دوسرا درس:اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ

مقدمہ

”یَا اَبَاذَرٍّ، اِحْفِظْ، مٰا اَوْصِیْکَ بِہِ تَکُنْ سَعیٖداً فِی الدُّنْیٰا وَالآْخِرَةِ۔ یَا اَبَاذَرٍّ، نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَةُ وَ الْفَرٰاغُ۔ یاَ اَبَاذَرٍّ، اِغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ،شَبٰابَکَ قَبْلَ ہِرَمِکَ وَ صِحَتَکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَ غِنٰاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَ فَرٰاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ وَ حیوٰتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ“

اے ابوذر میری نصیحت پر عمل کرو تاکہ دونوں جہانوں میں سعادتمند ہوجاؤ۔ اے ابوذر اکثر لوگ دو نعمتوں کے سلسلہ میں لاپروا ہیں اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ (ان میں سے) ایک صحت ہے اور دوسری فراغت ہے۔ اے ابوذر اس سے پہلے کہ پانچ چیزوں میں مبتلا ہو پانچ چیزوں کو غنیمت جانو۔ شباب کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، توانگری کو ناتوانی سے پہلے، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔

”یَا اَبَاذَرٍّ، اِحْفِظْ، مٰا اَوْصِیْکَ بِہِ …“

انسان مسلسل اپنی سعادت کی تکمیل کے چکر میں ہے۔ اور اس تک پہنچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سعادت انسان کی فطری طلب اور اصل مقصد ہے۔ لہذا چاہتا ہے کہ اسکے علل و اسباب جان لے اور اس تک جانے والے راستے کو پہچان لے۔ اسی لئے حضورﷺ تاکید فرماتے ہیں کہ اگر میری نصیحتوں پر عمل کرو تو اپنی فطری خواہش یعنی دنیا و آخرت کی سعادت تک پہنچ سکتے ہو اور اگر اس پر عمل نہ کروگے تو اس سعادت سے محروم ہوجاؤگے۔ حضورﷺ کی یہ تاکید اس میں آمادگی پیدا کرنے اور ماننے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ہے۔ جس طرح ڈاکٹر مریض سے کہتا ہے کہ اس نسخہ پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ صحتیاب ہوسکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ڈاکٹر کے پاس اپنے علاج اور صحتیابی کے لئے جاتا ہے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست