دوسرا درس:اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ
صحت اور فراغت دو نامعلوم نعمتیں
اس تاکید کے بعد حضورﷺ فرماتے ہیں:
”یَا اَبَاذَرٍّ، نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَةُ وَ الْفَرٰاغُ۔“
صحت اور فراغت دو گرانقدر نعمتیں ہیں جنہیں الله تعالی نے انسانوں کو عطا فرمایا ہے، لیکن زیادہ تر لوگ ان دو کی اہمیت سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے مفت میں ضایع کردیتے ہیں۔ اس لئے پیغمبرﷺ ابوذر سے فرماتے ہیں کہ ان دو نعمتوں کی اہمیت کو جان لو اور دوسروں کی طرح ضایع نہ ہونے دو۔
الله تعالی نے بہت سی قیمتی نعمتیں مفت انسان کے اختیار میں قرار دی ہیں اور انسان انہیں بلامقصد ضایع کردیتا ہے۔ یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ اس کو ان کے حاصل کرنے میں کوئی زحمت نہیں اٹھانی پڑی۔ انسان نہ تنہا ان کا حق ادا نہیں کرتا بلکہ انہیں گناہ اور غلط راہ میں استعمال کرتا ہے جو کہ اس کے فائدے میں نہیں بلکہ نقصان دہ ضرور ہے۔
صحت و سلامتی جملہ ان قیمتی نعمتوں میں سے ہے جن سے صحت مند شخص غافل ہے۔ اُس وقت اس کیاہمیت کو سمجھتا ہے جب بیمار ہوجائے۔ بالکل مچھلی کی طرح جب تک پانی میں تیر رہی ہے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتی اور جیسے ہی پانی سے باہر آتی ہے اس کی اہمیت کو سمجھتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک دوست کے ساتھ ایک ناخوشگوار حادثہ پیش آیا۔ جبساکہ اس کا کہنا ہے کہ جب وہ ممبر پر خطابت کررہا تھا تو اچانک اس کی آواز بند ہوگئی اس نے بڑی کوشش کی کہ تقریر کوجاری رکھے لیکن نہ ہوسکا۔ آخرکار ممبر سے نیچے آیا اسپتال گیا خوش قسمتی سے ایک مدت بعد وہ شفایاب ہوگیا۔
بہت کم اتفاق ہوتا ہے کہ انسان اپنے اطراف کی نعمتوں کے بارے میں سوچے جیسے قدرت گویائی کے بارے میں سوچنا اور اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرنا۔ وہ صرف اس وقت اس کی اہمیت کو سمجھتا ہے جب اس کی آواز بند ہوجاتی ہے اور بولنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ اسوقت ہے کہ اس نعمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اپنی تمام دولت خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔
تھوڑی دیر کے لئے اپنی صحت و تندرستی کے بارے میں سوچیں اور اس موضوع پر غور کریں کہ اس سے بڑھکر اور کیا نعمت ہوسکتی ہے کہ ہم ہزاروں بیماریوں سے جو کہ ہمارے جسم کے لئے خطرہ ہیں محفوظ زندگی بسر کررہے ہیں اور کسی ایک میں بھی مبتلا نہیں ہیں۔ لہذا ہم ہر لحظہ ایک بہت بڑی دولت سے برخوردار ہیں باوجود اس کے کہ یہ صحت و تندرستی ہمیشہ کے لئے پایدارنہیں ہے اور کسی بھی لمحہ ممکن ہے کہ چھن جائے۔
اسی مطلب کے مانند ایک اور جگہ رسول الله سے نقل ہوا ہے کہ:
”نِعْمَتٰانِ مَکْفُورَتٰانِ الْأَمْنُ وَالْعَافِیَةُ“ (بحارالانوار، جلد ۸۱، صفحہ ۱۷۰،باب نمبر۱)
دو نعمتیں ہیں جو کہ ہمیشہ ناشکری کا شکار ہیں ایک امن اور دوسری سلامتی۔
فراغت وہ دوسری نعمت ہے کہ جس کے بارے میں پیغمبرﷺ نے اپنی اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے جس کے معنی آرام و آسائش اور پریشانی سے آزاد کے ہیں۔ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں مختلف حالات سے دوچار رہتا ہے۔ بعض فرصت کے اوقات آرام و آسائش میں گزارتا ہے اور اپنے آپ پر سوچ بچار کرسکتا ہے اور اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ممکن ہے اس سے اپنے اندر موجود اخلاقی اور نفسیاتی انحراف کو دور کرنے کے لئے تیار ہوجائے۔اپنے انجام کے بارے میں فکر کرے، ایک خالی جگہ عبادت کرے یا بغیر کسی پریشانی کے کتاب کا مطالعہ کرے۔ ہر لحاظ سے جسمانی اور نفسیاتی آسودگی اس کے تمام وجود پر حاکم ہے اور یہ آسودگی خاطر اس کے لئے ایک قیمتی فرصت وجود میں لاتی ہے تاکہ ان فرصتوں سے بہترین فائدہ اٹھا سکے
اور ان قیمتی لحظات کو اپنے آپ کو کمال تک پہنچانے کے لئے کام میں لائے۔اس کے برعکس ممکن ہے انسان کوکبھی زندگی کے ایسے دور کا سامنا کرنا پڑجائے کہ جس میں آرام و آسائش اور فرصت نصیب نہ ہو اور حسرت ہو کہ ایک لحظہ کے لئے فرصت مل جائے۔ لیکن اب کیا فائدہ کیونکہ وہ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اور گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔
فرصت و فراغت سے بہتر استفادہ کے لئے حضرت علی فرماتے ہیں:
”وَالْفُرْصَةُ تَمُرُّ مَرَّ السَّحٰابِ فَانْتَھِزُوا فُرَصَ الْخَیْرِ“ (وسائل الشیعہ جلد ۱۶، باب ۹۱، صفحہ ۸۴)
فرصت (یعنی عمر) بادل کی طرح گزر جاتی ہے پس اچھی فرصتوں کو حاصل کرو۔
مشکلات اور مسائل کبھی گھریلو زندگی میں قدم رکھنے اور بیوی بچوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے وجود میں آتے ہیں اور کبھی اجتماعی مصروفیات اور ذمہ داری کی وجہ سے یہ مشکلات انسان کی تمام روحی اور جسمی قوت کو اپنی جانب مشغول کرلیتی ہیں اورا س کو ایک لحظہ فکر کرنے کی فرصت بھی نہیں دیتیں۔ انقلاب کے بعد بہت سے مسئولین اس کیفیت میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ انہیں اپنے ذاتی مسائل کے حل و فصل کی فرصت نہیں۔
ان کے برعکس بعض افراد مسلسل کسی مصروفیت کی تلاش میں ہیں انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح اپنے قیمتی اوقات سے استفادہ کریں۔ کیا اخبار میں موجود جدول حل کریں؟ یا رات بھر ٹی وی کے پروگرام دیکھیں؟ یا ورزش سے متعلق پروگرام دیکھیں؟ یا پھر شطرنج کھیلیں؟ بالکل اس شخص کی طرح جس نے بڑی دولت جمع کی ہوتی ہے اور ایک جگہ کی تلاش میں ہوتا ہے جہاں اس دولت کو ایک ایک کر کے آگ لگائے اور اسے دیکھ کر لطف اندوز ہو۔ اگر اس طرح کے شخص سے ملیں گے تو کہہ اٹھیں گے کہ وہ پاگل ہے جبکہ ہم اس بات سے غافل ہیں کہ ہم میں سے بہت سے اس پاگل پن میں مبتلا ہیں اور اپنی زندگی کے سرمایہ کو جو کہ دنیا کی دولت سے برابری کے قابل نہیں ہوا و ہوس کی آگ میں چلا رہے ہیں۔
اس طرح کےافراد کو نقصان اٹھانے والا مغبون شخص کہنا چاہئے، کیونکہ مغبون وہ شخص ہے جو مہنگے مال کو سستے داموں بیچتا ہے۔ کوئی بھی قیمتی مال ایسا نہیں جو سرمایہٴ عمر سے برابری کرسکے۔ اور اس کے لئے بہشت سے کمتر پر راضی نہیں ہواجاسکتا۔ لہذا اس سے پہلے کہ فرصت ہاتھ سے جائے اس کی قدر کو سمجھیں اور ایسا کام کریں کہ جو دوسرے کاموں سے زیادہ سودمند اور زیادہ شایشہ ہو۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |