پہلا درس:انداز بندگی اور راہ نجات
خدا کی بندگی کے مراحل و مراتب
”وَاعْلَمْ یٰااَبٰاذَرّ: أنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ اَہْلَ بَیْتٖی فِی اُمَّتِی کَسَفیٖنَةِ نُوحٍمَنْ رَکِبَہٰا نَجٰی وَ مَنْ رَغِبَ عَنْہٰا غَرَقَ و َمِثْلَ بٰابِ حِطَّةِ (فٖی) بَنِی اِسْرٰائیٖل مَنْ دَخَلَہُ کٰانَ آمِناً“
اے ابوذر جان لو، الله جل شانہ نے میرے اہلبیت کو میری امت میں نوح کی کشتی کی مانند قرار دیا ہے، جو بھی اس پر سوار ہوگیا نجات پاگیا اور جس نے اس سے روگردانی کی غرق ہوگیا۔ اسی طرح وہ لوگ (اہلبیت) میری قوم میں بنی اسرائیل کے دروازہ ٴحطہ کی مانند ہیں، جو اس میں داخل ہوگیا اس نے خدا کے عذاب سے نجاب پائی۔
پیغمبرﷺ کی اہلبیت سے محبت پر تاکید اور انہیں نجات کی کشتی اور باب حطہٴ بنی اسرائیل سے تشبیہ ایک جذباتی موضوع نہیں ہے جسے بعض لوگ یہ سمجھیں کہ پیغمبرﷺ کی اپنی اولادوں اور رشتہ داروں سے فطری محبت اور وابستگی باعث ہوئی ہے کہ پیغمبرﷺ مسلسل ان سے محبت اور دوستی کی نصیحت کریں بلکہ یہ نصیحتیں فطری محبت اور وابستگی سے بالاتر ہیں۔ اور یہ نصیحتیں اس لحاظ سے ہیں کہ آپ اہلبیت کو امت کے لئے نجات کی کشتی سمجھتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ جو بھی گمراہ اور بھٹکنے والا اس پر سوار ہوجائے تو گمراہی اور انحرافات کے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر میں ڈوبنے سے بچ سکتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی امت نجات کی کشتی پر سوار ہونے سے عذاب الہی سے بچ گئے اور جنہوں نے نافرمانی کی جن میں حضرت نوح کا بیٹا بھی تھا مارے گئے۔
دعوت اسلامی کے شروع میں امت میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ پیغمبرﷺ ابوذر کو نصیحت کرتے ہیں کہ میرے اہلبیت نوح کی کشتی کے مانند ہیں اگر کوئی ان سے تعلق نہ رکھے اور ان کی پیروی نہ کرے نوح کی قوم کی طرح ہلاک ہوجائے گا۔ اصل میں مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ انحرافات، تعصّب بازیوں اور نفاق کہ جو رسول کی رحلت کے ساتھ رونما ہوگا، بعض موقع پرست اور منافق دوسروں پر سبقت لے جائیں، تنہا اہلبیت پیغمبرﷺ جن میں علی… سرفہرست ہیں امت اسلامی کو گمراہی کے دلدل میں دھنسنے سے نجات دلاسکتے ہیں اور انہیں منحرف ہونے سے روک سکتے ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو اہلبیت کی پیروی سے انکار کریں گے اور منحرف ہو کر گمراہی کا شکار ہوجائیں گے۔
اس کے بعد پیغمبرﷺ اپنے اہلبیت کو بنی اسرائیل کے باب حطہ سے تشبیہ کرتے ہیں۔ یہ دوتشبیہ (یعنی کشتی نوح اور باب حطہ) شیعہ و سنی کی بہت سی روایات میں رسولخدا سے نقل ہوئی ہیں (اور حدِ تواتر کو پہنچی ہیں)۔ جب نبی اسرائیل بشمار ظلم و گناہ کے نتیجے میں عذاب الہی میں گرفتار ہوئے اور چالیس سال ”تیہ“ نامی بیابان میں بھٹک چکے تو توبہ اور استغفار کے نتیجے میں الله تعالی نے ان پر دوبارہ مہربان ہوا اور در توبہ کو (جو کہ حطہ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے) ان پر کھول دیا، جس کے بارے میں قرآن میں الله تعالی کا ارشاد ہے:
”…اور ہم نے ان سے کہا کہ سجدہ کرتے ہوئے شہر کے دروازے سے داخل ہوں اور کہتے جائیں کہ ”اے خدا ہمارے گناہ سے درگذر فرما“ تاکہ ہم تمہاری غلطی کو معاف کردیں اور تم میں نیکی کرنے والے لوگوں کے ثواب میں اضافہ کریں“۔ (سورہ بقرہ، آیت ۵۸)
جو کوئی بھی باب حطہ سے داخل ہوتا تھا، عزت و شرف تو پاتا ہی تھا ساتھ اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے تھے۔ حضورﷺ کی اس تشبیہ سے منظور و مقصود اس مطلب کی وضاحت تھی کہ جس طرح بنی اسرائیل کے مؤمنین نے باب حطہ سے داخل ہو کر اور توبہ کر کے اپنی دنیا اور آخرت کی سعادت کی ضمانت حاصل کرلی۔ مسلمان بھی اگر علم و معارفِ اہلبیت اور ان کی پیروی کے دروازہ سے داخل ہوں اور ان کی راہ پر چلیں تواس طرح انہوں نے اپنی دنیا و آخرت کی سعادت کو تضمین کرلیا ہے۔
لفظ ”حطہ“ لعنت میں پھینکنے اور ختم کردینے کے معنی میں آیا ہے۔ بنی اسرائیل نے اس کلمہ کو ادا کرکے خدا سےمغفرت اور اپنے گناہوں کے دھل جانے کی خواہش کی۔ الله نے اس کلمہ کو ان کی بخشش کا ذریعہ قرار دے دیا لیکن بعض لوگ جو الله پر ایمان نہیں رکھتے تھے، الله کی بات کا مذاق اڑاتے تھے اور جیساکہ روایات میں آیا ہے لفظ حطّہ کی جگہ حنطہ جو کہ گندم کے معنی ہیں زبان پر لاتے تھے۔ الله تعالی نے ان کی شیطنت اور توبہ و مغفرت سے فرار کے سبب ان پر اپنے عذاب کو" نازل کیا:
”فَبَدَّلَ الَّذٖینَ ظَلَمُوا قَوْلاً غَیْرَ الَّذِی قِیلَ لَہُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوارِجْزاً مِنَ السَّمَاءِ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ“۔ (سورہ بقرہ، آیت ۵۹)
ظالموں نے خدا کی بات کو بدل دیا (جو کلمہ ان سے کہا گیا تھا اس کی جگہ دوسرے لفظ کو قرار دے دیا) ہم نے بھی ا ن پر جنہوں نے ظلم کیا اور نافرمانی کی آسمان سے سخت عذاب نازل کیا۔
پیغمبرﷺ نے اپنے اہلبیت کو ایسے باب حِطّہ کے عنوان سے متعارف کرایا کہ جن کی پیروی اور اطاعت دنیا و آخرت کی سعادت اور عذاب آخرت سے نجات کا سبب ہے۔ لیکن لوگوں نے آپ کی اس بات پر یقین نہیں کیا اور اہلبیت کی جگہ دوسروں کو چن لیا، علی اور دوسروں کے درمیان انہیں فرق ہی نظر نہ آیا۔ اور سمجھ رہے تھے کہ جس طرح علی…رسول الله کے داماد ہیں عثمان بھی اسی طرح رسول الله کے داماد ہیں اور پیغمبرﷺ بھی خلیفہٴ اول کے داماد تھے۔
آپ کی نصیحت کے اس حصہ میں ایک اور پیغام یہ ہے کہ عبادت کے بنیادی مراتب قلبی اور اندرونی اعمال پر مشتمل ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی عبادت سے پورا پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا جبکہ جب تک اس میں معرفت نہ ہو، خدا اور رسول پر ایمان نہ ہو اور اہلبیتِ رسول سے محبت نہ ہو۔ اس سے معلوم یہ چلا کہ عبادت صرف ظاہری عمل پر منحصر نہیں ہے بلکہ عبادت کی بنیاد قلبی معرفت ہے اور ہر بندگی دل سے نشعت پاتی ہے۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |