پہلا درس:انداز بندگی اور راہ نجات

خدا کی بندگی کے مراحل و مراتب

(الف)۔ شناختِ خدا (خدا کی پہچان)

         اسی حدیث میں حضورﷺ عبادت کے مراحل و مراتب بیان کرتے ہیں:

”وَاعْلَمْ اَنَّ اَوَّلَ عِبٰادَةِ اللهِ الْمَعْرِفَةُ بِہِ، فَہُوَ الْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شیءٍ فَلاٰ شَیءَ قَبْلَہُ وَالفَرْدُ فَلاٰثٰانِیَ لَہُ وَالبٰاقٖی لاٰاِلیٰ غٰایَةٍ۔ فٰاطِرُ السَّمٰوٰاتِ وَ الْاَرْضِ وَ مٰا بَیْنَہُمٰا مِنْ شَیءٍ وَ ہُوَ اللهُ اللَّطیٖفُ الْخَبیٖرُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیٖرٌ…“

اے ابوذر جان لو کہ خدا کی عبادت کا پہلا مرحلہ اس کی معرفت ہے وہی اول ہے اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں، وہ یگانہ ہے اس کا کوئی ثانی نہیں، اور وہ باقی اور ہمیشہ ہے وہ وہی ہے جس نے زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے خلق کیا ہے، الله دانا اور مہربان ہے اور ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

حدیث کے اس حصہ میں عبادت کے پہلے مرحلہ معرفت خدا کا ذکر ہوا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود معرفت خدا کئی مراحل رکھتی ہے لیکن جو کچھ خدا کی عبادت اور بندگی میں لازم و ضروری ہے خدا کی اجمالی شناخت ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ:
انسان جان لے کہ خدا وجود رکھتا ہے اور اس نے انسان اور جہان کو بنایا ہے۔ اگر انسان شناخت خدا کے اس مرحلہ کو نہ پاسکا تو خدا کی عبادت کی نوبت ہی نہیں آتی۔ پس یہ جان لیں کہ خدا کی شناخت و معرفت کا مرحلہ عبادت پر مقدم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان آخرکار اپنے تکامل کی راہ میں معرفت اور شناخت کے بلندترین مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے جو کہ اولیاء الله سے مخصوص ہے اور ہم اس کی حقیقت اور واقعیت کو نہیں پاسکتے۔ اجمالاً یہ جانتے ہیں کہ انتہائے معرفت بہت قیمتی اور بلند مرتبہ ہے کہ جس کو اولیاء الله اپنے سیروسلوک کے انتہائی مرتبہ پر اس کو حاصل کرتے ہیں۔ اور وہی الله کی عبادت کا آخری مرحلہ ہے۔
انسان جب عبادت کے پہلے مرحلہ کو پہنچ جاتاہے اور جان لیتا ہے کہ خدا وجود رکھتا ہے۔ تب اسے چاہیئے کہ خدا کی صفات و آثار میں غوروفکر کرے یہانتک کہ وہ معرفت اس کے دل میں سماجائے قدم جمالے اور صرف ایک ذہنی معرفت اورشناخت کی حد تک باقی نہ رہے بلکہ ایک زندہ اور موجود شناخت و معرفت میں تبدیل ہوجائے کہ جو انسان کے کردار میں اثرانداز ہو۔ شناخت کا یہ مرحلہ کہ جو غوروفکر کے ساتھ ہے ”معرفت متوسط“ یا درمیانی درجہ کی معرفت کہلاتی ہے۔
معرفت متوسط خود مختلف مراتب اور وسیع میدان رکھتی ہے۔ انسان آیات الہی میں غوروفکر اور عملی عبادت کے ذریعہ ان مرتبوں کو پاسکتا ہے۔ جو کچھ کہا گیا اس سے یہ واضح ہوگیا کہ الله کی صفات اور آثار میں غوروخوص اور خدا کی بہتر شناخت کی کوشش ایک اختیاری عبادت ہے اور اسی عرصہ میں جو شناخت حاصل ہوتی ہے عبادت کے جملہ مقدمات میں سے ہے (الله کی آیات میں غوروفکر اور سمجھ بوجھ معرفت کا قریبی مقدمہ ہے جسے مقدمہ قریبہ کہتے ہیں اور استاد کے درس میں شرکت اور کتاب کا مطالعہ خداوندمتعال کی معرفت کے حصول کے از جملہ مقدمات بعیدہ سے ہیں)۔

(ب)۔ پیغبمبر پر ایمان اور ان کی رسالت کا اعتراف

”ثُمَّ الْایٖمٰانُ بیٖ وَ الْأِقْرَارُ بِاَنَّ اللهَ تَعٰالٰی اَرْسَلَنیٖ اِلٰی کٰافَّةِ النَّاسِ بَشیٖراً وَ نَذیٖراً وَ دٰاعِیاً الِیَ اللهِ بِاِذْنِہِ وسِراجاً مُنیراً…“

دوسرے مرحلہ میں مجھ پر ایمان لانا اور یہ اقرار کرنا کہ الله تعالی نے مجھے اپنی جانب سے تمام لوگوں کی طرف بشیر و نذیر اور الله کی طرف دعوت دینے والا بنا کر بھیجا اور روشن چراغ (یعنی چراغ ہدایت) تمام انسانوں کے لئے قرار دیا ہے۔

قرآن اور روایات میں ہر ایک اوصاف جو رسول الله کے لئے ذکر ہوئی ہیں تفسیر و تشریح کی نیازمند ہیں۔ اگر ہمارا ایمان رسول الله کی رسالت پر مضبوط اور مکمل ہوجائے تو بہت سے شبہات میں پھنسنے سے بچ سکتے ہیں۔ پیغمبرﷺ کی شناخت میں اور آپ پر ایمان میں کمی سبب بنتی ہے کہ بہت سے کمزور عقیدہ مسلمان شک و شبہہ میں پڑجائیں اور اس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ صحیح راستہ سے منحرف ہو کر خدانخواستہ کافر ہوجائیں وہ اس لئے کہ ان کا اس پر ایمان نہیں ہوتا کہ پیغمبرﷺ جو فرماتے ہیں سچ ہے۔
بعض کمزور عقیدہ افراد کا کہنا ہے: جو احکام پیغمبرﷺ لائے ہمارے زمانے میں ان پر عمل ممکن نہیں۔ یہ احکام اور قوانین تو اس زمانے کے جزیرة العرب میں بستے والے لوگوں کے نامناسب حالات کو سنوارنے کے لئے تھے اور اب اس زمانے میں اسلامی احکام کی ضرورت نہیں۔ ان لوگوں کی یہ باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کا رسول الله پر ایمان نہیں۔ اگر رسول الله کی اس بات پر کہ جس میں آپ نے فرمایا: اَرْسَلَنِیْ اِلَی کَافَّةِ الناس ایمان رکھتے ہوتے تو آپ کی رسالت کے لئے زمان اور محدودیت کے قائل نہ ہوتے۔ اصل میں حقیقت یہ ہے کہ دین میں رونما ہونے والے تمام انحرافات رسول الله اور آپ کی رسالت پر ایمان میں کمزوری کا نتیجہ ہے۔

(ج)۔ اہلبیت رسول سے محبت

”ثُمَّ حُبُّ اَہْلِ بَیْتِی الَّذِیْنَ اَذْہَبَ اللهُ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَ طَہَّرَہُمْ تَطْہیراً“

(تیسرے مرحلہ میں نصیحت کرتا ہوں تم کو) میرے اہلبیت سے محبت کی۔ وہ جن سے الله تعالی نے ہر گندگی کو دور کیا اور پاک ٹہرایا۔

فی الجملہ (یاخلاصہ) یہ کہا جاسکتا ہے کہ عظمت اہلبیت کی معرفت اور ان کے مقام کی عظمت کو پانا اور ان سے محبت میں اس قدر عظمت ہے کہ حضرت امام خمینی نے اپنے وصیت نامہٴ سیاسی اور عبادی کا اس روایت سے آغاز کیا:

”اِنِّی تَارِکُ فِیکُم الثَّقَلَیْن کِتَابَ اللهِ وَ عِتْرَتِی…“

شاید دنیا والوں کے لئے یہ بات عجیب ہو کہ رہبر انقلاب اپنے وصیت نامہ میں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ خاندان اہلبیت رسول کے پیروکار ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اہلبیت سے محبت، وابستگی اور ان کی معرفت پر اعتماد میں کیا راز پوشیدہ ہے۔ شاید ہم اس کو ایک معمولی بات سمجھیں کہ اہلبیت پیغمبرﷺ کے فرزند اور رشتہ دار ہیں لہذا ان سے محبت کرنی چاہیئے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے اگر ان سے محبت ایک معمولی بات ہوتی تو قرآن کے ہم پلہ اور برابر قرار نہدیا جاتا۔ اہلبیت سے محبت پر تاکید اس بنا پر نہیں کہ وہ پیغمبرﷺ کے رشتہ دار ہیں اس لئے کہ پیغمبرﷺ کی کئی ازواج تھیں لیکن آپ نے ان کے بارے میں ایسی کوئی تاکید نہیں فرمائی اہلبیت کے لئے تاکید اس لحاظ سے ہے کہ الله تعالی نے انہیں ہر قسم کی گندگی سے دور کیا ہے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست