پہلا درس:انداز بندگی اور راہ نجات
مقدمہ
”عَنْ اَبِی الْاَسْوَدِ الدُّئِلٖی: قٰالَ قَدِمْتُ الرَّبَذَةَ فَدَخَلْتُ عَلٰی اَبِی ذَرٍّ: جُنْدَبِ بْنِ جُنَادَةَ، رَضِیَ اللهُ عَنْہُ، فَحَدَّثَنٖی اَبُوذَرّ: قٰالَ ذٰاتَ یَوْمٍ فٖی صَدْرٍ نَھٰارِہِ عَلٰی رَسُولِ اللهِ، صَلَی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ، فِی مَسْجِدِہِ فَلَمْ اَرَ فٖی المَسْجِدِ اَحَداً مِنَ النّاسِ اِلاَّ رَسُولَ اللهِ، صَلی اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ، وَ عَلٖیٌ، عَلَیْہِ السَّلاٰمِ، اِلٰی جٰانِبہِ جٰالسٌ، فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَةَ المَسْجِدِ۔
فَقُلْتُ: یٰارَسُولَ اللهِ بِاَبِی اَنْتَ وَ اُمّٖی، أَوصِنِی بِوَصٖیَّةٍ یَنْفَعُنٖی اللهُ بِہٰا، فَقٰالَ: نَعَمْ وَ اَکْرِمْ بِکَ یٰااَبٰاذَرٍّ: اِنَّکَ مِنَّا اَہْلَ الْبَیْتِ وَ اِنِّی مُوصٖیکَ بِوَصٖیَّةٍ فَاحْفَظْہٰا۔ فَاِنَّہٰا (وَصٖیَّةٌ) جٰامِعَةٌ لِطُرُقِ الْخَیْرِ وَ سُبُلِہِ۔ فِاِنَّکَ اِنْ حَفِظْتَہٰا کٰانَ بِہٰا کِفْلاٰنِ۔
یٰااَبٰاذَرٍّ: اُعْبُدِاللهَ کَاَنَّکَ تَرٰاہُ، فَاِنْ کُنْتَ لاٰتَرٰاہُ فَاِنَّہُ یَرٰاکَ، وَاعْلَمْ اَنَّ اَوَّلَ عِبٰادَةِ اللهِ الْمَعْرِفَةُ بِہِ، فَہُوَ الْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شیءٍ فَلاٰ شَیءَ قَبْلَہُ وَالفَرْدُ فَلاٰثٰانِیَ لَہُ وَالبٰاقٖی لاٰاِلیٰ غٰایَةٍ۔ فٰاطِرُ السَّمٰوٰاتِ وَ الْاَرْضِ وَ مٰا بَیْنَہُمٰا مِنْ شَیءٍ وَ ہُوَ اللهُ اللَّطٖیفُ الْخَبیٖرُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیٖرٌ۔ ثُمَّ الْاٖیمٰانُ بی وَ الْأِقْرَارُ بِاَنَّ اللهَ تَعٰالٰی اَرْسَلَنیٖ اِلٰی کٰافَّةِ النَّاسِ بَشیٖراً وَ نَذیٖراً وَ دٰاعِیاً الِیَ اللهِ بِاِذْنِہِ وسِراجاً مُنیراً۔ ثُمَّ حُبُّ اَہْلِ بَیْتِی الَّذِیْنَ اَذْہَبَ اللهُ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَ طَہَّرَہُمْ تَطْہیراً
وَاعْلَمْ یٰااَبٰاذَرّ: أنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ اَہْلَ بَیْتٖی فِی اُمَّتِی کَسَفیٖنَةِ نُوحٍ مَنْ رَکِبَہٰا نَجٰی وَ مَنْ رَغِبَ عَنْہٰا غَرَقَ و َمِثْلَ بٰابِ حِطَّةِ (فٖی) بَنِی اِسْرٰائیٖل مَنْ دَخَلَہُ کٰانَ آمِناً“
ہم نے جس روایت کو مورد گفتگو قرار دیا ہے، وہ پیغمبرﷺ کی جامع اور نہایت سودمند نصایح میں سے ہے جو کہ آپ نے اپنے ایک بلند پایہٴ صحابی ابوذر کو فرمائی۔ اس روایت کا متن تھوڑے سے فرق کے ساتھ ”مکارم اخلاق“، ”امالی شیخ طوسی“، مجموعہٴ ورّام اور بحارالانوار (جلد نمبر ۷ چاپ بیروت اور جلد نمبر ۷۷ چاپ ایران) جیسی قیمتی کتابوں میں ذکر ہوا ہے۔ ہم نے اس کو بحارالانوار سے نقل کیا ہے۔ جس حد تک ممکن ہوسکا اس کے جوانب کی تشریح اور تفسیر انجام دیں گے۔
ابوالاسود دُئلی کا کہنا ہے: جس وقت ابوذر اپنی تبعیدگاہ رَبَذہ میں زندگی گزار رہے تھے میں ان کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے مجھ سے ایک روایت بیان کی۔ ابوذر کہتے ہیں ایک روز صبح کے وقت مسجد میں رسولخدا کی خدمت میں پہنچا آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کے علاوہ کوئی بھی آپ کے پاس نہ تھا۔ آپ کی خدمت میں شرفیابی اور احترام و ادب بجالانے کے بعد موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حضورﷺ سے عرض کیا۔ میرے والدین آپ پر قربان مجھے ایسی بات کی نصیحت فرمائیں کہ جس کی وجہ سے خدا مجھے فائدہ پہنچائے۔
حضورﷺ نے مہربانی کرتے ہوئے فرمایا:
”نَعَمْ وَ اَکْرِمْ بِکَ یَا اَبَاذَرّ اِنَّکَ مِنَّا اَہْلَ الْبَیْتِ …“
ہاں کیوں نہیں اے ابوذر تم تو باکرامت انسان ہو اور تم تو ہمارے اہلیت میں آتے ہو (شمار ہوتے ہو)۔
کلمہ ”اَفعِلْ بِہِ“ عربی میں تعجب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا استعمال ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کسی بات پر تعجب کرے مثال کے طورپر اگر کسی شخص کے حُسن و جمال پر تعجب کریں تو کہتے ہیں ”اَجْمِلْ بِکَ“ تم کتنے حَسین ہو۔ اس طرح ”اَکْرِمْ بِکَ“ کے معنی یہ ہوئے کہ تم کتنے باکرامت انسان ہو!۔
پیغمبرﷺ کا ابوذر جیسی ہستی کے لئے کلمہ ٴ”کریم“ کا استعمال کرنا، پیغمبرﷺ کے نزدیک اس صحابی کی عظمت، منزلت اور مقام کی بلندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ حضورﷺ نے گزشتہ بیان میں ابوذر کو اپنے اہلبیت کے زمرہ میں شمار کیا۔سلمان فارسی کے سلسلہ میں بھی پیغمبرﷺ نے فرمایا: سلمان میرے اہلبیت میں سے ہیں۔ (سلمان مِنَّا اہل بیت)
حدیث کے ادامہ میں حضورﷺ ابوذر کو نصیحت کرنا شروع کرتے ہیں:
”وَ اِنِّی مُوْصٖیْکَ بِوَصٖیَّةٍ فَاحْفَظْہٰا۔ فَاِنَّہٰا (وَصٖیَّةٌ) جٰامِعَةٌ لِطُرُقِ الْخَیْرِ وَ سُبُلِہِ۔ فِاِنَّکَ اِنْ حَفِظْتَہٰا کٰانَ بِہٰا کِفْلا۔“
میں تمہیں ایک ایسی نصیحت کرتا ہوں اور امید یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے اس پر عمل کروگے، کیونکہ یہ نصیحت تمام نیکیوں اور خوشبختیوں کو سموئے ہوئے ہے اگر تم اس نصیحت پر عمل کرو دنیا و آخرت کی نیکیاں تمہاری خدمت میں پیش کردی جائیں گی۔
مندرجہ بالا جملے میں وصیت پند و نصیحت کے معنی میں ہے نہ موت کے وقت کی جانے والی وصیت کے معنی میں۔ ”طریق“ اور سبیل بھی راستہ کے معنی میں ہیں لیکن طریق وسیع اور مین شاہراہ کے معنی میں ہے اور ”سبیل“ گلی کے معنی میں ہے۔
”کفلان“ سے دو معنیٰ ارادہ کئے جاسکتے ہیں۔ ایک تو دُگنی رحمت کے۔ قرآن میں بھی ”کفلان“ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے:
”یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنوُا اتَّقُوْ الله وَ آمِنُوا بِرَسُولِہِ یُؤتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَحْمَتِہِ …“ (سورہ حدید، آیت ۲۸)
اے وہ لوگوں کہ جو ایمان لاچکے ہو الله سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ تاکہ خدا تمہیں دُگنی رحمت سے نوازے۔
اس بناء پر رسول خدا کے قول کے معنی یہ ہوجائیں گے کہ اگر میری نصیحت پر عمل کرو گے تو دُگنی نیکی پاؤ گے لیکن ”کفلان“ کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ کفلان سے مراد دنیا و آخرت ہو۔ اس بنا پر قول رسولخدا کے معنی کچھ اس طرح ہوجائیں گے کہ اگر جو کچھ میں نے کہا ہے اس پر عمل کیا تو تم نے اس طرح دنیا و آخرت کی سعادت کو اپنے لئے قرار دے دیا۔
| پچھلا درس | پچھلا عنوان | فہرست | اگلا عنوان | اگلا درس |