تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ
سستی کے مراتب
تسویف کا پہلا مرحلہ:
تسویف کا سب سے پہلا مرحلہ دنیا کے کاموں میں آرام طلبی اور سستی ہے جو کہ سبب بنتی ہے کہ انسان اپنے کاموں کو تاخیر میں ڈالے۔ اس بری عادت کا عقیدتی مسائل سے کوئی تعلق نہیں اور جس طرح مؤمن اس میں مبتلا ہوجاتا ہے ممکن ہے کافر بھی اس کا شکار ہوجائے کیونکہ کافر بھی کبھی کبھی اپنے دنیاوی کاموں میں سستی اور لاپروائی دکھاتے ہیں۔ یہ عادت اور صفت جو کہ اس بات کا سبب بن جاتی ہے کہ انسان اپنے کاموں کو پیچھے ڈالے، مؤمن اور کافر کے لئے ایک بری صفت کی حیثیت سے قلمبند کی جاتی ہے۔ خاص طور پر مؤمن شخص اگر عادت بنا لیتا ہے اور اپنے کاموں کو موقع پر انجام نہیں دیتا تو دھیرے دھیرے اس خاصیت پر ملکہ حاصل ہوجاتا ہے جوکہ اس کے دینی مسائل میں بھی سرایت کرجاتا ہے اور اس بات کا باعث بنتی ہے کہ وہ اپنے دینی وظائف کو بھی وقت پر انجام نہیں دیتا۔ اس لحاظ سے اس کے ساتھ مقابلہ کیا جائے کیونکہ اگر انسان نے دنیوی کاموں میں سستی دکھائی تو آہستہ آہستہ یہ خصوصیت اس کی عادت بن جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان اخروی کاموں میں بھی سہل انگاری اور لاپرواہی کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے۔
تسویف کا دوسرا مرحلہ:
وظائف و واجبات کی انجام دہی میں سہل انگاری ہے اور یہ واجبات کی تین طرح کی تقسیم کی بنیاد پر تین قسم میں تقسیم ہوجاتی ہے۔
۱۔ واجب مُوَسّع کی انجام دہی میں لاپرواہی اور سہل انگاری۔ مثال کے طور پر پنجگانہ نمازیں، ان میں ہر ایک کے درمیان میں اور ہر ایک نماز کے لئے وسیع مدت رکھی گئی ہے۔ بعض لوگ ان نمازوں کو ادا کرنے میں سستی اورغفلت برتتے ہیں اور مسلسل ٹالتے رہتے ہیں اور آخری لحظات میں انجام دیتے ہیں مانا کہ یہ غفلت اور سہل انگاری حرام نہیں لیکن اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
۲۔ اُن واجبات میں سستی اور سہل انگاری کہ جنہیں فوراً انجام دینا چاہیئے۔ فوری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلی فرصت میں انجام دے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پہلی فرصت میں ترک ہوگیا تو دوسری فرصت میں انجام دے اسی طرح تیسری فرصت میں انجام دے۔ مثال کے طور پر توبہ کا واجب ہونا جوکہ پہلی فرصت میں واجب ہے کہ انجام دیا جائے اور تاخیر میں ڈالنا حرام ہے۔ اگر تاخیر ہوگئی ایسا نہیں ہے کہ اس کا فوری واجب ہونا ساقط ہوجائے۔
۳۔ کم وقت والے واجبات کی انجام دہی میں سستی اور کاہلی۔ مثال کے طور پر ہر روزہ جو کہ ایک محدود وقت رکھتا ہے۔ بعض لوگ ان واجبات کی بروقت انجام دہی سے آنا کانی کرتے ہیں اور اپنے آپ سے کہتے ہیں بعد میں اس کی قضا بجالائیں گے۔ اگرچہ اس طرح کے افراد کا گناہ ان لوگوں کی نسبت جو کہ ان واجبات کی قضا کی بھی بجا آوری کا ارادہ نہیں رکھتے کمتر ہے لیکن اِن کا یہ عمل حرام ہے۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |