دوسرا درس:اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ
جوانی کا دور ، امنگوں اور جذبوں کا زمانہ
”یاَ اَبَاذَرٍّ، اِغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ،شَبٰابَکَ قَبْلَ ہِرَمِکَ …“
اے ابوذر پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیبمت جانو: پہلی یہ کہ جوانی کو بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے غنیمت جانو…
شباب کا مختصر زمانہ جس میں انسان خوشحال اور مزے میں ہوتا ہے انسان کی عمر کا بہترین زمانہ مانا جاتا ہے۔ اور اس کا حساب و کتاب ہی الگ ہے۔ اگرچہ زندگی تمام کی تمام ایک عظیم نعمت ہے لیکن جوانی کا دور اس سے کہیں زیادہ عظیم نعمت ہے۔ اسی وجہ سے حضورﷺ شروع میں جوانی کے دور کو بیان کرتے ہیں اور آخر میں زندگی کی اصل اہمیت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں باوجود اس کے کہ عرصہٴ حیات جوانی کے دور کو بھی اپنے اندر سمائے ہوئے ہے لیکن چونکہ پیغمبرﷺ کے نزدیک جوانی کا دور ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اسی لئے اسے شروع میں بیان فرماتے ہیں۔
امام خمینی باربار فرماتے تھے:
”اے جوانوں جوانی کی اہمیت کو سمجھو“
کیونکہ جوانی جیسی نعمت ایک بہت عظیم نعمت ہے جس سے صحیح اور مناسب انداز سے استفادہ کے ذریعہ انسان ترقی کرسکتا ہے اور بلند سے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے کہ جس تک بڑھاپے میں پہنچنا مشکل ہے۔ اسی وجہ سے آئمہ کے اقوال میں بھی اس حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں امام جعفر صادق… فرماتے ہیں:
”مَنْ قَرَأَ الْقُرآنَ وَ ھُوَ شَابٌ مُؤْمِنٌ إِخْتَلَطَ الْقُرآنُ بِلَحْمِہِ وَ دَمِہِ“ (بحارالانوار، ۷جلد، ص ۳۰۵)
جوان مؤمن جب قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو قرآن اس کے خون و گوشت میں رچ بس جاتا ہے۔
جوانیکا دور حق بات کے سامنے تسلیم ہوجانے اور حق بات کو ماننے کا دور ہے۔ اس عرصہ میں انساناپنے آپ کو بناسکتا ہے اور بُری عادتوں سے اپنے آپ کو نجات دلاسکتا ہے۔ یہ عرصہٴ جوانی ہے جس میں انسان:
۔ بچپن اور بڑھاپے کی نسبت زیادہ جلدی حق کے زیر اثر قرار پاتا ہے۔
۔ سالم بدن رکھتا ہے لہذا اپنے معاشرتی وظائف کو انجام دے سکتا ہے۔
۔ جوان جسم و روح ہونے کی وجہ سے عبادت کے وظائف کو اچھی طرح انجام دے سکتا ہے۔
۔ بُرے اخلاق کو ختم کرنے اور ان سے بچنے کی زیادہ قدرت رکھتا ہے۔
۔ اپنے جسم و نفس کے ذریعہ علم کے بلند مرتبوں تک پہنچ سکتا ہے۔
۔ جوانی میں انسان پُرعزم اور مضبوط ارادوں کا مالک ہوتا ہے۔
۔ احساس تھکاوٹ کے بغیر اچھی طرح سوچ سکتا ہے اور گھنٹوں غوروفکر کرسکتا ہے۔
۔ اچھی عادات اور پسندیدہ کمالات کو اپنے اندر پیدا کرسکتا ہے۔
اس کے برعکس بڑھاپے میں کمزوری و ناتوانی اور شخصیت کے پختہ و مکمل ہوجانے، کسی بات کو آسانی سے قبول نہ کرنے اور خیالات میں تبدیلی کی قدرت نہ ہونے کا زمانہ ہے جسے ہم ایک جملہ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ زمانہ جسم و روح پر سستی اور کاہلی کے چھا جانے کا زمانہ ہے۔
قرآن میں تین جگہ پر بڑھاپے کو ”شَیْب“ اور ”شَیبہ“ سے اور چار مقام پر ”شیخ“ اور ”شیوخ“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں اکثر مقام پر اس زمانہ کو انسان کی فطری کمزوری کا زمانہ بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت زکریا کے بارے میں آیا ہے:
”قَالَ رَبِّ إِنِّی وَہَنَ الْعَظْمُ مِنّیٖ وَاشْتَعَلَ الرَّاسُ شَیْباً…“ (سورہ مریم، آیت ۴)
کہا (زکریا نے) اے میرے پروردگار بڑھاپے کے سبب میری ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں اور میرے سر کے بال سفید ہوگئے…۔
اسی طرح انسان کی زندگی کے مراحل کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
”ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةِ ضَعْفاً وَ شَیْبَةً …“ (سورہ روم، آیت ۵۴)
قدرت و توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپے کو قرار دیا۔
قرآن دوسری عبارتوں میں بھی بڑھاپے کو عجز و ناتوانی سے تعبیر کرتا ہے۔ سو جوانی کا زمانہ اخلاقی برائیوں کو دور کرنے کے لحاظ سے بڑا قیمتی زمانہ ہے جبکہ یہی کام بڑھاپے میں بہت مشکل ہے لیکن افسوس کہ انسان تجربہ کئے بغیر کسی بات کو مانتا ہی نہیں۔ مطلب یہ کہ انسان جب تک بوڑھا نہیں ہوجاتا اور بڑھاپے کی تکلیف محسوس نہیں کرلیتا کتنا بھی بڑھاپے کی مشکلات کے بارے میں اس سے کہا جائے تو حقایق کو اس طرح کہ جس طرح ہیں ان پر یقین نہیں کرتا۔
کچھ ایسی بزرگ ہستیوں کوہم نے دیکھاجن میں بہت سے بلند و بالا کمالات تھے۔ لیکن جوانی کے زمانے میں ایک اخلاقی کمزوری ان میں رہ گئی تھی یا پھر اسے وہ جوانی میں پہچان نہ سکے تھے یا کہہ لیں اس کمزوری کو دور کرنے کا انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ جو بھی بات رہی ہو بالآخر وہ کمزوری ایک پائیدار بیماری کی شکل اختیار کرگئی اور لاعلاج ہوگئی تھی۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |