سوانح حیات
حضرت آیت اللّٰہ العظمیٰ سید ابوالقاسم علی اکبر الموسوی الخوئی رحمہ اللّٰہ
ابوالقاسم بن علی اکبر بن ہاشم موسوی خوئی ۱۵ رجب سن ۱۳۱۷ ہجری قمری میں خوئی میں پیدا ہوئے۔ قیام (نہضت) مشروطیت کے مسئلہ میں اختلاف کی وجہ سے آپ کے والد نجف اشرف کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں۔ آپ دو سال بعد یعنی سن ۱۳۲۰ ہجری قمری میں اپنے والد سے جاملتے ہیں۔ آپ مزید بارہ سال مندرجہ ذیل اساتذہ کے محضر (درس) سے فیضیاب ہوتے ہیں: ۱۔ شیخ فتح اللہ جو کہ شیخ الشریعہ اصفہانی کے نام سے مشہور تھے سن ۱۲۶۶ سے ۱۳۳۹ ہجری قمری میں گزرے ہیں۔ ۲۔ شیخ مہدی مازندرانی ۳۔ شیخ ضیاء الدین عراقی جو سال ۱۲۷۸ سے ۱۳۶۱ ہجری قمری میں گزرے ہیں۔ ۴۔ شیخ محمد حسین اصفہانی جو کہ کمپانی کے نام سے مشہور تھے سن ۱۲۹۶ سے ۱۳۶۱ ہجری قمری میں گزرے ہیں۔ ۵۔ شیخ محمد حسین نائینی ۶۔ شیخ محمد جواد بلاغی جو کہ صاحب تفسیر الآء الرحمن ہیں سن ۱۲۸۲ سے ۱۳۵۲ ہجری قمری میں گزرے ہیں۔ ۷۔ حکیم بزرگ سید حسین بادکوبی جو کہ سال ۱۲۹۳ سے ۱۳۵۸ ہجری قمری میں گزرے ہیں۔ آپ نے علم فقہ و اصول کا اکثر حصہ مرحوم کمپانی اور مرحوم نائینی سے حاصل کیا۔ آپ نے ان دو عالموں کے پاس فقہ کی چند کتابوں کے علاوہ اصول کے درس خارج کا ایک مکمل دورہ دیکھا۔ مرحوم نائینی آپ کے وہ آخری استاد ہیں جن کے محضر سے آپ فیضیاب ہوئے۔ پچیس سال یعنی ۱۳۴۲ ہجری میں آپ نے اپنی کتاب النضحات الاعجاز کے نام سے لکھی جو کہ حسن الاعجاز کے جواب میں تھی اور نجف اشرف میں منتشر ہوئی۔ یہ کتاب جواب اور تنقید ہے کتاب حسن الاعجاز فی ابطال الاعجاز پر جو کہ ایک امریکن النصیر الدین ظافر کی لکھی ہوئی ہے۔ آیت اللہ العظمی سیستانی نے اپنی کتاب النفحات الاعجاز میں قرآن کا معجزہ اور کرامت ہونے سے دفاع کیا ہے۔ چھ سال بعد آپ کی اجود التقریرات کی پہلی جلد (جس میں آپ نے مرحوم مرزا نائینی کو قلمبند کیا ہے) کے منتشر ہونے سے آپ نجف کے حوزہ میں ایک جوان مجتہد کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ تقریبا سال ۱۳۵۲ ہجری قمری نجف میں علم و اجتہاد کے عالی مقام پر فائز عظیم اور جید علماء کی بڑی تعداد میں شہادت کے بعد آپ نے نائینی، کمپانی، عراقی، بلاغی، مرزا آغا شیرازی اور ابوالحسن اصفہانی کی طرح فقہ و اصول کے خارج کے عالی مرحلہ کی تدریس کو نجف کی مسجد خضراء میں شروع کیا۔ آپ کی قریب ساٹھ سال مسلسل تدریس سے جہان اسلام کے فاضل علماء کی بڑی تعداد نے آپ کے محضر میں پرورش پائی۔ شیخ انصاری کی کتاب مکاسب کو بنیاد بناتے ہوئے مکاسب کے درس خارج کے دو مکمل دورہ تدریس فرمائے اور فقہ کی چند دیگر کتابیں بھی تدریس فرمائیں نیز کتاب صلوة کے دو مکمل دورہ تدریس فرمائے۔ تدریس کے ان سلسلوں کو ۲۵ سال کی مدت میں انجام دیتے ہیں اور قمری سال ۱۳۷۷ سے عروة الوثقی کے فقہی مسائل کی تدریس کا آغاز کرتے ہیں۔ اور تقریبا ۳۰ سال کی مدت میں اس بات میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ فقہ استدلالی کے ایک مکمل دورہ کو عروة الوثقی کی ترتیب کے مطابق اتمام تک پہنچائیں۔ آپ اپنی ثمربخش زندگی میں اس بات میں کامیاب ہوگئے کہ اصول کے درس خارج کے چھ مکمل دورہ تدریس کرسکے اور ساتویں دورہ کی تدریس مسئلہ ”ضد“ میں مرجعیت کی حیثیت سے مصروفیات کی بنا پر چھوڑنا پڑا۔ بظاہر ۱۴۰۰ پہلے منتشر ہونے والی کتاب ”البیان فی تفسیر القرآن“ کی پہلی جلد نے یہ دکھا دیا کہ آپ قرآنی علوم اور تفسیر میں بھی مبتکر اور صاحب نظر ہیں۔ آپ سے چار مضامین پر کتابیں یادگار کے طور پر رہ گئی ہیں اور وہ چار مضامین یہ ہیں فقہ، اصول، رجال اور تفسیر۔ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو آپ کے یہ آثار بڑے عظیم اور ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی خوئی کی عملی آراء حوزہٴ علمیہ کے دروسِ فقہ و اصول میں سب سے زیادہ مطرح ہونے والی آراء ہیں۔ کوئی بھی فقہ و اصول کا تدریس کرنے والاآپ کی آراء کی نسبت توجہ کیے بغیر نہیں گزر سکتا خواہ حمایتی انداز میں ہو یا تنقیدی انداز ۔
تالیفات
                  آخری تیس سالوں میں منتشر ہونے والی اکثر فقہی یا اصولی کتب میں آپ کے علمی آثار واضح نظر آتے ہیں۔ آپ کی نامور کتاب کبیر رجالی شیعہ شخصیات کی مضبوط ترین اور مفصل ترین مجموعہ ہے وہ بھی ایسی کہ ہر عالم علم رجال پر اپنی تحقیقات میں اس کا محتاج ہے۔
آپ کی تفسیر ”البیان“ اگرچہ صرف ایک جلد ہے اور وہ بھی مختصر لیکن اس میں بھی علوم قرآنی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ جہان اسلام بالخصوص شیعوں میں علوم قرآنی کی تالیفات کی تاریخ میں آپ کی یہ تالیف اہمیت کی حامل ہے۔
مرحوم آیت اللہ العظمی خوئی کی فقہ و اصول میں دستی تالیفات زیادہ نہیں پائی جاتیں مگر اکثر فقہی اور اصولی تالیفات آپ کے فقہ و اصول کے دروس کی تقریر ہیں۔ آپ کے طبع شدہ آثار کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
   (الف): وہ فقہی، اصولی، رجالی اور تفسیری آثار جنہیں آپ نے خود تحریر فرمایا۔
   (ب): وہ تقریرات جو آپ کے شاگردوں نے آپ کے فقہ و اصول کے دروس سے تشکیل دیں۔
(الف): آپ کی اپنی تحریر کے شایع شدہ آثار درج ذیل ہیں:
۱۔ تفسیر اور علوم قرآنی میں:
    (۱) نفحات الاعجاز فی رد حسن الاعجاز (نجف سال ۱۳۴۲)
   (۲) البیان فی تفسیر القرآن (نجف سال ۱۳۷۵)
۲۔ رجال میں:
    معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواة، ۳۳ جلد میں (طبع اول نجف سال ۱۳۹۸ ہجری قمری)
۳۔ اصول فقہ میں:
    اجود التقریرات، یہ کتاب مرحوم نائینی کے مباحث اصول کے دوسرے دورہ کی تقریر ہیں۔
۴۔ فقہ میں:
    (۱) تعلیقہ علی عروة الوثقی۔ یہ تعلیقات جداگانہ اورحاشیہ کی صورت میں آج کل رائج عروة الوثقی میں شایع ہوئے ہیں۔
    (۲) آیت اللہ العظمی بروجردی کی توضیح المسائل پر تعلیقات۔ توضیح المسائل کے متن پر تعلیقات لگانے کے بعد آپ کے رسالہٴ عملیہ کے عنوان سے کئی بار چاپ ہوا ہے۔ منتخبِ توضیح المسائل بھی شایع ہوچکی ہے۔
    (۳) تہذیب و تتمیمِ منہاج الصالحین، مرحوم آیت اللہ العظمی حکیم کی توضیح المسائل کے متن میں حواشی کے اندراج اور خاص کر معاملات میں کچھ اضافہ کے بعد منہاج الصالحین فی العبادات و المعاملات کے نام سے دو جلدیں میں شایع ہوچکی ہے۔ اس کتاب کے منتخب مسائل بنام المسائل المنتخبہ اور اس منتخب کا خلاصہ بنام تلخیص المنتخب شایع ہوچکی ہے۔
   (۴) تکملة منہاج الصالحین، جیساکہ کتب قضا، شہادات، حدود، قصاص و دیات منہاج الصالحین میں اور تین آخری کی کتابیں عروة الوثقی میں بھی ذکر نہیں ہوئی ہیں۔ آپ نے عروة الوثقی کے طرز پر اور نہایت اختصار کے ساتھ (یعنی مختصر طور پر) ان پانچ کتابوں میں تحریر فرمایا ہے جو کہ نیچے دی ہوئی کتاب کے متن کے عنوان سے اس کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔
   (۵) مبانی تکملة المنہاج، پہلی والی کتاب کی شرح کی دوجلد سال ۱۳۹۵ ہجری قمری میں ان کی لکھائی مکمل ہوچکی ہے۔ یہ کتاب حقوق جزای اسلامی کے مباحث میں مضبوط ترین اسناد فقہی میں شمار ہوتی ہے۔
   (۶) مسائل مستحدثہ (یعنی جدید مسائل) جو کہ مختلف مناسبتوں سے آپ سے استفتاء کئے گئے تین مجموعہ (جز) کی صورت میں شایع ہوئے ہیں۔ ایک تو مستحدثات المسائل کے نام سے دوسرا منیة المسائل کے نام سے اور تیسرا مسائل وردود کے نام سے۔
   (۷) التنبیہ علی حکم اللباس المشکوک فیہ۔ (طبع نجف سال ۱۳۶۱ ہجری قمری)
   (۸) منتخب الرسائل۔
   (۹) تعلیقة علی مسائل الفقہیة۔
   (۱۰) مناسک الحج۔
   (۱۱) تعلیقة المنہج لاحکام الحج حصہ دوم۔
(ب): آپ کے دروس کی تقریرات جنہیں شاگردوں نے تشکیل دیا:
۱۔ فقہ میں:
   (۱) التنقیح فی شرح العروة الوثقی، تالیف کردہ مرزا علی غروی تبریزی جو کہ اجتہاد، تقلید، طہارت اور صلوة پر مشتمل ہے۔ اب تک ۹ جلدیں ہیں۔
   (۲) مستند العروة الوثقی، تالیف کردہ شیخ انصاری بروجردی جو کہ صلوة، صوم، خمس اور اجارہ پر مشتمل ہے۔ اب تک ۱۰ جلدیں ہیں۔
   (۳) معتقد العروة الوثقی، تالیف کردہ سید رضا موسوی خلخالی جو کہ حج سے متعلق ہے اس کی دوجلدیں ہیں۔
   (۴) مبانی العروة الوثقی، تالیف کردہ محمد تقی خوئی (آقا خوئی کے فرزند) جو کہ مضاربہ، شرکت، مضارعہ، ضمان، حوالہ، نکاح اور وصیت کے عناوین پر مشتمل ہے اس کی ۴ جلدیں ہیں۔
   (۵) مدارک العروة الوثقی، جو کہ دروس فی فقہ شیعہ کے عنوان سے ہے، تالیف کردہ سید مہدی موسوی خلخالی کی ہے۔ اب تک پانچ جلدیں آئی ہیں۔
   (۶) تحریر العروة اس کی ایک جلد ہے۔
   (۷) فقہ العترة، ۲ جلد
   (۸) مصباح الفقاھة فی المعاملات، تالیف کردہ محمد علی توحیدی، سات جلدوں پر مشتمل ہے۔ (شیخ انصاری کی مکاسب کا ایک دورہ ہے)۔
   (۹) محاضرات فی الفقہ الجعفری المکاسب المحرمہ، تالیف کردہ سید علی حسینی شاہرودی۔ ۲ جلدوں پر مشتمل ہے۔
   (۱۰) المعتمد فی شرح المناسک، تالیف کردہ سید رضا موسوی خلخالی۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔
   (۱۱) الدرر العوالی فی فروع العلم الاجمالی۔ تالیف کردہ رضا لطفی کی ہے۔ نجف سال ۱۳۶۷ میں۔
   (۱۲) رسالة فی تحقیق کُرّ۔
   (۱۳) رسالة فی حکم اوافی المذھب۔
۲۔ اصول میں:
   (۱) محاضرات فی اصول الفقہ۔ تالیف کردہ محمد اسحاق فیاض، پانچ جلدوں میں ہے مباحث الفاظ پر مشتمل ہے۔
   (۲) مصباح الاصول، تالیف کردہ سید محمد سرور واعظ بہسوری یہ دو جلدوں پر ہے۔ یہ قطع، ظن، شک، تعادل و تراجیح کے عناوین پر مشتمل ہے۔
   (۳) دراسات فی الاصول العملیة، تالیف کردہ مرحوم سید علی حسینی شاہرودی۔ ایک جلد پر مشتمل ہے۔
   (۴) الرای السدید فی الاجتہاد و التقلید، تالیف کردہ مرزا غلام رضا عرفانیان یزدی خراسانی۔
   (۵) مبانی الاستنباط، دو جلدوں میں ہے۔
   (۶) مصابیح الاصول
   (۷) جواہر الاصول
   (۸) الامر بین الامرین۔ مرحوم شیخ آغا بزرگ تہرانی کتاب النقباء البشر فی القرن الرابع عشر میں درج ذیل تین رسالوں کو آپ کی تالیفات میں ذکر کرتے ہیں: (a) رسالة فی الغروب (b) رسالة فی التجاوز (c) رسالة فی ارث الزوج و الزوجہ قبل الدخول۔
صاحب کتاب النقباء البشر مرحوم خوئی کے آثار میں ”التقریرات الفقہ“ اور ”الفقہ الاستدلالی“ کو بھی ذکر کیا ہے۔ شاید یہ انہی کتابوں کی طرف اشارہ ہے جن کا تفصمرحوم آیت اللہ العظمی خوئی کے مشہور ترین شاگردوں میں ان علماء کا ذکر کیا جاسکتا ہے:
۱۔ شہید سید باقر الصدر
۲۔ سید علی سیستانی
۳۔ سید محمد روحانی
۴۔ شیخ حسین وحید خراسانی
۵۔ شیخ جواد تبریزی
مرحوم آقا خوئی ساری عمر فقہ و اصول اور تدریس و تالیف میں مشغول رہے۔ نجف اشرف کے ہزار سالہ حوزہٴ علمیہ کی حفاظت کو اپنی اصلی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ جس زمانے میں حوزہٴ علمیہ نجف کی رسالت و قیادت آپ کے ہاتھ میں تھی، عراق، ایران اورجہان میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے۔ بعض اہم واقعات جیسے سال ۱۳۴۲ میں مدرسہ فیضہ میں قتل عام، حضرت امام خمینی کا پہلے ترکی پھر عراق کی جانب ملک بدر کیے جانے پر نہضت اسلامی کے حق میں حمایت کی۔ عربوں اور اسرائیلوں کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیلی حکومت سے قطع روابط اور تیل بند کرنے کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کی حمایت کی۔ عراق میں پیش آنے والے واقعات میں آپ کو عراق کی بعثی حکومت کی طرف سے بہت سی مصیبتوں اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بالآخر سالوں تحقیق، تالیف، تدریس اور کئی عظیم مجتہدوں کی تعلیم و تربیت کے بعد بتاریخ ۷/۵/۱۳۷۱ ہجری شمسی کو خیرباد کہا۔