پہلا درس:انداز بندگی اور راہ نجات

عبادت اور الله تعالی کے حضور کا ادراک

”یٰااَبٰاذَرٍّ: اُعْبُدِاللهَ کَاَنَّکَ تَرٰاہُ، فَاِنْ کُنْتَ لاٰتَرٰاہُ فَاِنَّہُ یَرٰاک“

اے ابوذر الله کی اس طرح عبادت کرو کہ جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو کیونکہ اگرچہ تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو لیکن وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

حدیث کا یہ حصہ اگر متواتر نہیں تو کم از کم مستفیض ہے اور چند واسطوں سے پیغمبرﷺ اور غالباً ابوذر کے ذریعہ مختلف عبارتوں میں بیان ہوا ہے۔ اسی معنیٰ سے متعلق ایک اور حدیث ہے:

”…اَلْاِحْسَانُ اَنْ تَعْبُدُ اللهَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ…“
(بحارالانوار، جلد ۶۵، باب اول صفحہ ۱۱۶)

نیکی وہ ہے کہ اس طرح خدا کی عبادت کرو کہ اسے دیکھ رہے ہو۔

گویا ابوذر کے لئے، جو کہ عرصہٴ دراز سے الله کی بندگی میں قدم اٹھاتے آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سعادت حاصل کرنے کےلئے رسولخدا کے دستورالعمل سے فائدہ اٹھائیں، بہترین نصیحت یہ ہو کہ عبادت سے فائدہ حاصل کرنے کی روش انھیں سکھا دی جائے اور انہیں ایسا راستہ سجائیں کہ وہ اپنی عبادت سے بہترین فائدہ حاصل کرسکیں۔ اور وہ راستہ عبادت کے وقت حضور قلب کا متقاضی ہے۔
حضور قلب کے حصول کا راستہ باربار مشق اور الله کے حضور کا ادراک ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان مسلسل اپنے آپ کو خدا سے وابستہ مانوس سمجھے۔ کیونکہ جس نے خدا سے اُنسیت پیدا کرلی وہ کبھی اس سے بات کرنے اور اس کے کلام کو سننے سے تہکے گا نہیں۔ اس لئے کہ عاشق جتنا زیادہ اپنے معشوق کے ساتھ رہتا ہے اور اس سے باتیں کرتا ہے اتنی ہی اس کی چاہت بڑھتی جاتی ہے۔
ہم جیساکہ اپنی عبادتوں کے انجام میں جلدی تھک جاتے ہیں اور تیزی سے اپنی نماز پڑھکر اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں اور اگر نماز طولانی ہوگئی تو نہ صرف لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے کسی قید میں بند ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے اس بات کو بھی نہیں سمجھ پاتے کہ کس کے سامنے کھڑے ہیں اور کس ہستی سے کلام کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے علم کے آنے سے مقام بندگی اور خدا کے بلند و بالا مقام کو پہچان سکیں اور اس کی عظمت کو جان لیں۔ لیکن یہ ذہنی مفاہیم ہمارے دلوں میں اثرانداز نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے خدا سے حقیقی تعلق کا سبب نہیں بن سکے۔ جو چیز الله سے حقیقی اور واقعی ارتباط کا سبب بنتی ہے وہ عبادت کے وقت حضور قلب ہے۔ جن عبادتوں کے انجام کی ہم توفیق حاصل کرپاتے ہیں وہ تو صرف ہمارے ذمہ سے ایک وظیفہ کے انجام پانے کا سبب بنتی ہے اور جو فائدہ ہمیں اٹھانا چاہیئے نہیں اٹھاتے کیونکہ ہماری عبادتوں میں جان نہیں ہے، ہماری عبادتیں بغیر حضور قلب کے انجام پاتی ہیں۔ دنیاوی امور میں زیادہ مصروفیت حضور قلب اور دل کی خدا کے ساتھ اُنسیت برقرار ہونے میں مانع ہے یہی وہ مشکل ہے جس سے ہم دوچار ہیں۔
مسلسل سوال کیا جاتا ہے کہ نماز میں حضور قلب حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہیئے؟ حضور قلب کے حصول کے لئے ممارست اور ریاضت کی ضرورت ہے۔ شروع میں انسان کو چاہیئے کہ تنہا کسی گوشہ میں بیٹھے اور اس بات پر سوچے کہ خدا اسے دیکھتا ہے بعض علماء اخلاق یہ کہا کرتے تھے کہ اس ممارست میں تخیلات سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اگر کسی کمرے یا خالی جگہ میں بیٹھے ہو تو یہ فرض کرو کہ جیسے کوئی چھپا ہوا تمہاری حرکات و سکنات کو جانچ رہا ہے لیکن تم اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ کیا تمہاری حرکات اس وقت کہ جب کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اس موقع سے کہ جب کوئی تمہیں نہیں دیکھ رہا ایک جیسی ہونگی؟ خاص طور پر اگر وہ شخص ایک عام آدمی نہ ہو تو آپ اس کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنی سرنوشت کو اس کے ہاتھوں میں پاتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس کے نزدیک آپ محترم جانے جائیں اور وہ آپ کو پسند کرے تو کیا اس صورت میں آپ اس سے پوری طرح لاپروا ہو کر کسی اور کام میں لگ جائیں؟
اگر انسان کوشش کرے کہ ممارست سے اس بات کو اپنے لئے مجسم کرلے کہ خدا کے حضور میں ہے اور خدا اسے دیکھ رہا ہے اگرچہ وہ خدا کو نہیں دیکھ رہا تو آہستہ آہستہ اسے اپنی عبادت میں حضور قلب حاصل ہوجائے گا اور اس کی عبادت میں جان آجائے گی۔ اب اس کی یہ عبادت وظیفہ سے صرف سبکدوش ہونے کا باعث نہیں ہے بلکہ اس کی معنوی بلندی اور ترقی اور خدا سے نزدیکی کا باعث ہوگی۔ بلاشبہ اس مطلب پر بہترین گواہ حضرت علی کا یہ قول ہے:

”اِتَّقُوا مَعَاصِیَ اللهِ فِی الْخَلَوٰاتِ فَاِنَّ الشَّاہِدَ ہُوَ الْحٰاکِمُ“
(نہج البلاغہ، فیض الاسلام، ص ۱۲۴۰، حکمت ۳۱۶)

تنہائی میں گناہ کرنے سے بچو کیونکہ کوئی ہے جو تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔

لہذا ان لوگوں کے لئے لازم ہے جنہوں نے ابھی تک نماز میں حضور قلب حاصل کرنے کے لئے کوشش نہیں کی ہے دن رات میں سے کچھ وقت اس کام کے لئے نکالیں یعنی تنہائی میں بیٹھیں اور اس بات پر توجہ حاصل کریں کہ خدا ان کو دیکھ رہا ہے۔ یقینا اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان مسلسل خدا کے سامنے ہے اور خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ جیساکہ قرآن نے ایسے موقعہ پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے، منجملہ فرماتا:

”یَعْلَمُ خٰائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرِ“
(سورہ غافر، آیت ۱۹)

وہ لوگوں کی خیانت کار نگاہوں اور سینہ میں پوشیدہ خیالات سے آگاہ ہے۔

کسی شاگرد سے نقل ہوا ہے کہ میں استاد کی زندگی کے آخری لحظات میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے آخری بار نصیحت کی درخواست کی۔ استاد نے بڑی مشکل سے یہ جملہ ادا کیا:

”اَ لَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ الله یَرٰی؟“

کیا وہ نہیں جانتا کہ الله دیکھ رہا ہے؟

حضرت علی اپنے کلمات قصار میں فرماتے ہیں:

”اَیُّہَا النّاسُ، اِتَّقُوا اللهَ الَّذِی اِنْ قُلْتُمْ سَمِعَ وَ اِنْ اَضْمَرْتُمْ عَلِمَ“
(نہج البلاغہ، فیض الاسلام، ص ۱۱۷۸، حکمت ۱۹۴)

اے لوگوں اس الله سے ڈرو کہ جو بولتے ہو وہ سن رہا ہے اور اگر چھپاتے ہو تو وہ جانتا ہے۔

اس حدیث کے پہلے حصہ میں حضورﷺ نے عبادت کو انسان کے لئے سعادت کی کنجی سے تعبیر فرمایا۔ حدیث کے دوسرے حصوں میں عبادت خدا کے مرحلے و مراتب کی طرف آتے ہیں۔ حدیث کے پہلے حصہ "میں گذشتہ مطلب کے علاوہ عبادت کے انداز پر زور دیا گیا ہے وہ یہ کہ عبادت میں جان ہونی چاہی اور عبادت کی جان حضور قلب ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود عبادت اور بندگی کی اتنی تاکید نہیں کی گئی ہے جس سے لگتا ہے کہ اسے مُسَلّم بات سمجھا گیا ہے۔

        پچھلا درس         پچھلا عنوان فہرست