پہلا درس:انداز بندگی اور راہ نجات

خدا کی عبادت اور بندگی مؤمنوں کی عظمت اور بلندی کا ذریعہ ہے

بات یہ ہے کہ انسان کی انسانیت خدا کی عبادت اور بندگی میں پوشیدہ ہے اور انسان اس کے بغیر دوسرے حیوانات پر کسی قسم کی فضیلت نہیں رکھتا اور کائنات میں صرف تصرف کے امتیاز سے برخوردار ہے بغیر اس کے کہ تصرف کا حق ادا کیا ہو۔ جس نے خدا کی عبادت انجام نہیں دی اس نے حقیقت میں انسانی کمالات تک پہنچنے کے راستوں کو اپنے لئے بند کردیا کیونکہ انسانی کمال تک پہنچنے کے لئے صرف یہی راستہ ہے۔
اگر بلند مرتبہ لوگوں کے انداز زندگی پر توجہ کریں تو یہ بات دیکھنے میں آئے گی کہ ان کی زندگی سے جدا نہ ہونے والے اصول میں ایک اصل خدا کی بندگی ہے۔ وہ تمام ہستیاں کہ جنہوں نے کلیم الله، خلیل الله اور حبیب الله جیسے
مقام کی سعادت و لیاقت پائی صرف اسی راہ کو طے کر کے اور سخت و دشوار آزمائشوں کی منزلوں سے گذر کر ان بلند و بالا مقام تک پہنچے۔ ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جو خدا کی بندگی کے بغیر انسان کے اختیاری کمالات میں سے کسی ایک کمال تک پہنچا ہو۔ جو کچھ کہا گیا اس کے علاوہ جتنے بھی دوسرے مقامات ہیں جیسے مقام رضا اور یقین اور دیگر مقامات کو بھی خدا کی عبادت اور بندگی میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔
خداوند قرآن مجید میں فرماتا ہے:

”وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّیٰ یَاْتِیَکَ الْیَقینُ“ (سورہ حجر، آیت ۹۹)

اپنے پروردگار کی عبادت کرو اتنی کہ مقام یقین کو پالو۔

اور مقام رضا سے متعلق الله تعالی فرماتا ہے:

”… وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِہٰا وَ مِنْ آنٰاءِ اللَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرٰافَ النَّہٰارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی“ (سورہ طہ، آیت ۱۳۰)

طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور کچھ حصہ رات کی تاریکی اور دن کے درمیان میں الله کی تسبیح پڑھا کرو تاکہ مقام رضا کو پالو۔

تمام پیغمبر وں کی رسالت کا مقصد لوگوں کو الله کی بندگی اور عبادت کا حکم دینا اور شیطان کی عبادت سے روکنا تھا:

”… وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِہٰا وَ مِنْ آنٰاءِ اللَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرٰافَ النَّہٰارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی“ (سورہ طہ، آیت ۱۳۰)

طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور کچھ حصہ رات کی تاریکی اور دن کے درمیان میں الله کی تسبیح پڑھا کرو تاکہ مقام رضا کو پالو۔

تمام پیغمبر وں کی رسالت کا مقصد لوگوں کو الله کی بندگی اور عبادت کا حکم دینا اور شیطان کی عبادت سے روکنا تھا:

”وَلَقَدْ بَعَثْنٰا فِی کُلِّ اُمَّةٍ رَسُولاً اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ …“ (سورہ نحل، آیت ۳۶)

ہر امت میں رسول بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو بتائے کہ ایک الله کی عبادت کرو اور شیطان سے دور رہو۔

قرآن کے تائید شدہ مطالب میں سے ایک مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات خوانخواہ خدا کی ثناء و بندگی میں مصروف ہیں:

”یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰاتِ وَ مَا فِی الْاَرضِ…“ (سورہ جمعہ، آیت ۱)

جو کچھ بھی آسمان و زمین میں ہے سب الله کی تسبیح گو ہیں۔

لیکن یہ بندگی تکوینی ہے اور انسان کے کمال میں اس کا کوئی دخل نہیں۔ انسان کے کمال میں جو چیز اثر رکھتی ہے وہ اختیار کے ساتھ بندگی ہے اگر اس کے علاوہ کچھ اور ہوتا تو پتھر اور پہاڑ بھی اپنی تکوینی بندگی سے منشائے کمال تک پہنچ چکے ہوتے۔
خدا کی عبادت اور بندگی کی اہمیت اس قدر ہے کہ پروردگار قرآن میں جن و انس کی خلقت کا نہائی مقصد عبادت کو قرار دیتا ہے۔

”وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُونِ“ (سورہ ذاریات، آیت ۵۶)

ہم نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔

عبادت و بندگی کا احساس انسان میں فطری ہے یعنی انسان کی فطرت میں عبادت کی احتیاج قرار دی گئی ہے۔ اس حقیقت کو ہم ادیان اور ملتوں کی تاریخ کے مطالعہ سے حاصل کرسکتے ہیں کہ کوئی بھی ملت اور معاشرہ نہیں ملتا جو کسی بھی قسم کی عبادت اور پرستش انجام نہ دیتا رہا ہو۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست