سوانح حیات
 |
حضرت آیت اللّٰہ العظمیٰ سید علی الحسینی السیستانی دام ظلہ العالی |
آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی ربیع الاول کے مہینہ سال ۱۳۴۹ ہجری قمری میں صوبہٴ خراسان کے شہر مشہد مقدس میں امام رضا علیہ السلام کے جوار میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق خاندان عصمت و طہارت کے ایک دیندار خاندان سے ہے۔ آپ کے والد محترم اس علاقے کے پارسا اور متدین عالموں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان علم و فقاہت کے سلسلے کو جاری رکھنےکیلئے اپنے بیٹے کو حوزہٴ علمیہ کے علماء اور دانشوروں کے سپرد کیا۔آیت اللہ العظمی سیستانی نے عربی زبان کی ادبیات (گرامر) اور علم بلاغت کو اس زمانے کے استاد محمد تقی ادیب نیشاپوری جن کے دروس اس زمانے میں ایک خاص شہرت (رونق) رکھتے تھے وہاں سیکھے۔ فقہ و اصول، علم عقلی اور معارف الہی کو بھی خراسان کے علماء اور اساتذہ کے محضر سے حاصل کیا۔اسکے بعد وہیں کے دروس خارج میں شرکت کی اور علامہ مرزامہدی اصفہانی کے محضر سے استفادہ کیا۔آپ نے اپنی تعلیم کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کیلئے سن ۱۳۶۸ ہجری قمری میں حوزہٴ علمیہ قم کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس زمانے میں حوزہٴ علمیہ قم اور اس میں ہونے والے دروس خارج پر آیت اللہ العظمی جناب سید حسین بروجردی کی مرجعیت اور زعامت سایہ فگن تھی بڑی عظمت رکھتے تھے۔ آپ آیت اللہ العظمی جناب سید حسین بروجردی کے صف اول کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے آیت اللہ العظمی حجت کوہ کمرای اور اس شہر کے دوسرے اساتذہ کے دروس میں بھی شرکت کی۔ آپ نے سن ۱۳۷۱ ہجری قمری میں حوزہٴ علمیہ قم کو خیرباد کہا اور نجف اشرف میں موجود حوزہٴ علمیہ کے اساتذہ کے محضر سے فیضیاب ہونے کیلئے نجف روانہ ہوئے۔آپ اس زمانے میں نجف اشرف پہنچے جس وقت وہاں کے حوزوں کے دروس اپنی اوج پر تھے۔ آپ نے اپنی تمام قوت کے ساتھ وہاں کے نامور استادوں کے درس میں شرکت کی اور بے انتہا فیضیاب ہوئے۔ دس سال سے زیادہ آیت اللہ العظمی خوئی کے درس خارج میں شرکت کی اور آیت اللہ العظمی حکیم کے محضر سےبھی فیضیاب ہوئے۔ آیت اللہ العظمی شیخ حسین حلی بھی ان استادوں میں سے ہیں کہ جن کے محضر میں آپ نے اصول کا ایک کامل دورہ دیکھا۔آیت اللہ العظمی سیستانی اصول و فقہ میں کئی سال درس و مباحثہ، تدریس اور حوزے کی کتابوں میں تدبر و تفکر کے ساتھ ساتھ مختلف فکری اور فقہی جریانات (پیش آنے والے مسائل) میں شریک رہے۔ مشہد، قم اور نجف کے اہم مدارس سے استفادہ (فیض اٹھایا) کیا اور سن ۱۳۶۸ ہجری قمری میں شیخ انصاری کی کتاب المکاسب کو محور بناتے ہوئے اپنا درس خارج شروع کیا۔ کئی سال تک مکاسب کو محور بنا کر درس خارج دینے کے بعد اجتہاد کے بلند مباحث کو عروة الوثقی (جو کہ مرحوم سید محمد کاظم طباطبائی یزدی کی تالیف کردہ ہے) پر شرح کے عنوان جاری رکھا۔ آپ اب تک کتاب طہارت، کتاب صلوة کے بہت سے فروعات (یا احکام) اور کچھ حصہ کتاب خمس کا تدریس فرمایا ہے۔ آپ نے شعبان کے مہینہ سال ۱۳۸۴ ہجری قمری سے اصول پر بلند اجتہادانہ مباحث کو نیز شروع کیا اور شعبان سال ۱۴۱۱ ہجری قمری میں اصول پر مباحث کے تیسرے دورہ کو پایہٴ تکمیل تک پہنچایا۔آیت اللہ العظمی سیستانی ان چند افراد میں سے ہیں کہ جو جوانی میں ہی اپنے استاد آیت اللہ العظمی خوئی کی جانب سے اجتہاد کی کتبی اجازہ پر فائز ہوگئے تھے۔ آپ کے ایک اور استاد آیت اللہ العظمی شیخ حسین حلی نے بھی ۱۳۸۰ ہجری قمری میں آپ کے اجتہاد کا شہادتنامہ (گواہی نامہ) تحریر فرمایا تھا اور آپ کے فضل و علم اور گہری نظر کی تعریف فرمائی ہے۔
تالیفات
| |
آیت اللہ العظمی سیستانی کی بعض تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ شرح عروة الوثقی
۲۔ البحوث الاصولیہ
۳۔ کتاب القضاء
۴۔ کتاب البیع و الخیارات
۵۔ رسالة فی اللباس المشکوک فیہ
۶۔ رسالة فی قاعدة الید
۷۔ رسالة فی صلاة المسافر
۸۔ رسالة فی قاعدة التجاوز و الفراغ
۹۔ رسالة فی القبلة
۱۰۔ رسالة فی التقیة
۱۱۔ رسالة فی قاعدة الالزام
۱۲۔ رسالة فی الاجتہاد و التقلید
۱۳۔ رسالة فی قاعدة لاضرر و لاضرار
۱۴۔ رسالة فی الربا
۱۵۔ رسالة فی حجیة مراسیل ابن ابی عمیر
۱۶۔ نقد رسالة تصحیح الاساتید للاردبیلی
۱۷۔ شرح مشیخة التہذیبین
۱۸۔ رسالة فی مسالک القدماء فی حجیة الاخبار
۱۹۔ رسالة فی قاعدة القرعة
۲۰۔ رسالة فی صیانة الکتاب العزیز عن التحریف
۲۱۔ رسالة فی تاریخ تدوین الحدیث فی الاسلام
۲۲۔ رسالة فی تحقیق نسبة کتاب العلل الی الفضل ابن شاذان
۲۳۔ القواعد الغروبة
۲۴۔ القواعد الفقہیة
۲۵۔ شرح مشیخة الفقہیة
۲۶۔ رسالة فی حکم ما اذا اختلف المجتہدان المتساویان فی الفتوی
۲۷۔ تعلیقة علی العروة الوثقی
۲۸۔ رسالة فی اختلاف الافاق فی رؤیة الہلال
|