تیسرا درس:حقائق زندگی کا صحیح ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ
بموقع فرصتوں سے استفادہ اور لمبی لمبی آرزوں کا پرہیز
”یَااَبَاذَرٍّ: اِیَّاکَ وَ التَّسْوِیْفَ بِاَمَلِکَ…“
”اے ابوذر ایسا نہ ہو کہ بلند آرزو ئیں تمہارے اچھے کاموں میں خلل ایجاد کردیں۔“
آپ کا یہ بیان آپ کی بات کو مکمل کرنے والا اور فرصتوں سے استفادہ اور عمر کے اوقات کو ضایع نہ کرنے پر ایک تاکید بھی ہے۔ ”تسویف“ ا ن جملہ آفات سے ہے کہ جو نیک اور شایستہ اعمال کی انجام دہی میں مانع بنتا ہے۔ اسی وجہ سے روایات میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔ تسویف کے معنی کام کو تاخیر میں ڈالنا اس امید سے کہ بعد میں انجام پاجائے گا۔ اس کیفیت کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑی اور بنیادی علت جیساکہ حدیث کے اس حصہ میں ذکر ہوئی انسان کی آرزوئیں اور امیدیں ہیں یعنی انسان کو جو کام آج انجام دینا چاہیئے انجام نہیں دیتا اس امید کے ساتھ کہ کل تک تو زندہ ہے انجام دے لے گا، جب کل آتی ہے تو پھر اگلے دن کی امید پر ڈال دیتا ہے اور اس طرح اگلے مہینے اور پھر اگلے سال پر کام کو ڈالتا چلا جاتا ہے۔ حضورﷺفرماتے ہیں: اگر چاہتے ہو تمہارے اندر سے یہ خصوصیت اور کیفیت دور ہوجائے تو اس طرح خیال کرو کہ بس آج کا دن اور یہی گھنٹہ اور یہی لمحہ تمہارے پاس ہے اس کے بعد زندگی کرنے کی فرصت تمہارے پاس نہیں رہے گی۔
”تسویف“ کا مفہوم دوسرے اخلاقی مفاہیم کی طرح خواہ وہ فضائل اخلاقی سے ہوں یا رذائل اخلاقی سے ایک مراتب دار مفاہیم سے ہے۔ یہ مراتب دار مفاہیم اپنے مختلف افراد کی نسبت مؤمن سے لیکر غیرمؤمن تک حتی ایمان کے مراحل کی نسبت مختلف ہیں۔ اس کے بعض مراتب عام واجب ہیں اور بعض واجب مؤکد ہیں اور بعض عام مستحب اور دیگر مستحب مؤکد۔ کبھی بعض مراتب اس قدر عمیق ہیں کہ عام لوگوں کے لئے ان کا تصور ممکن نہیں۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |