جب عذاب کی آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ کے بعض اصحاب نے گھربار کھانا پینا اور زوجہ کے ساتھ معاشرت کو چھوڑ دیا اور عبادت میں مشغول ہوگئے جب حضور کو اس بات کی اطلاع ملی تو ان صحابیوں کو بلوا بھیجا اور فرمایا: ”اس طرح کیوں کررہے ہو میں جو کہ تمہارا پیغمبرﷺ ہوں عبادت اور روزے کے ساتھ ساتھ اپنی ازواج کے ساتھ معاشرت رکھتا ہوں اور دنیاوی لذتوں سے استفادہ کرتا ہوں تم بھی اس میں میری پیروی کرو اور اپنے گھر بار کو ترک نہ کرو۔
گذشتہ مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نکتہ کا ذکر ضروری ہے کہ ہوسکتا ہے کوئی شخص دنیا میں زندگی کے مادی وسائل سے بہرہ مند ہو لیکن پھر بھی دنیا طلب نہ ہو کیونکہ ایسا کیا جاسکتا ہے کہ تمام مادی امور کو وسیلہ کے طور پر راہ حق کو پانے کے لئے کام میں لایا جائے اور اس بات پر بھی توجہ کرنی چاہیئے کہ جب بات دنیا کی مذمت کی آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ دنیا کی طبیعی اورمادی نعمتوں کو ہم نظرانداز کردیں اور انہیں حساب میں نہ لائیں۔ کیونکہ یہ سب خدا کی خلق کردہ ہیں اورالله کی نشانیاں ہیں۔ اور مذمت تو انسان کی نیت اورا س کے دیکھنے کے انداز پر ہے اگر دنیا اور اس کی نعمتوں سے وابستہ ہوجاتا ہے اور اسے اپنا اصل مقصد بنالیتا ہے اور اس کے وسیلہ ہونے کی حیثیت سے غافل ہوجائے۔ پس حقیقت میں انسان کی نیت اور اس کے مادی وسائل سے غلط استفادہ پر مذمت کی گئی ہے۔
علی پیغمبرﷺ کی تعریف میں فرماتے ہیں:

”…فَاَعْرَضَ عَنِ الدُّنْیَا بِقَلْبِہِ وَ اَمَاتَ ذِکْرَہَا عَنْ نَفْسِہِ“ (نہج البلاغہ فیض الاسلام خ ۱۰۸ ص ۲۹۴)

” پیغمبرﷺ دنیا کی طرف رغبت نہ رکھتے تھے اور اس کی یاد کو اپنے نفس سے نکال چکے تھے۔“

رسولخدا حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

”یٰا اَبَاذَرٍّ، اِذٰا اَصْبَحْتَ فَلاٰ تُحَدِّثْ نَفْسَکَ بِالْمَسٰاءِ وَ اِذٰا اَمْسَیْتَ فَلاٰتُحَدِّتْ نَفْسَکَ بِالصَّبٰاحِ“

”اے ابوذر جب صبح کرو تو اپنے نفس کو شام کی امید مت دلاؤ اور رات کے وقت اپنے آپ کو صبح کی امید نہ دلاؤ۔“

یہ جملہ گذشتہ مطالب کی تاکید کرتا ہے کہ کوئی بھی اپنے مستقبل پر مطمئن نہیں رہ سکتا ہے۔
اس کے بعد آپ فرماتے ہیں:

”وَ خُذْ مِنْ صِحَّتِکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَ مِنْ حَیٰوتِکَ قَبْلَ مَوْتِکَ لِاَنَّکَ لاَ تَدْریٖ مَا اسْمُکَ“

”اپنی صحت کو غنیمت جانو اس سے پہلے کہ بیمار پڑجاؤ اور اپنی زندگی سے، اس سے پہلے کہ تمہیں موت تم پر آجائے فائدہ اٹھالو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا کیا انجام ہوگا۔“

پیغمبرﷺ اپنی حدیث کے اس حصہ میں نصیحت فرماتے ہیں کہ فرصت سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور اپنی آج کی زندگی کو غنیمت جانو کیونکہ تمہیں کچھ نہیں معلوم کہ کل زندہ رہوگے یا نہیں؟ اسی طرح جب تک بیمار نہیں ہو صحت و تندرستی سے فائدہ اٹھاؤ۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست اگلا عنوان