دوسرا درس:اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ

دنیا کی زندگی، ترقی و بلندی کے انتخاب کی جگہ

”وَ حَیوٰاتِکَ قَبْلَ مَوْتِکَ“

پانچواں یہ کہ زندگی کی نعمت کو موت کے آنے سے پہلے غنیمت جانو۔

زندگی ایک ایسی نعمت ہے جو عام اور بہت پھیلی ہوئی ہے اسی لئے اسے دوسری نعمتوں کے بعد بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسری نعمتیں زندگی کی نعمت سے وابستہ ہیں۔ اگر زندگی نہ ہوتی تو دوسری نعمتوں کے لئے مقام ہی باقی نہ رہتا۔ اس طرح تمام نعمتوں کی بنیاد اور جڑ دنیا کی زندگی ہے جو کہ خدا کی طرف سے بندوں کو عطا کی گئی ہے۔ مرنے کے بعد اگرچہ انسان آخرت کی زندگی کی نعمت سے بہرہ مند ہے لیکن عمل کی قدرت، اختیار و انتخاب اور فیصلے کی آزادی اس سے سلب ہوجاتی ہے۔ اُس وقت انسان گذشتہ زندگی اور فرصت کے نکل جانے اور اپنے غلط انتخاب پر حسرت کرتا ہے، اور گذشتہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے دنیا میں پلٹنے کی درخواست کرتا ہے لیکن کیا فائدہ کیونکہ اب اس کی درخواست قبول نہ کی جائے گی۔

”حَتّیٰ اِذَا جَاءَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ۔ لَعَلّیٖ اَعْمَلُ صٰالِحاً فِیمٰا تَرَکْتُ کَلاَّ اِنَّہٰا کَلِمَةٌ ہُوَ قٰائِلُہٰا وَ مِنْ وَرٰائِہِمْ بَرْزَخٌ اِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُونَ“ (سورہ مؤمنون، آیت ۹۹ و ۱۰۰)

جب ان میں سے کسی ایک کی موت آپہنچے گی تو کہے گا اے پروردگار مجھے دنیا میں پلٹا دے توشاید نیک عمل انجام دوں۔ یہ درخواست ہرگز قبول نہ کی جائے یہ تو وہ بات ہے جو کہ حسرت کی وجہ سے وہ کہہ رہا ہے اور ان کی پشت پر برزخ ہے جہاں وہ تاقیامت رہیں گے۔

بعض بزرگ کہا کرتے تھے کہ جب سونے جاؤ تو یہ خیال رکھو کہ شاید اس سونے کے بعد نہ اٹھ سکو اور اسی حال میں ملک الموت تمہاری روح کو قبض کرلے۔ کیونکہ قرآن فرماتا ہے:

”اللهُ یَتَوَفَّی الْأَنْفُسَ حیٖنَ مَوْتِہٰا وَ الَّتیٖ لَمْ تَمُتْ فِی مَنٰامِہٰا …“ (سورہ زمر،آیت ۴۲)

خدا ہے جو موت کے وقت بندوں کی روح کو قبض کرلیتا ہے اور جس کو اب تک موت نہیں آئی ہے سوتی حالت میں اس کی روح کو قبض کرلیتا ہے۔

سوتے وقت روح بدن سے تقریباً الگ ہوجاتی ہے اوراگر انسان کی موت کا وقت آپہنچا تو مکمل طور سے اس کا تعلق بدن سے ختم ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے الله تعالی اسی آیت کے ادامہ میں فرماتا ہے:

”فَیُمْسِکُ الّتیٖ عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الاُخْرٰی اِلیٰ اَجَلٍ مُسَمّیَ…“

اس کے بعد جس کوموت کا حکم دے دیا گیا اس کی روح کو روک دیا جاتا ہے اور جس کی موت کا حکم نہیں دیا گیا (اس کی روح کو) اس کے بدن میں پلٹا دیا جاتا ہے۔اس وقت تک کے لئے کہ جب اس کی موت آپہنچے۔

واقعیت یہ ہے کہ انسان نیند کی حالت میں موت کے آدھے راستہ کو طے کرچکا ہوتا ہے اسی لئے تاکید کی گئی ہے کہ سوتے وقت سمجھ لو کہ روح بدن سے الگ ہونے کے بعد دوبارہ اس میں نہیں پلٹے گی اور جب نیند سے اٹھو تو خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے دوبارہ تمہارے بدن میں تمہاری روح کو پلٹا دیا اور مرنے کے بعد پھر سے تمہیں زندگی عطا کی ہے۔ بعبارت دیگر فرض کریں آپ عالم برزخ گئے ہوئے ہیں اور آپ کے نامناسب اعمال آشکار ہوگئے ہیں اور آپ سے اس پر پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ اس وقت آپ الله کے مقرب فرشتہ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کو دنیا میں دوبارہ پلٹا دیا جائے۔ آپ کی یہ درخواست قبول کرلی جاتی ہے اور وہ آپ کو اس کی اجازت دے دیتے ہیں۔ اب جبکہ دنیا میں پلٹ آئے ہو اور دوبارہ عمل کا موقع ملا ہے کیا کروگے اور کس طرح زندگی گزارو گے؟ اس دوبارہ ملنے والی فرصت کی قدروقیمت کو جان لیں اور اسکے ہر لحظہ کو غنیمت جانیں کیونکہ ایک وہ وقت آنے والا ہے کہ جب ایک لاَ اِلَہٰ اِلاَّاللهِکے کہنے کی حسرت دلوں ہی میں رہ جائے گی بقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام:

”مَنْ قَصَّرَ فِی الْعَمَلِ أُبْتُلِیَ بِالْہَمِّ وَ لاٰحٰاجَةَ لِلّٰہِ فیٖمَنْ لَیْسَ لِلّٰہِ فِی مٰالِہِ وَ نَفْسِہِ نَصیٖبٌ“ (نہج البلاغہ، فیض الاسلام، کلمات قصار نمبر ۱۲۲، ص ۱۱۴۶)

جو کوئی بھی نیک عمل انجام دینے میں سستی کرے گا وہ غم و غصہ میں مبتلا ہوجائے گا۔ اور خدا کو اس سے کوئی سروکار نہیں جس کے مال اور جان میں خدا کے لئے کوئی حصہ نہ ہو۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست اگلا عنوان