تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ
دنیا سے دوری اور آخرت کوا صل مقصد قرار دینا
مادی اور دنیاوی امور کو بنیاد بنانا یا نہ بنانا ہر لحاظ سے ایک نازک اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس کا اندازہ کسی کے کہنے سے نہیں لگایا جاسکتا بلکہ اس کا تعلق اشخاص کی باطنی نیت سے ہے۔ نمونہ کے طور پر اگر کھانا لطف اندوز ہونے کے لئے کھائے تو یہاں اس نے مادیّت کو بنیاد قرار دیا ہے اگرچہ زبان سے اس کا انکار کرے۔ اکر اس کی نیت یہ ہو کہ کھانے کے مزے سے لطف اندوز ہونے کے ذریعہ خدا کا شکر ادا کرے تو یہاں پر اس نے آخرت کو اساس قرار دیا ہے کیونکہ اس کا ہدف و مقصد خدا کی شکر گزاری ہے۔ قرآن مجید میں کچھ نعمتوں کے ذکر کے بعد خدا کی بارگاہ میں شکر گزاری کو نعمتوں سے استفادے کا ہدف اور مقصد بیان کیا گیا ہے۔ پس ہدف و مقصد شکرگزاری ہے اور یہ اس وقت ہے کہ جب تمام مادی امور خدائی رنگ میں ڈھل جائیں۔ اکثر لوگ اپنی معنویت کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس قدر مادی لذتوں سے وابستہ ہوجاتے ہیں کہ ان کے نزدیک مادیت اور مادی لذتوں کے علاوہ کوئی اور ہدف ہو ہی نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کو اخروی امور کو ہدف بنانے اور معنوی مراحل تک پہنچنے کے لئے ایک مربی کی ضرورت ہے کیونکہ ممکن ہے اعتدال سے باہر ہوجائے اور افراط و تفریط کا شکار ہوجائے۔
وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ تکامل نفس اور تہذیب نفس پر کام کریں اور دنیاوی خواہشات اور مادی لذتوں میں کمی کریں، انہیں چاہیئے اپنی سوچ میں اخروی لذتوں کی برتری اور رجحان کو استوار بنائیں۔ دنیاوی لذتوں سے چشم پوشی کے لئے اپنے آپ کو اس بات کی تلقین کریں کہ معنوی اور اخروی لذتوں کے مقابلے میں مادی لذتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ اسی وجہ سے پیغمبرﷺ اور آئمہ معصومین اپنے ارشادات میں لوگوں کو دنیا پر آخرت کو ترجیح دلاتے ہوئے نظر آتے ہیں نہ یہ کہ دنیا کو ترک کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہوں۔ کیونکہ اگر انسان دنیا کو آخرت کا پیش خیمہ سمجھے تو نہ صرف یہ کہ دنیا طلب نہیں ہے بلکہ اسے آخرت طلب کہا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات مباح چیزوں کا استعمال خود حرام سے بچاؤ کے لئے مقدمہ بن جاتا ہے اور اس لحاظ سے عبادت شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی کبھی تو مباحات سے بہرہ مند ہونا اعلی وظائف کے انجام میں تیاری اور ترقی کا باعث ہوتا ہے۔
دن کے گھنٹوں کی تقسیم کے بارے میں حضرت امام موسیٰ بن جعفر فرماتے ہیں:
”ایک گھنٹے کو حلال لذتوں سے استفادے کے لئے مخصوص کردو کیونکہ حلال لذتوں سے استفادے کے سبب ہی دوسرے وظائف کے انجام کے لئے قوت حاصل کرسکتے ہو۔“
ہم پہلے بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پیغمبرﷺ جملہ ”اِیَّاکَ وَالتَّسْوِیْف“ میں اس بات کی طرف اشارہ فرما چکے ہیں کہ تسویف کے وجود میں آنے کا سبب انسان کی تمنائیں ہیں لذتوں کے حصول میں جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مسلسل اپنی دنیاوی لذتوں تک پہنچنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ اور یہ دینی وظائف کے انجام میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ امر دو صورتوں سے خارج نہیں ایک تو یہ کہ فرصت کو جلد حاصل ہوجانے والی مادی لذتوں میں لگا دے یا پھر آخرت کے اچھے نتائج کے حصول میں۔ جیساکہ دنیا کو نقد اور جلد ملنے والی دیکھتا ہے اس لئے اپنے وقت کو پہلی والی صورت کے حصول میں استعمال کرتا ہے توحقیقت میں دنیا پر اس کا ایمان آخرت پر ایمان سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے زودگزر اور وقتی لذت اس کے لئے آخرت کی پائیدار لذت پر ترجیح رکھتی ہے۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ایک قسم کے شرک میں مبتلاء ہیں کیونکہ ہم میں دنیا پر آخرت کی برتری کا ایمان نہیں۔
”وَمٰا یُوْمِنُ اَکْثَرَہُمْ بِاللهِ اِلاَّ وَ ہُمْ مُشْرِکُونَ“ (سورہ یوسف، آیت ۱۰۶)
”اور ان میں سے زیادہ تر الله پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ لوگ مشرک ہیں۔“
اگر انسان کوئی کام غیرخدا کے لئے انجام دیتا ہے اب چاہیئے وہ کام ثواب آخرت کو حاصل کرنے کے لئے ہی ہوتب بھی اس نے شرک کیا ہے۔ الله کی خالص وحدانیت میں الله کے سواء کوئی مقصود و منظور نہیں یہاں تک کہ جہنّم سے خوف اور جنّت کا شوق مقصد و منظور نہیں ہے جیساکہ حضرت علی… فرماتے ہیں:
”اِلٰہی مٰا عَبَدْتُکَ خَوْفاً مِنْ عِقٰابِکَ وَ لاٰطَعَماً فِی ثَوٰابِکَ وَ لٰکِنْ وَجَدْتُکَ اَہْلاً لِلْعِبٰادَةِ فَعَبَدْتُکَ“ (بحارالانوار، جلد ۴۱، صفحہ ۱۴)
”اے میرے پروردگار میری عبادت نہ جہنّم کے خوف سے ہے اور نہ ہی جنّت کی لالچ میں بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ تجھے عبادت کے لائق جانا“۔
لمبی لمبی آرزوئیں انسان کی سعادت کے لئے خطرہ ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت علی کو اس بات کا زیادہ خوف تھا کہ کہیں لوگ لمبی لمبی آرزؤں کا شکار نہ ہوجائیں اور خدا کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داریوں کو اپنی خواہشات پر فدا کردیں۔ لہذا حضرت علی فرماتے ہیں:
”وَ اِنَّ اَخْوَفَ مٰا اَخٰافُ عَلَیْکُمْ اِثْنٰانُ: اِتْبٰاعُ الْہَویٰ وَ طُولُ الآْمَلِ، لِاَنَّ اِتْبٰاعَ الْھَویٰ یَصُّدُ الْحَقَّ وَ طُوْلَ الْاَمَلِ یُنْسِی الآْخِرَةَ“(بحارالانوار جلد ۷۷ صفحہ ۴۱۹)
”مجھے تم میں زیادہ تر دو چیزوں کا خوف ہے: ایک تو ہوا و ہوس کی پیروی، اور دوسرا لمبی آرزوئیں کیونکہ ہوا و ہوس کی پیروی حق کے مانع ہے۔اور لمبی آرزوئیں آخرت کو بھول جانے کا باعث ہوتی ہیں۔“
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |