سوانح حیات
 |
حضرت آیت اللّٰہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی |
آیت اللہ حاج سید علی خامنہ ای سال ۱۳۱۸ ہجری شمسی میں شہر مشہد مقدس کے ایک مولوی خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت اللہ آقا حاج سید جواد مشہد کے مجتہدین اور قابل احترام علماء میں سے تھے۔ آپ کے دادا سید حسین خامنہ ای مقیم نجف آذربایجانی کے علماء میں سے تھے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بچپن کا دور بڑی سختیوں میں گزارا۔ آپ پانچ سال کے ہوئے تو اپنے بڑے بھائی آقا سید محمد کے ساتھ مکتب خانہ جانے لگے اور پھر کچھ عرصہ بعد ابتدائی تعلیم کیلئے ایک اسلامی اسکول بنام دار التعلیم دیانتی جانے لگے۔ آپ چھٹی جماعت کا گواہی نامہ حاصل کرنے کے بعد ہائی اسکول میں داخل ہوگئے اور دو سال کی مدت میں ہائی اسکول کی تعلیم کو سرٹیفکٹ حاصل کر کے تمام کیا۔ آپ نے حوزہ کی سطح کے تمام دروس اپنے والد صاحب کے محضر سے حاصل کیا اور اس کے بعد حضرت آیت اللہ العظمی سیلانی کے محضر میں ان دروس کو تمام کیا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای سال ۱۳۳۶ میں زیارت کے قصد سے نجف اشرف تشریف لے گئے اور تھوڑی سی مدت کیلئے وہاں قیام کیا۔ ایران پہنچ کر حوزہ علمیہ قم میں اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ اس کے بعد سال ۱۳۴۳ میں مشہد پلٹ آئے اور علم کے حصول کے ساتھ ساتھ تدریس میں بھی مشغول ہوگئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے اساتید یہ ہیں:
آپ کے سب سے پہلے استاد آپ کے والد ہیں۔ آپ نے کتاب لمعہ کا تین چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ اپنے والد کے محضر میں پڑھا اور بقیہ آقا مرزا احمد مدرس تبریزی کے پاس پڑھا۔ اس کے بعد مکاسب اور رسائل کیلئے حاج شیخ ہاشم قزوینی کے درس میں شرکت کرنے لگے۔ آپ نے دورہ سطح کو ساڑھے پانچ سال کی مدت میں تمام کیا۔ اور پھر درس خارج حضرت آیت اللہ العظمی میلانی کے پاس شروع کیا۔ آپ نے اپنے زیارتی سفر نجف اشرف میں آیات عظام حکیم، خوئی اور شاہرودی کے دروس میں شرکت کی۔ ایران واپس آنے کے بعد آیات عظام آقا مرتضی حاج شیخ اور آقا بروجردی کے محضر سے استفادہ کیا اور اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے امام خمینی کے درس فقہ و اصول میں شرکت کرنے لگے۔
آپ کے مبارزات اور ذمہ داریاں: حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تقریبا ۳۴، ۳۵ سال میں شاہ کی حکومت کے خلاف مبارزات شروع کردیئے۔ آپ کی اکثر سیاسی کاروائیاں شہر مقدس مشہد میں تھیں۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی تک آپ کئی مختلف عنوان سے گرفتار کیے گئے اور آپ کو قید کر کے تبعید کیا گیا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد حضرت آیت اللہ خامنہ ای اہم ذمہ داریوں کے عہدہ دار تھے۔ بعض کی طرف مختصرا ذیل میں ہم اشارہ کررہے ہیں:
۱۔ شوری انقلاب میں رکنیت
۲۔ وزارت دفاع اور معاونت وزیر دفاع میں آپ شوری انقلاب کے نمایندہ تھے۔
۳۔ تہران کے امام جمعہ
۴۔ تہران کے لوگوں کے نمایندے
۵۔ دو مرتبہ جمہوری اسلامی ایران کے صدر منتخب ہوئے۔
سال ۱۳۶۸ ہجری شمسی میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی رحلت کے بعد سپریم کونسل (خبرگان رہبری) کی ہوشیاری اور سمجھداری سے حضرت آیت اللہ خامنہ ای انقلاب اسلامی ایران کےلئے رہبر چن لئے گئے۔
تالیفات
| |
حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی تالیفات:
آپ کی بہت سی تالیفات ہیں۔ اب تک ان میں سے بعض چاپ ہوچکی ہیں:
۱۔ کتاب الجہاد (جو کہ آپ کا درس خارج ہے)۔
۲۔ قبسات النور
۳۔ آیندہ در قلمرو اسلام
۴۔ ادعا نامہ علیہ تمدن غرب
۵۔ از ژرفای نماز
۶۔ بازگشت بہ نہج البلاغہ
۷۔ بحثی در نبوت
۸۔ درست فہمیدن اسلام
۹۔ درسہایی از نہج البلاغہ
۱۰۔ در مکتب جمعہ
۱۱۔ راہ امام راہ ما
۱۲۔ رسالت حوزہ
۱۳۔ سخن آفتاب
۱۴۔ جلوہ آفتاب
۱۵۔ سیری در زندگی امام صادق
۱۶۔ شخصیت سیاسی حضرت امام رضا
۱۷۔ صلح امام حسن
۱۸۔ پرشکوہ ترین نومش
۱۹۔ قہرمانان تاریخ
۲۰۔ عطر شہادت
۲۱۔ عنصر مبارزہ در زندگی آئمہ
۲۲۔ پژوہشی در زندگی امام سجاد
۲۳۔ حکومت در اسلام
۲۴۔ حدیث وحدت
|