تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ

وظائف و ذمہ داری کو بموقع انجام دینا

پیغمبر(ص) تسویف سے پرہیز کے سلسلے میں اپنی فرمائشات کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

”فَاِنَّکَ بِیَوْمِکَ وَ لَسْتَ بِمَا بَعْدَہُ“

کیونکہ تمہارے پاس اب صرف آج کا دن ہے اور کل تمہارے ساتھ نہیں۔

حضورﷺ ابوذر کو نصیحت کرتے ہیں کہ آج کے کام کو کل پر نہ ڈالو۔ کیونکہ آنے والے کل کا کچھ پتہ نہیں، بالفرض اگاُکل آبھی جائے تو تمہارے ذمہ اس روز کے اپنے وظائف اور فرائض ہیں۔ اگر آج اپنے وظیفہ پر عمل کرلیا توکل کے نہ آنے سے پشیمانی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ لیکن اگر اپنے فرائض کو تاخیر میں ڈال دیا اور کل نہ آئی تو اس کی حسرت و پشیمانی دوسرے عالم تک ساتھ ساتھ جائے گی۔
لہذا اسی لحظہ سوچیں اور اسے غنیمت جانیں اور کاموں کو تاخیر میں ڈالنے سے پرہیز کریں۔ مطالعہ اور تحقیق کے وقت اپنے آپ سے یہ نہ کہیں کہ وقت بہت ہے کل کرلیں گے، کیونکہ کل کے خود اپنے فرائض و وظائف ہیں۔

”فَاِنْ یَکُنْ غَدٌ لَکَ فَکُنْ فِی الْغَدِ کَمٰا کُنْتَ فِی الْیَوْمِ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ غَدٌ لَکَ لَمْ تَنْدَمْ عَلٰی مٰا فَرَّطْتَ فِی الْیَوْمِ“

اگر تمہارے پاس کل ہو تو اس میں بھی آج کی طرح وظائف کی انجام دہی میں رہو اور اگر کل نہ ہوئی تو آج کی کمی پر پشیمان نہ ہوگے۔

ممکن ہے کوئی باوجود اس کے کہ اپنے روزانہ کے فرائض و ذمہ داریاں انجام دیتا ہو لیکن اس بات پر اس سے زیادہ انجام نہ دے سکا شرمندگی کا احساس کرے تو اس کی اطلاع کے لئے یہ عرض ہے کہ انسان کی توان و قدرت محدود ہے اور یہ جو کچھ اس نے اپنی توان و قدرت کے مطابق وظیفہ انجام دیا اس کے لئے کافی ہے۔
حضورﷺ اپنے گذشتہ مطلب کو مکمل کرتے ہوئے اور اس پر تاکید کرتے ہوئے کہ کل کے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیئے فرماتے ہیں:

”یٰااَبَاذَرٍّ: کَمْ مِنْ مُسْتَقْبِلٍ یَوْماً لاٰیَسْتَکْمِلُہُ وَ مُنْتَظِرٍ غَداً لاٰیَبْلُغُہُ“

اے ابوذر کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو اس دن کی شام کو نہیں دیکھ پائیں گے اور کتنے ایسے ہیں جو کل کے انتظار میں ہیں لیکن کل کو نہیں پہنچ پائیں گے۔

ذرا دیکھیں پیغمبرﷺ کس طرح اپنی تربیتی باتوں میں سامنے والے کے ذہن کو تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی عمر کے لمحات سے بہترین فائدہ اٹھا سکے۔ سب سے پہلے اسے یہ سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں کہ کس حد تک آئندہ سے امیدوار رہا جاسکتا ہے تاکہ کام کو اس حد تک کل پر چھوڑا جاسکے۔ اگر اپنے آنے والے دنوں سے زیادہ مطمئن نہیں ہے تو کام کو آئندہ پر کیوں چھوڑے۔ اول ظہر ہے اور نماز کا وقت، وہ کیسے مطمئن ہے جو نماز کو ایک گھنٹے کے لئے تاخیر میں ڈال رہا ہے۔ لازمی بات ہے کہ اگر نماز کو اول وقت میں پڑھ لے تو بعد میں شرمندگی اٹھانی نہیں پڑے گی اس کے علاوہ اپنے دوسرے کاموں کو بھی انجام دے سکے گا۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست