دوسرا درس:اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ

صحت اور قوت بازو کا قدرشناس ہونا

”وَ صِحَّتِکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَ غِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ“

دوسرا یہ کہ صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو۔ تیسرا یہ کہ بے نیازی کو فقر اور تنگدستی سے پہلے غنیمت جانو۔

اگر ایک زندگی خواہ سادہ ہی کیوں نہ ہو اس کو تامین کرنے پر قدرت و طاقت رکھتے ہو اور مالی غربت نے تمہیں دوسروں کا محتاج نہ بنایا ہو تو اس سے پہلے کہخدانخواستہ فقروتنگدستی میں مبتلا ہو اور زندگی کو چلانے کے لئے دوسروں کے محتاج ہوجاؤ اس نعمت کی اہمیت کو جان لو۔ اگر اس وقت تمہارے اختیار میں زندگی کے معمولی امکانات ہیں، اور قناعت کے ذریعہ دن رات گزار سکتے ہو تو پڑھائی کو ادامہ دو اور اس کو غنیمت جانو۔ ڈرو اس روز سے کہ جب اس سادہ زندگی کو چلانے کے لئے مجبور ہوجاؤ پڑھائی کو ترک کرو اور کسی دوسرے کام و دھندے میں مصروف ہوجاؤ۔ اگر ہوسکے تو ایک زاہدانہ زندگی میں دن گزارو۔ اس فرصت سے فائدہ اٹھاؤ اور نداری اور کمی پر زیادہ سوچنے کے بجائے جو کچھ ہے اس کے بارے میں سوچو اور اس کی قدر کرو۔ تمہاری بے نیازی کا زمانہ ایک بڑی اچھی فرصت ہے دوسروں کی مدد کے لئے۔ لہذا فرصت کے نکلنے سے پہلے اور فقر و تنگدستی کے پہنچنے سے پہلے ضرورتمندوں کا ہاتھ پکڑلو۔
اس مطلب کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ ذلت بار فقر و محتاجی انسان کے شایان شان نہیں اور اس کی مذمت کی گئی ہے کیونکہ الله تعالی اپنے بندے کی ذلت کو پسند نہیں کرتا، وہ تو اس کی سربلندی اور عزت چاہتا ہے۔ لہذا جس حد تک ممکن ہو کوشش کریں دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنے کے کچھ راستے یہ ہیں:
قناعت، رکھ رکھاؤ اور اسراف (فضول خرچی) سے بچاؤ کے طریقوں کو اچھی طرح سیکھ لیں اور ان پر عمل کریں۔

”وَ فَرَاغَکَ قَبْلَ شُغَلِکَ“

چوتھا یہ کہ فرصت اور آرام جیسی نعمت کو مصروفیت اور پریشانی کے زمانے کے پہنچنے سے پہلے غنیمت جانو۔

اس سے قبل اس جملہ کے مفہوم پر گفتگو ہوچکی ہے لیکن اس نکتہ کا ذکر ضروری ہے کہ حضورﷺ کا اس عبارت سے یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں سے اتار پھینکیں یعنی معاشرتی ذمہ داریوں کو قبول نہ کریں اور بیکار رہنے کو بہتر سمجھیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے حضورﷺ کا اس جملہ سے یہ مقصد ہوسکتا ہے کہ اس سے پہلے کہ ایسی ذمہ داری کو سنبھالنے پر مجبور ہوجاؤ جو کہ نہ چاہتے ہو، اور کام تم پر لاد دیا جائے اور تمہارا اختیار سلب ہوجائے، فرصت کے موقعوں کو کہ جن میں آزادی اور اختیار سے کسی کام اور ذمہ داری کو اختیار کرسکتے ہو غنیمت جانو اور ان فرصتوں کو بہتر مشغلہ کے انتخاب کے لئے استعمال کرو۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست