سوانح حیات
 |
حضرت آیت اللّٰہ العظمیٰ سید روح اللّٰہ الموسوی الخمینی رحمہ اللّٰہ |
حضرت آیت اللہ العظمی سید روح اللہ موسوی خمینی ۲۰ جمادی الثانی ۱۳۲۰ ہجری قمری میں خمین کے ایک مولوی خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت سید مصطفی خمینی ۱۳۲۰ ہجری قمری کے اواخر میں ۴۷ سال کی عمر میں فیوڈلز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ امام خمینی اپنی مہربان ماں اور پھوپھی کی تربیت میں آگئے اور بڑے بھائی آیت اللہ پسندیدہ کی نگرانی میں پرورش پائی۔ خمین میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سال ۱۳۳۹ ہجری قمری میں حوزہٴ علمیہ اراک کی جانب عازم سفر ہوئے۔
سال ۱۳۴۰ ہجری قمری میں آیت اللہ العظمی حاج شیخ عبدالکریم حائری کے محضر سے استفادہ کی غرض سے قم روانہ ہوگئے۔ امام خمینی نے ۱۳۴۵ ہجری قمری میں سطح عالی طے کیا اورحوزہ علمیہ قم کے بانی آیت اللہ العظمی حائری کے محضر درس میں جانے لگے۔ آیت اللہ العظمی حائری کی رحلت کے بعد سال ۱۳۵۵ ہجری قمری میں ایک گرانقدر استاد اور ایک بافضیلت مجتہد کے عنوان سے حوزہ علمیہ قم میں نمودار ہوئے۔
آپ نے فقہ اور اصول کے ساتھ ساتھ فلسفہ اور عرفان کے حصول پر بھی توجہ دی اس بابت میں حضرت آیت اللہ شیخ محمد علی شاہ آبادی جو کہ ایک مکمل عارف تھے کے محضر سے استفادہ کیا اور بڑے روحانی فوائد حاصل کئے۔ آپ کی شہرت طلاب کو آپ کے گرد جمع کردیا۔ آپ کا درس اخلاق اور تدریس و تعلیم کا طریقہ طالبعلموں میں فداکاری، شجاعت، عہدووفا اور تقوی کے ایجاد کا سبب ہوتا جو کہ حوزہ میں ایک عظیم تبدیلی کا سبب ہوا جس کے نتیجے میں اس زمانے کے ڈیکٹیٹر رضا خان نے آپ کے درس کو بند کروادیا۔ رضا خان کے سرنگوں ہونے کے بعد آپ کے درس کا سلسلہ دوبارہ فیضیہ میں شروع ہوگیا۔
سال ۴۱۳۶ ہجری قمری اسی سال آیت اللہ العظمی بروجردی قم تشریف لائے اور حوزہ علمیہ قم کی تدریس کا منصب آپ سے مختص ہوگیا۔ مسجد سلماسی اور مدرسہ فیضیہ مشتاقان معرفت کے مجمع سے بھرے ہوتے تھے، مجتہدین، ادیب اور مفسر آپ کے محضر درس شریک ہوگئے۔ آپ نے مسند اجتہاد و فتوی پر تکیہ دیا اور لاکھوں لوگوں نے مقلد کی حیثیت سے آپ کے فرمان پر سر رکھ دیئے۔
سال ۱۳۴۰ ہجری شمسی میں صوبائی اور مملکتی سطح پر انجمنوں کی تشکیل اور شاہ کی چھ رکنی لوایح (جو کہ ایران میں امریکہ کی حکومت کی برقراری کا خود ایک ذریعہ تھی) کو قبول نہ کرنا ایک سریح اور حتمی مخالفت تھی۔ ۱۵ خرداد سال ۱۳۴۱ کا سانحہ پیش آیا جس میں ہزاروں انقلابی مسلمان خونخوار پہلوی افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے اور آپ بھی فیضیہ میں اپنی منہ توڑ تقریر کے باعث فوجی چھاؤنی عشرت آباد میں قید کردیئے گئے۔
تالیفات
| |
آپ کی قابل ذکر کتابیں یہ ہیں:
۱۔ تحریر الوسیلہ
۲۔ کتاب الصلوة
۳۔ کتاب ا لبیع (پانچ جلدوں میں)
۴۔ کتاب المکاسب
۵۔ کتاب الطہارت
۶۔ کتاب الخلل
۷۔ مصباح الہدایة
۸۔ شرح دعای سحر
۹۔ چہل حدیث منتخب جو کہ اخلاق اور عرفان سے متعلق ہے وغیرہ وغیرہ
۱۴ خرداد سال ۱۳۶۸ ہجری شمسی میں رہبر بزرگ انقلاب اور جمہوری اسلامی ایران کے بانی کی روح پرفتوح ملکوت اعلی سے ملحق ہوگئی اور مسلمانوں اور آزادگان جہان کو سوگوار کرگئی۔
|