تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ
دنیا سے دوری اور اس کی غلط تفسیریں
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہت سی روایات اور آیات میں کچھ ایسے مطالب ذکر ہوئے ہیں جن کی مختلف تفسیریں کی جاسکتی ہیں اور کبھی متضاد بھی ہوسکتی ہیں۔ لہذا ان کی تفسیر میں دینی مہارت اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے موارد میں غلط اور نادرست احتمال کے اخذ کا بہت زیادہ امکان ہے۔ نمونہ کے طورپر، بہت سی آیتیں اور روایتیں دنیا اور اس کی مذمت یا پھر دنیا سے دوری اور اس سے کنارہ کشی پر تعریف سے متعلق وارد ہوئی ہیں جن سے مختلف اور کبھی متضاد معنی لئے گئے ہیں۔ ان تفسیروں میں سے ایک تفسیر صوفیانہ تفسیر ہے جو کہ اسلام کے مسلّم معارف اور دیگر جوانب کو مدنظر رکھے بغیر کی جاتی ہے۔ صوفیانہ تفسیر میں یہ ہے کہ انسان کو چاہیئے کہ دنیا کو ترک کردے اور معاشرے سے کٹ کر الله کی عبادت میں مشغول رہے یا پھر جانوروں سے انسیت حاصل کرے۔ اس صورت میں یہ تفسیر آیات و روایات اور دین کے قطعی اصول کے خلاف ہے۔
اگر اپنے میں منزوی ہوجانا اور ترک دنیا ہی سب کچھ ہے تو پھر دین کی معاشرتی ذمہ داریاں مثال کے طور پر انفاق، ظلم کے ساتھ مبارزہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور حکومت اسلامی کی برقراری کے لئے کوشش جو اسلام کی مسلم ضرورتوں میں سے ہیں ان کا کیا ہوگا اور یہ کہاں تحقق پائیں گے؟ کیا تنہائی اور خلوت میں این وظائف کو انجام دیا جاسکتا ہے؟ پس ایک معارف دینی کے استنباط کے لئے تمام دینی معارف میں تفقہ اور سمجھ بوجھ کے ساتھ ساتھ تمام جوانب و اطراف پر توجہ لازم ہے۔
اس طرح کی غلط تفسیر کے جواب میں کہنا چاہیئے کہ اگر طلب دنیا کو زندگی کا مقصد و ہدف سمجھا جائے تو مذموم ہے لیکن اگر دنیا کمال اخروی تک پہنچنے کے لئے وسیلہ ہو تو نہ صرف مذموم نہیں ہے بلکہ قابل تعریف اور ستائش بھی ہے۔ دنیا کو وسیلہ قرار دینے کے مراتب ہیں جن میں سے کچھ مراتب لازم ہیں اور بعض مراتب کمالات کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ طلب دنیا کی لازم حد یہ ہے کہ دنیا کی لذتوں سے استفادہ اور دنیوی امور میں پڑنا واجب کے ترک اور حرام کے ارتکاب کا باعث نہ ہو۔ دنیا طلبی میں وہ دنیا طلبی حرام ہے جو کہ گناہ کے ارتکاب اور کسی واجب کے ترککا سبب بنے۔ اس طرح کی دنیا طلبی اگر انسان میں ایک بری عادت کی صورت میں رس بس گئی تو اس کے ساتھ مبارزہ واجب ہے۔
اسلام کی نظر میں آئیڈیل انسان وہ ہے جو کسی بھی صورت میں دنیوی امور کو ہدف و مقصد قرار نہ دے اور دنیا کے کسی بھی کام کو اگرچہ مباح ہی کیوں نہ ہو مادی لذتوں تک پہنچنے کے لئے انجام نہ دے۔ وہ لوگ جو دور اندیش ہیں اس مرتبہ کو جو کہ انسان کا بلندترین مرتبہ ہے پہنچے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس طرح عمل انجام دیتے ہیں کہ ان کے تمام اعمال و گفتار حتی سانس لینا بھی عبادت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے تمام اعمال و حرکات منجملہ کھانا کھانا، ورزش کرنا یہاں تک کہ حلال جنسی لذتیں بھی اخروی امور کے لئے مقدمہ ہیں۔ اسی وجہ سے واجب یا مستحب عبادت سمجھی جاتی ہیں۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |