تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ

موت کے بارے میں سوچنا بلند و بالا آرزؤوں کے خاتمہ کا سبب ہے

”یَااَباَذَرٍّ: لَوْ نَظَرْتَ اِلَی الْاَجَلٍ وَ مَسیٖرِہِ لَاَبْغَضْتَ الْاَمَلَ وَغُرُورَہُ“

اے ابوذر اگر تم موت اور اس کی راہ میں آنے والے مسائل کو دیکھ لو تو خواہشوں اوراس کی دھوکے بازیوں سے نفرت کرنے لگو گے۔

خواہشوں اور اس کی دھوکے بازیوں سے مقابلے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ ہمیشہ اپنی موت کی فکر میں رہو اور یہ جان لو کہ موت ہی ہے جو بڑی آرزؤں کو خاک میں ملا دیتی ہے اور انسان کو ناامیدی کی حالت میں ایک عالم سے دوسرے عالم میں لے جاتی ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں:

”وَمَنِ اسْتَشْعَرَ الشَّعَفَ بِہٰا، مَلَأَتْ ضَمیٖرَہُ اَشْجٰاناً، لَہُنَّ رَقْصٌ عَلٰی سُوَیْدَاءِ قَلْبِہِ۔ ہَمٌّ یَشْغَلُہُ وَ غَمٌ یَحْزُنُہُ، کَذٰلِکَ حَتّٰی یُؤْخَذَ بِکَظْمِہِ فَیُلْقٰی بِالفَضٰاءِ“ (نہج البلاغہ، فیض الاسلام، حکمت ۳۵۹، ص ۱۲۵۶)

جس کے دل میں دنیا کی محبت بیٹھ گئی اس کا باطن غم و غصہ سے بھر جاتا ہے اور یہ غم و غصہ اس کے دل میں رہتا ہے۔ مسلسل پریشانی اور تکلیف دہ غم اسی طرح دل میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ایک اور جگہ پر حضرت علیفرماتے ہیں:

”…وَ منْ عِبَرِہٰا اَنَّ الْمَرْءَ یُشْرِفُ عَلٰی اَمَلِہِ، فَیَقْتَطِعُہُ حَضُورُ اَجَلِہِ، فَلا اَمَلٌ یُدْرَکُ وَ لامُؤَمَّلٌ یُتْرَکُ…“ (نہج البلاغہ، خطبہ ۳۵۹، ص ۳۵۳)

دنیا کی عبرتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جب انسان چاہتا ہے کہ اپنی خواہش کو پالے تو موت کا آنا اسے ناامید کردیتا ہے اس طرح وہ نہ اپنی آرزو کو پہنچ پاتا ہے اور نہ ہی موت کے پنجوں سے نکل پاتا ہے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست